کتب بینی ہمیں کیا دیتی ہے؟ - راجہ بشارت صدیقی

احباب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مطالعہ سے انسان کو کیا ملتا ہے ؟یا آپ اتنا مطالعہ کیوں کرتے ہیں ؟میرا تعلق 'قلم قبیلے' سے ہے گو کہ ہم ادیبوں کے قدموں کی خاک برابر نہیں،مگر سمجھتے ہیں ایک شہسوارِ قلم کے لیے مطالعہ اتنا ضروری ہے جتنا انسانی زندگی کی بقاء کے لیے دانا و پانی۔مطالعہ کے بغیر قلم کے میدان میں ایک قدم بھی بڑھانا مشکل ہے۔علم انسان کا امتیاز ہی نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے جس کی تکمیل کا واحد ذریعہ یہی مطالعہ ہے۔ ایک پڑھے لکھے شخص کے لیے معاشرہ کی تعمیر و ترقی کا فریضہ بھی اہم ہے،اس لیے مطالعہ ہماری سماجی ضرورت بھی ہے۔اگر انسان اپنے سکول و مدرسہ کی تعلیم مکمل کر کے اسی پر اکتفاء کر کے بیٹھ جائے تو اس کی فکر و نظر کا دائرہ بالکل تنگ ہو کر رہ جائے گا۔مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحتیوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔ یہ مطالعہ کا ہی کرشمہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا رہتا ہے۔مطالعہ ایک ایسی دوربین ہے جس کے ذریعے دنیا کے گوشے گوشے کو دیکھتا ہے۔ مطالعہ ایک طیارے کی مانند ہے جس پر سوار ہو کر قاری دنیا کے چپے چپے کی سیر کرتا ہے اور وہاں کے تعلیمی،تہذیبی،سیاسی اور اقتصادی احوال سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ شورش نے کہا "کسی مقرر کا بلامطالعہ تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسا بہار کے بغیر بسنت منانا۔" یہ تو ایک مقرر کے سلسے میں بات تھی لیکن ٹھیک یہی صورت ایک قلم کار کی ہے۔ یہ بھی کسی نے کہا ہے کہ آج لکھنے والے زیادہ اور پڑھنے والے کم ہو گئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تحریر کی اثر آفرینی ختم ہو گئی ہے،اس لیے تحریر کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک صفحہ لکھنے کے لیے سو صفحات کا مطالعہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

کتاب غور و فکر کے دریچے کھولتی،زبان کو حسن بخشتی،اسلوب کو نکھارتی،لہجے کو سنوارتی،اظہار کا قرینہ سکھاتی،الفاظ میں جادو بھرتی اور ابلاغ کو تاثیر دیتی ہے۔ مطالعہ کتب کے بغیر گفتگو میں تنوع اور پیغام میں تیقن پیدا نہیں ہوتا۔ مطالعہ زبان کو خطیب اور قلم کو ادیب بنا دیتا ہے۔مطالعے کی وسعت تکلم کو قدرت اور تلفظ کو ندرت عطا کرتی ہے۔ صاحب مطالعہ کی تقریر آبشار کا لطف دیتی ہے اور اس کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔کتابوں سے جہاں معلومات میں اضافہ اور راہ عمل کی جستجو ہوتی ہے وہیں اس کا مطالعہ ذوق میں بالیدگی،طبعیت میں نشاط،نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی بخشتا ہے۔

مطالعہ ایک خوبصورت گلشن کی مانند ہے،اس میں خوشبو بھی ہے،دل آویزی بھی ہے اور خاردارشا خیں بھی ہیں۔ایک طرف جہاں مطالعہ کی اہمیت مسلم اور افادیت قابل ذکر ہے اس طرح اس کے طریقہ کار سے بھی واقفیت ضروری ہے۔اس لیے کسی بھی کا م کو اس کے اصول اور ضابطہ سے کیا جائے تو وہ کارآمد ثابت ہوتا ہے ورنہ نفع تو درکنار نقصان ضرور ہاتھ آتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ مطالعہ کو اس خیال سے ہر گز ترک نہیں کرنا چاہیے کہ یاد نہیں رہتا بلکہ مطالعہ ضرور کریں کہیں نہ کہیں اس کا فائدہ ضرور ہوتا ہے اس لیے کہ مہندی میں سرخی پتھر پر بار بار گھسنے کے بعد ہی آتی ہے اس لیے کتب بینی کو یاد نہ رہنے یا سست روی کی وجہ سے ترک نہیں کرنا چاہیے۔

آخر میں ابوالکلام آزاد کا ایک نثر پارہ پیش ہے جتنی بار پڑھیےلطف لیجئے ’’بڑے بڑوں کا عذر یہ ہوتا ہے کہ وقت ساتھ نہیں دیتا اور اسباب کارفراہم نہیں لیکن وقت کا اعظم و فاتح اٹھتا ہے اور کہتا ہے وقت ساتھ نہیں دیتا تو میں اس کوساتھ لوں گا،اگر سروسامان نہیں تو اپنے ہاتھوں سے اسے تیار کرلوں گا،اگر زمین موافق نہیں تو آسمان کو اترنا چاہیے،اگر انسانوں کی زبانیں گونگی ہیں تو پتھروں کو چیخنا چاہیے،اگر ساتھ چلنے والے نہیں تو کیا مضائقہ،درختوں کو دوڑنا چاہیے،وہ زمانے کا مخلوق نہیں ہوتا کہ زمانہ اسے چاکری کرائے وہ وقت کا خالق اور عہد کا پالنے والا ہوتا ہے،وہ زمانے کے حکموں پر نہیں چلتا بلکہ زمانہ آتا ہے تاکہ اس کی جنبشِ لب کا انتظار کرے وہ دنیا پر اس لیے نظر نہیں ڈالتاکہ کیا کیا ہے جسے دامن بھر لوں ؟بلکہ وہ یہ دیکھنے کے لیے آتا ہے کہ کیا کیا نہیں جس کو پورا کردوں۔"