ہمارا مزاج، اللہ کی رضا کا پابند - ممتاز شیریں

روز مرہ کے معمولات میں ایسے لوگوں سے بھی واستہ پڑا ہے کہ جو ہمیشہ شکایت ہی کرتے رہتے ہیں۔ چند جملے ان کے تکیہ کلام بن جاتے ہیں جیسا کہ "میں بہت موڈی ہوں"، "میرا کسی کام میں دل نہیں لگتا"، "مجھے جلد بیزاری ہونے لگتی ہے" یا پھر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ "زندگی یکسانیت کا شکار ہو گئی ہے"، "تمام مشکلات اور پریشانیاں ہمارے لیے ہی رہ گئی ہیں" اور "اللہ نے ہم پر ہی کیوں یہ وقت لایا ہے" وغیرہ وغیرہ۔ دراصل ان پریشانیوں کے پیچھے ہمارے ہی اعمال کارفرما ہیں کہ جو ہم جانے انجانے میں کرتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری سے لے کر اس کی مدد و نصرت حاصل کرنے کی خواہش نہ رکھنے تک سب ہی کچھ شامل ہے۔

الحمداللہ ہم سب مسلمان ہیں اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے دن کا آغاز اس رب کریم کی حمد و ثناء سے کریں جس نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ اس باری تعالی کا کرم ہی تو ہے جو ہم اس زندگی کو اس کی بھرپور رعنائیوں سمیت گزار رہے ہیں۔ دن کا آغاز کلام پاک کی تلاوت سے کیا جائے تو گھر میں رونق اور برکت رہتی ہے اور جب یہ کرامات موجود ہوں تو ہمارا مزاج خراب نہیں ہوتا اور تمام کام بحسن خوبی انجام پاتے ہیں۔

دن کے آغاز کے ساتھ ہی آپ کی اچھی حکمت عملی آپ کے کاموں کو ترتیب سے انجام دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور جب آپ کے سب کام ترتیب سے ہو رہے ہوں گے تو موڈ خراب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ کسی بھی کام کو بوجھ سمجھ کر بے دلی کے ساتھ مت کریں جب کوئی کام شروع کریں تو آپ کے ذہن میں ہرگز یہ خیال نہ ہو کہ "بس جیسے تیسے کام کو ختم کر لوں کیوں کہ آج دل نہیں چاہ رہا" بلکہ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔ مثبت سوچ سے شروع کیا جانے والا کام مثبت نتائج لاتا ہے۔

اکثر اوقات ہم زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور تکلیفوں سے گھبرا جاتے ہیں یا ماضی کی کوئی ناخوشگوار یاد ہمیں بے چین کر جاتی ہے اور گزرے ہوئے تلخ لمحات کی یاد ہمارے مزاج پر برا اثر ڈال جاتی ہے۔ تو اس کے لیے بہترین حل تقدیر پر ہمارا ایمان ہے "اگر، مگر" سے نکل آئیں اللہ کے فیصلے پر سر جھکا کر راضی بہ رضا ہو جائیں۔ یہ مت سوچیں کہ اگر میں یہ کر لیتا تو یوں ہو جاتا، بلکہ یہ سوچیں کہ جو اللہ نے مقدر کیا تھا وہ ہوا، اس لیے کہ "اگر" شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔

وقت کی عدالت میں
زندگی کی صورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں
ایک سوال نامہ ہے
یہ زندگی کے پرچے ہیں
کس نے یہ بنایا ہے؟
کس لیے بنایا ہے؟
کچھ سمجھ میں آیا ہے؟
زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ہیں
سب سوال مشکل ہیں!!

یہ دنیا ہے اور یہاں سب رشتے ناطے امتحان ہیں۔ خوشی غمی،دکھ سکھ، عزیز رشتے دار، مال اولاد، بھائی بہن سب امتحان کے پرچے ہیں۔ تو ایسے موقع کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تربیت کر دی کہ اپنی مشکلات میں اللہ سے مدد طلب کرو اور ہمت نہ ہارو "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ"
(مفہوم: اے اللہ! میں تیرے ہر حکم ہر فیصلے پر راضی ہوں)
اگر ہم خدانخواستہ اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے تو حالات تو نہیں بدلیں گے۔ حقائق جوں کے توں رہیں گے لیکن ہم شیطان کے پھندے میں پھنس کر حسرتوں، بے قراریوں، بے چینیوں کا شکار ہو جائیں گے۔ مصائب پر صبر کریں گے تو " إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ" کا ساتھ ہوگا۔ جہاں انتقام کا جذبہ ہوگا اور بدلے کی آگ ہوگی، وہاں شیطان آدھمکے گا۔ وہ خود ابلیس (مایوس ہوا) ہے، اور ہمارے درمیان بھی مایوسی پھیلائے گا، امیدیں توڑ دے گا اور دماغ کو ماؤف کر دے گا۔

زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں مضبوطی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ یقینا طاقتور وہی ہے جس میں صبر اور برداشت ہے۔ اللہ نے قرآن کریم میں بار بار زندگی کا ابتلاء و آزمائش ہونا بیان کر دیا ہے۔ لَنَبْلُوَنَّکُمْ (ہم تمہارا امتحان لے کر رہیں گے)، لِيَبْلُوَكُمْ (تاکہ تمہیں آزمائیں) اور لِنَبْلُوَهُمْ (تاکہ ہم تمہارا امتحان لیں)۔ اور پھر ان تمام آزمائشوں اور امتحانوں سے ہنس کر گزرنے والے کے لیے کہا کہ: " توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو"۔ (سورۃ البقرۃ: 155)

خالق کائنات نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اللہ کے ان وعدوں پر کامل یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم اپنے مزاج کو اپنے اللہ کی رضا کے تابع نہیں بنا سکتے؟ بالکل بنا سکتے ہیں بس تھوڑی سی محنت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */