نہال ہاشمی! خبر لیجے دہن بگڑا - آصف محمود

قانون نے بارگاہِ عالیہ پر ہلکی سی دستک دی اور لہجے آگ اگلنے لگ گئے۔ حیرت سے آدمی سوچتا ہے اہلِ دربار کو کیا ہوگیا؟ نہال ہاشمی کی شعلہ بیانی سنی تو اول میں ششدر رہ گیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ، کہ باب العلم تھے، یاد آ گئے۔ فرمایا: اقتدار لوگوں کو بدلتا نہیں، بےنقاب کر دیتا ہے۔ حکمران بدلے نہیں، لمحہ لمحہ بے نقاب ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ ملک کی اعلی ترین عدالت ہے۔ ایک سینیٹر جو اتفاق سے قانون دان بھی ہو، اس محترم ادارے میں بارے ایسی زبان استعمال کرے جو بازاروں میں بھی متروک ہو چکی ہو تو آدمی کس دیوار گریہ پر جا کر سر رکھے؟ گلی کے لونڈوں نے بھی اعلی عدلیہ کو یوں کب للکارا ہوگا جیسے اس شخص نے چناؤتی دی ہے۔ یہ عدلیہ ہی کی نہیں اس سماج کی بھی توہین ہے۔ یہ سماج ہی کی نہیں، انسانیت اور شعور اجتماعی کی بھی توہین ہے۔

جلاوطنی کے ماہ و سال بھی انہیں یہ بات نہ سمجھا سکے کہ یہ صرف خالق کائنات کی ذات ہے جو کسی پر زمین تنگ کرتی ہے، یہ صرف اللہ رب العزت کا مقام ہے کہ کسی کو یوں رسوا کر دے، اس کے اپنے ہی ملک کی زمین اس پر تنگ ہو جائے۔ اقتدار کا خمار اور لہجے کی رعونت اپنی جگہ، لیکن یہ فیصلہ عالی جاہ نواز شریف کے دربار میں نہیں صرف اللہ کے دربار میں ہوتا ہے کہ کس پر کتنی زمین تنگ کرنی ہے۔ یہ آج کی بات نہیں صدیوں سے ایسے ہوتا آیا ہے۔ خمارِ اقتدار میں لوگ خدا کے لہجے میں بات کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی ناک خاک آلود ہو جاتی ہے، وقت کروٹ بدلتا ہے اور اقتدار کی رعونت پر مٹھی بھر خاک ڈال جاتا ہے۔ باقی صرف ناتمام حسرتیں بچتی ہیں جو پکار پکار کر کہتی ہیں: دیکھو مجھے جو دیدہِ عبرت نگاہ ہو۔ جناب نہال ہاشمی بھی اصل میں یہی آواز لگا رہے ہیں، دیکھو ہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔

ہمیں بتایا گیا تھا، جلاوطنی نے نوازشریف صاحب کے مزاج کی تہذیب کر دی ہے اور اب وہ ایک سیاست دان ہی نہیں ایک مدبر کی صورت وطن لوٹ رہے ہیں۔ آمر وقت کے صحراؤں میں جھلسے ہم لوگ اس نخلستان کی نوید کا یقین کر بیٹھے۔ برس بیت گئے، پھٹی آنکھوں میں دبی حسرت سوال کرتی ہے: وہ تدبر کہاں گیا؟ وہ مدبر کیا ہوا؟ تھوڑا وقت گزرتا ہے، اہل دربار میں سے ایک اٹھتا ہے اور کسی ایک ادارے کو سینگوں پر لے لیتا ہے۔ کیسے مان لیا جائے کہ یہ محض اتفاق ہے؟ کیسے یقین کر لیں کہ نون لیگ کے ملک الشعرا اور ہم نو ا بار بار جو تان اٹھا رہے ہیں، اس میں کسی کی تھپکی شامل نہیں؟ کیا یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ نواز شریف صاحب کے حکم یا تائید کے بغیر کوئی اہل دربار پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے محترم جج صاحبان کو یہ دھمکی دے کہ جسے تم بلا رہے ہو، وہ نواز شریف کا بیٹا ہے اور ہم ریٹائرمنٹ کے بعد تمہارے اور تمہارے بچوں پر زمین تنگ کر دیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   مائنس نواز فارمولا وقت کی ضرورت - یاسر محمود آرائیں

مزاج شاہاں کب سمجھے گا کہ کار ریاست میں ریاستی اداروں کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ ماضی میں جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں نوازشریف صاحب کو طلب کیا گیا تو سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا گیا۔ آج عدالت نے جے آئی ٹی بنائی اور نامہ اعمال زیر بحث آیا تو سپریم کورٹ کے ججز سے کہا جا رہا ہے تمہارے اور تمہارے بچوں پر زمین تنگ کر دیں گے۔ کیا ایک جمہوری ریاست میں اب معاملات اس طرح چلیں گے؟ آپ پر ایک الزام ہے اور اس کی نوعیت معمولی نہیں۔ معاملہ عدالت میں ہے۔ عدالت کے حکم پر جے آئی ٹی بنی ہے۔ اب اگر حکمران جماعت یہ سمجھتی ہے کہ اس طریقے سے اس کا احتساب نہیں ہو سکتا تو پھر وہ وضاحت کرے کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ کیا وہ یہ چاہتی ہے کہ معاملات عدالتوں کے بجائے سڑکوں پر حل ہوں۔ یاد رکھیے جب معاملات غیر آئینی اور غیر قانونی طریقوں سے حل ہونے لگیں تو ان راستوں میں اٹک کا قلعہ بھی آ جایا کرتا تھا۔ تب تو صرف مچھر تھے جو بہت تنگ کرتے تھے، اب تو ڈینگی ہے صاحب، کم بخت بہت ظالم کاٹتا ہے۔

فریقین عدالت کے پاس گئے، کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا قبول کریں گے۔ عدالت نے احتساب کا ایک طریقہ وضع کر دیا۔ جے آ ئی ٹی بنا دی۔ جب یہ جے آئی ٹی بنی تو اس وقت مسلم لیگ ن نے اسے اپنی فتح کا اعلان عام سمجھا اور اس پر مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اب کیا ہوا کہ دوسری ہی پیشی پر مزاج شاہاں برہم ہوگیا؟ اب صفوں میں یہ سراسیمگی کیسی؟ آپ کا دامن صاٖف ہے تو لہجے آتش فشاں کیوں بنتے جا رہے ہیں؟ کس بات کا خوف ہے۔ یوم حساب کا؟ وہ تو ایک روز ہونا ہی تھا۔ کہا کوہان کا ڈر ہے، کہا کوہان تو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا میاں نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ عبیداللہ عابد

عدالت اور اس کے طریق کار پر کسی کے تحفظات ہیں تو اسے چاہیے جا کر عدالت سے درخواست کرے۔ سامنے کی بات مگر یہ ہے کہ عدالت کا رویہ منصفانہ ہے۔ جس عمران خان کی درخواست پر نواز شریف کی تلاشی لی جا رہی ہے، حنیف عباسی کی درخواست پر اس عمران کی تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ جس عدالت نے جے آئی ٹی بنائی ہے اسی عدالت نے عمران خان سے بھی سوال کیا ہے کہ بنی گالہ کے گھر کی تفصیلات بتاؤ۔ عمران خان نے تو نہیں کہا کہ میری تلاشی لیتے ہو میں، میں تمہاری نسلوں پر زمین تنگ کر دوں گا۔ صرف نون لیگ کے لہجوں میں الاؤ کیوں ہے؟ اور یہ سب سے اہم سوال ہے۔

میرے خیال میں یہ رد عمل، یا وقتی اشتعال نہیں بلکہ ایک پالیسی کے تحت سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ غالبا منصوبہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے بارے میں اتنی گرد اڑا دو، اس کی اتنی توہین کر دو، اتنا کچھ کہہ دو کہ جب نواز شریف وغیرہ کے خلاف فیصلہ آئے تو تمام قوال مل کر قوالی پڑھیں کہ ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہی حرکت پہلے فوج کے ساتھ کی گئی جو جزوی طور پر کامیاب ہو گئی۔ ٹویٹ واپس لے کر فوج نے البتہ اس کا بڑی حد تک ازالہ کر دیا۔ اب یہی کھیل سپریم کورٹ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ کھلاڑی بہت تجربہ کار ہیں تاہم کھیل بھی کم خطرناک نہیں۔ کل کو کھلاڑیوں پر زمین تنگ ہو گئی تو یہ ان کا اپنا نامہ اعمال ہوگا۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

نہال ہاشمی نے ریاست اور عوام کو دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ریاست ان پر قانون کا اطلاق کرتی ہے تو ہم ایک جمہوری ریاست کے شہری ہیں۔ نہیں کرتی تو ہم خاندان شریفاں کی رعایا ہیں۔ اب یا قانون نافذ ہوگا یا شہنشاہ معظم کا اقبال بلند ہوگا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں