پھل فروشوں کا بائیکاٹ - شمس الدین امجد

اللہ غریق رحمت کرے مسلم سجاد صاحب علیہ الرحمہ کو، ترجمان القرآن کے نائب مدیر تھے، کم گو تھے مگر جب بھی بات کرتے، سیدھی دل میں اتر جاتی۔

ایک دفعہ کہنے لگے کہ بیکری، یوٹیلیٹی اسٹور سے کسی برانڈ والی شاپ میں چلے جائیں، 1 ہزار کی چیز 5 ہزار میں ملے گی مگر خوشی خوشی ادائیگی کر کے باہر آئیں گے، اور اسے ایک اسٹیٹس سمبل کے طور پر حلقہ احباب میں پیش کریں گے۔

مگر بالکل وہی انسان ایک ریڑھی والے غریب سے 5 روپے اور 10 روپے کے لیے نہ صرف بحث کرتا دکھائی دے گا بلکہ اسے مہنگائی سمیت باقی خرابیوں کا ذمہ دار بھی قرار دے گا۔ اور وہ بےچارہ ہکا بکا منہ دیکھتا رہ جائے گا۔ کہنے لگے بھائی ایک ریڑھی والا دن بھر محنت مشقت کرتا ہے، اور ہم اسے اس کے خون پسینے کی کمائی دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ بالفرض وہ کچھ زیادہ دام بھی لے رہا ہے، تو بمشکل ہی گزارہ کر پاتا ہوگا۔ اس سے تو خوشی خوشی اس کے دام پر لینا چاہیے بلکہ کچھ زیادہ دینے چاہییں تاکہ اس کی اچھی گزر بسر ہو سکے۔ بےچارہ لوٹ مار کرے گا بھی تو آخر کتنی؟

پھر نصیحت کی کہ جہاں ریڑھی والے کھڑے ہوں، وہاں دیکھیے کہ کون بڑی عمر والا ہے۔ اس سے پھل لیجیے، کیا معلوم کس مجبوری میں وہ مشقت ہر مجبور ہے، اور پیچھے اس کے گھرانے کی کیا کیفیت ہے۔ ان کی یہ نصیحت پلے باندھ لی اور الحمدللہ اس پر عمل جاری ہے۔

مسلم سجاد صاحب اور ان کی نصیحت اس مہم کے تناظر میں یاد آئی کہ کچھ مخصوص دنوں کے لیے پھل فروش، ریڑھی والے کا بائیکاٹ کیا جائے۔ جو احباب مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، وہ ان شاء اللہ عیدالفطر کی شاپنگ شروع کر چکے ہوں گے، ہر گزرتے دن کے ساتھ اہل خانہ کی شاپنگ لسٹ بڑھتی جائے گی۔ اس میں سے کچھ کمی نہ ہوگی بلکہ خوشی خوشی ہر خریداری کر لی جائے گی، البتہ ریڑھی والے کو سبق سکھانا ہے تاکہ تین دن اس کے گھر میں چولہا نہ جل سکے، وہ بھی رمضان المبارک میں۔ مولانا طارق جمیل ایک واقعہ بیان کرتے ہیں، ایک ریڑھی والے بزرگ کو روتے دیکھا تو وجہ معلوم کی، بزرگ نے بتایا کہ آج آڑھتی نے میرے بچوں کا رزق چھین لیا، اوپر ایک لیر میں اچھے سیب ہیں، نیچے سب خراب۔

تو میرے بھائی! اس دیہاڑی دار غریب کی روزی مت چھینیے۔ اگرچہ روزی دینے والا اللہ ہے، اور وہ اس کے رزق میں کوئی کمی نہ کرے گا، مگر آپ نیکیاں کمانے کے مہینے میں بد دعائیں لینے کیوں نکل رہے ہیں، وہ بھی خم ٹھونک کر۔ یہ تو مواسات اور غم خواری کا مہینہ ہے، ایک دیں گے، 700 گنا ملے گا۔ اس نیت سے ہی خرچ کیجیے کہ میری طرف سے تعاون ہے، اللہ نیتوں کا حال جانتا ہے، آپ کی خریداری کئی گنا اجر و ثواب میں بدل جائے گی، اور یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا ان شاء اللہ۔

اور ہاں!
مہنگی تو ہر چیز ہے، دودھ دہی، آٹے گھی، چائے چینی سے انڈے اور مرغی گوشت، یہاں تک کہ جان بچانے والی ادویات تک، ایسے ہی سلسلہ اور دائرہ بڑھاتے جائیے، بازار میں کیا چیز سستی مل رہی ہے. تو کیا سب کا بائیکاٹ کیجیے گا؟

اور ہاں!
احتجاج کرنا ہے تو آڑھتیوں کے خلاف کیجیے جو مہنگے داموں بیچتے ہیں، اس نظام ظلم کے خلاف کیجیے جس نے کسان کے لیے کھاد پانی سے منڈی تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے، اور احتجاج کرنا ہے تو اس نظام زر کے خلاف کیجیے جو غریب کی بقیہ سانسیں بھی خریدنا یا فروخت کرنا چاہتا ہے۔ اور احتجاج کرنا ہے تو حکمرانوں کے خلاف کیجیے جن کے بچے لندن میں جائیدادیں بنا رہے ہیں اور نظام ایسا بنا دیا ہے کہ یہاں کا غریب ظالم کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے بجائے دوسرے غریب کا گلا دبانا چاہتا ہے۔ اپنے علاقے کے ایم این اے ایم پی اے اور وڈیرے جاگیردار کے خلاف کیجیے جو اس نظام ظلم کا حصہ ہے.

اور ہاں!
بائیکاٹ کرنا ہے تو اس عید پر برانڈز کا کیجیے، ان کے دام ایسے بڑھتے ہیں کہ سفید پوش طبقہ دور سے دیکھتا ہے تو دل میں آہیں بھر کر رہ جاتا ہے، احساس محرومی سے اس کے قدم بھاری ہو جاتے ہیں۔ آگے بڑھیے، اصل سفید پوشی کا بھرم اسی میں ہے۔ اور ان برانڈز پر نہ جا کر جو رقم بچے، اسے اپنے خاندان میں اپنے علاقے میں بیواؤں، یتیم بچوں اور غربا و مساکین پر خرچ کیجیے.

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سیاسی جماعتیں یا سیاسی کارکن کبھی کسی غریب طبقے کے بائیکاٹ کی مہم نہیں چلا سکتے. ان کی جدوجہد ہمیشہ نظام، بالادست طبقات اور استحصالی عناصر کے خلاف ہوتی ہے