سعودی مخالف پروپیگنڈا، سازش یا کوتاہی - محمد عاصم حفیظ

امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب کے بعد سوشل میڈیا پر گرماگرم بحثیں جاری ہیں۔ ہر کوئی رائے دینے کا اپنا حق خوب خوب استعمال کر رہا ہے۔ ایک طرف جہاں سعودی عرب سخت تنقید کی زد میں ہے تو دوسری جانب بہت سے حلقے ایسے ہیں جو اس کے دفاع میں اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے اچھا کیا یا برا؟ یہ ہمارا موضوع نہیں، اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور جا ر ہا ہے۔ ہمارا مقصد سعودی عرب کی حمایت میں لکھنے والوں سے چند گزارشات ہیں۔

صحافت کے ایک ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے سوشل میڈیا پر امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب کے بعد تنقید کے جواب میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس پڑھ کر یقین ہو چلا ہے کہ ہم سب ایرانی ایجنٹ ہیں اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ "رافضی میڈیا" ہیں۔سعودی عرب کے حق میں لکھنے والوں نے بے دھڑک تمام مخالفین کو ہی "رافضی میڈیا" کے آلہ کار اور "ایرانی ایجنٹ" قرار دیا ہے۔

دینی جماعتوں کے کارکنان اور سعودی عرب سے محبت رکھنے والے تمام محترم احباب سے گزارش ہے کہ اگر صحافیوں، میڈیا کے اداروں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد پر ایجنٹ اور آلہ کار ہونے کے الزامات لگانے سے کچھ فرصت ملے تو کوشش کریں کہ ان وجوہات پر ذرا غور کر لیں کہ جن کے باعث سعودی عرب کو اس قدر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں کسی بھی چھوٹے موٹے واقعے کے بعد سعودی عرب کے خلاف مہم شروع ہو جاتی ہے، جس کے جواب میں ان لکھاریوں کو "ایجنٹ" اور "آلہ کار" کے الزامات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

مودبانہ گزارش ہے کہ کچھ ہمیں ذرا سعودی سفارت کاری کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ صحافی بیچارے کیاکریں؟ انہیں اگر سعودی عرب کی حمایت میں کچھ لکھنا ہوتو کہیں سے مواد ہی دستیاب نہیں ہوتا۔ آپ ہر مضمون میں پڑھیں گے سعودی عرب پاکستان کو بھاری امداد فراہم کرتا ہے لیکن میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا سعودی عرب کا حمایتی لکھاری اس کے مستند اعدادوشمار فراہم نہیں کر سکتا کہ اس سال یا گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کو کیا دیا؟ دراصل سعودی سفارتی اہلکاروں نے پاکستانی میڈیا سے تعلقات استوار کرنے کے لئے کبھی ذرا سی کوشش بھی نہیں کی۔

امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے سفارت خانوں کے آفیشل فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس اور پیجز ہیں جو کہ اپنی سرگرمیاں عوام تک پہنچاتے ہیں۔ ہر ایسے واقعے، تقریب کے متعلق تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جن سے ان ممالک کے بارے اچھا تاثر قائم ہو۔ کیا سعودی عرب کے سفارت خانے کو فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے سے بھی تہران نے روک رکھا ہے ؟ امریکی سفارت خانہ مہینے میں دو بار ایک رسالہ "خبر و نظر" نکالتا ہے جس میں پاک امریکہ تعلقات، امریکہ میں موجود پاکستانیوں کے انٹرویوز اور ان تمام منصوبہ جات کی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں جن کے لئے امریکہ تعاون کر رہا ہے۔ یو ایس ایڈ کے اشتہارات اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چلتے ہیں جبکہ امریکی ٹی وی 'وائس آف امریکہ' کئی پاکستانی چینلوں پر وقت خرید کر اپنی نشریات چلاتا ہے۔

لیکن سعودی عرب کی جانب سے کبھی ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی کہ پاکستانی عوام میں اس کا تاثر بہتر ہو۔ کوئی ایسی ویب سائٹ موجود نہیں جہاں سے معلومات دستیاب ہوں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کسی بھی مغربی ملک میں اگر کوئی پاکستانی کوئی چھوٹی سی بھی کامیابی حاصل کرے حتیٰ کہ میونسپلٹی کا ممبر تک بنایا جائے، کسی طالب علم کو سکالرشپ ملے، کسی کا رزلٹ اچھا آئے تو ان خبروں کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں کسی کو پتہ ہی نہیں ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی کن کن اعلیٰ عہدوں پر موجود ہیں، سعودی جامعات کتنے پاکستانی طلبہ کو سکالرشپس دیتی ہیں اور وہاں روز ہی کوئی نہ کوئی پاکستانی طالب علم پی ایچ ڈی تک کی ڈگریاں لے رہا ہوتا ہے لیکن ایسی مثبت خبروں کو میڈیا تک پہنچانے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا سعودی عرب اور ایران میں براہ راست جنگ ہو سکتی ہے؟

پاکستانی اخبارات اور چینلز پر ایسی خبریں آپ نے ضرور دیکھی ہوں گی کہ سعودی عرب میں کسی پاکستانی کا ہاتھ کاٹ دیا گیا یا کسی کو پھانسی دی گئی لیکن کبھی ایسی خبر نہیں دیکھی ہو گی کہ کسی پاکستانی کو اعلیٰ عہدہ ملا۔ کفیلوں کے ظلم کی خبریں اور کہانیاں بھی سنی ہوں گی لیکن لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں خوش بھی تو ہیں، اپنے خاندانوں کو بھاری رقوم بھیجتے ہیں ان کے بارے خبریں کیوں سامنے نہیں آتیں؟

اسی طرح عرب ممالک کی کوئی ایک بھی نیوز ایجنسی ایسی نہیں ہے جو پاکستانی میڈیا کو وہاں کے حالات کے بارے مستند خبریں دے۔ پاکستانی میڈیا کا عالمی خبروں کے بارے جاننے کا ذریعہ صرف اور صرف انگریزی نیوز ایجنسیاں اور ٹی وی چینلز ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں عربی جاننے والے کتنے ہوں گے؟ میڈیا میں سب لوگ یونیورسٹیز سے صحافت کی تعلیم لیکر پہنچتے ہیں جنہیں عربی نہیں آتی۔ مدارس کے طلبہ اس فیلڈ میں آنا پسند نہیں کرتے۔ سعودی جامعات سے فارغ التحصیل علمائے کرام و سکالرز وہاں سے نیک و صالح ہوکر آتے ہیں جو یہاں میڈیا کے "گناہ گاروں" سے میل ملاپ کو ہی برا سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد آل طالب پاکستان تشریف لائے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سعودی سفارتی اہلکار میڈیا کے بڑے اینکرز اور کالم نگاروں کو دعوت دیکر ان کے ساتھ ملاقات کا موقع دیتے۔ چند بڑے چینلز کے ساتھ انٹرویوز رکھے جاتے۔ یقین مانیں میڈیا کا رخ بدل جاتا لیکن ہوا کیا کہ کسی کو لفٹ ہی نہیں کرائی گی۔ " رافضی میڈیا " ترلے منتیں کرتا رہ گیا کسی کو امام صاحب کے پاس تک پھٹکنے نہ دیا۔ سب سے بڑے "کافر" جیو نیوز کے ایک صحافی نے ناظم اعلیٰ مرکزیہ ڈاکٹر عبدالکریم کی منت سماجت کرکے چند منٹ حاصل کئے۔ یقین مانیں اس کا کئی روز جنگ اخبار میں فرنٹ پیج کا اشتہار لگایا اور نمایاں ترین اوقات میں اس کو نشر کیا۔

ہم نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں دوران تعلیم سی این این کے سربراہ، امریکی، ایرانی سفیراور کئی مغربی عہدیداروں کو مستقبل کے صحافیوں سے خطاب کرتے دیکھا لیکن کبھی کوئی عرب نہیں آیا۔میڈیا کے کتنے ہی صحافی ایسے ہیں جنہیں امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے نشریاتی اداروں اور یونیورسٹیز نے خود بلا کر سکالر شپس دیں، ٹریننگ کے لئے بلایا جبکہ یہاں موجود سفارتی اہلکار صحافیوں سے ذاتی دوستیاں تک بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔کیا سعودی سفارت خانے میں بھی اس بارے میں کبھی سوچا گیا ؟پریس کلب کے ارکان کو بہت سے ممالک مدعو کرتے ہیں، باہمی معاہدے ہوتے ہیں اوراور وفود کا تبادلہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

گزشتہ دنوں ہم نے ٹی وی پروگرام میں چند خطاط حضرات کو مدعو کیا یقین مانیں ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی ایرانی ایوارڈضرور تھا جو اسے وہاں بلا کر دیا گیا۔ ہمارے کتنے ہی صحافی ہیں کہ جنہیں مختلف ممالک کی جانب سے صرف اس لئے مدعو کیا گیا کہ ہمارے وطن کی سیر کریں اور سفرنامہ لکھ دیں۔ کیا کوئی بڑے سے بڑا پاکستانی صحافی سعودی عرب کا وزٹ ویزا حاصل کر سکتا ہے جس سے وہ پورے ملک کا دورہ کر سکے؟ سعودی دعوت پرمفت حج عمرہ سب کے لئے ممکن نہیں لیکن اتنا تو ہو سکتا ہے کہ سینئر صحافیوں کے لئے ہی چند سہولیات فراہم کر دی جائیں نا کہ پاکستان کا سب سے زیادہ پڑھا جانیوالا کالم نگار جاوید چوہدری واپس آکر اپنے کالموں میں چار چار گھنٹے لائنوں میں خوار ہونے اور بدانتظامی کا رونا روئے۔

مختلف شہروں میں قائم خانہ فرہنگ ایران، یونیورسٹی لائبریریوں میں گوشہ ایران کی بات تو کی جاتی ہے لیکن جناب سعودی عرب کو کس نے روک رکھا ہے کہ وہ بڑے شہروں میں کوئی پاک عرب سینٹرز قائم نہ کرے؟ سعودی سفارت خانے تک تو بڑے بڑے پاکستانی رہنما بھی رسائی حاصل نہیں کر پاتے تو صحافیوں کی کیا مجال؟ اگر ایسے سینٹرز قائم کئے جائیں جن تک عوام کی رسائی ہو، وہاں معلومات ہوں، سیمینارز منعقد ہوں، تقریبات ہوں، دونوں ممالک کی عوام کو قریب کرنے کی کوشش کی جائے۔سوشل میڈیا نیٹ ورک قائم کیا جائے جو کسی بھی واقعے کے بعد فوری ردعمل دے، پروپیگنڈے کا جواب دے۔ سعودی سفارت خانہ ملکی میڈیا میں ہونیوالی کسی بھی بے بنیاد تنقید کا آفیشل جواب دے، ہر کوئی اس کو نشر کرے گا۔ امریکہ اور دیگر ممالک چند لاکھ کی بھی امداد دیں تو اس کا میڈیا پر اشتہار ضرور دیتے ہیں تاکہ عوام کو آگاہی ہو۔ مانا کہ کچھ لوگ واقعی مخصوص مقاصد کے تحت سعودی مخالف پروپیگنڈا کرتے ہوں گے، ضرور کچھ لوگ ایجنٹ بھی ہوں گے لیکن جناب اپنا کام پورا کرکے اس بارے سوچنا چاہیے نہ کہ اس کو بہانہ بناکر اپنی ذمہ داریوں سے ہی جان چھڑا لی جائے۔

سعودی عرب کو بھی چاہیے کہ اب دنیا میں جینے کے اصو ل سیکھ لے۔ اگر سعودی حکام اور پاکستان میں ان کے ہمدرد ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہونیوالی سعودی مخالف تنقید اور پروپیگنڈے کو ذرا سا بھی سنجیدہ لیتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ اس کی وجوہات پر غور کریں۔ جب تک اس میدان میں کچھ بویا نہیں جائے گا تو اس وقت تک کاٹنے کی امید نہیں کرنی چاہیے، یہی دنیا کا اصول ہے۔محض "ایجنٹ اور آلہ کار" کے الزامات ہی کافی نہیں خود اپنی کارکردگی اور کوتاہیوں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کسی کا آلہ کار نہیں ہوتا بس یہ اس کے ساتھ چلتا ہے، اسی کی زبان بولتا ہے جو اس کے ساتھ چلے اور اس تک اپنی بات پہنچائےاور جو میڈیا کو یکسر نظر انداز کر دے وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو کہ اکثر دینی جماعتوں، سعودی عرب اور معاشرے کے اسلامی طبقات کو سامنا کرنا پڑتا ہے!