نیکیوں کا موسم بہار - عبدالماجد خان

رمضان المبارک کو مہینوں کا سردار اور نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔ اس کی برکات و فیوض بے شمار ہیں۔ اس ماہ مبارک میں عبادات پر ثواب کئی گنا زیادہ ہے اور نیکیوں پر تو سمجھیے اسپیشل پروموشن ہے۔

نزول قرآن پاک بھی رمضان المبارک میں ہوا اور اسی مہینے میں ایک ایسی بابرکت رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، رمضان المبارک میں نوافل، نماز تراویح یا قیام الیل مسلمانوں کے لے ایسی خصوصی نعمتیں ہیں جن کی بہت تاکید اور اہمیت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ (سورۃ البقرہ: 185)
ترجمہ: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو ساری دنیا کے لیے ہدایت ہے، راہ حق دکھانے والی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی کتاب ہے۔

رمضان میں صدقات و خیرات کی بھی بڑی اہمیت اور ثواب ہے۔ رشتے دار، غریب، پڑوسی، یتیم، مسکین اور سفید پوش کی مدد باعث نجات دنیا و آخرت ہے اور اللہ کے نزدیک بہت مقرب عمل ہے۔ کچھ لوگ زکوۃ کی ادائیگی کے لے بھی رمضان المبارک کا انتظار کرتے ہیں حالانکہ لازم نہیں کہ زکوۃ کی ادائیگی صرف رمضان میں ہی ہو۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر پاتے۔ روزہ ہمیں ضبط نفس کا پابند بنا کر صبر اور تحمل کی مشق سے آشنا کرتا ہے، ماہ رمضان ہمیں موقع دیتا کہ سال بھر کا زنگ اور بری خصلتوں کو اتار پھینک دیا جاے اور صبر، برداشت، حسن خلق اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے۔

ہماری ترجیحات میں تفہیم دین کی سعی ایک لازمی امر ہونا چاہیے، اس دور پر فطن میں ہرجاہ برائی کی دعوت اور ہر گام دنیا پرستی اور لہو لعب کا سامان موجود ہے جو ہمارا قیمتی وقت ضائع کروادیتا ہے۔ ہم ان خرافات سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو معاملہ فروعی اختلافات کی طرف چل نکلتا ہے، رمضان المبارک میں تراویح کے مسائل اور تعداد رکعات پہ طویل مباحث اور محاذ آرائ قابل قدر بات نہیں، روئیت ہلال اور چاند نظر آنے یا آنے پہ گفتگو بھی علمی اور معنی خیز ہونی چاہیے چہ جائیکہ کوئی مزید "چاند چڑھ" جائے جو امت میں تقسیم اور مسلکی منافرت کا باعث بنے!

یہ بھی پڑھیں:   قومی بے حسی کی سزا عزت دار کیوں بھگتے؟ - فراز الحسن

احترام رمضان کا تقاضہ ہے کہ ہمارے قول و فعل سے مکارم اخلاق کا بہترین اظہار ہو اور ہمارے رویے اس بات کی گواہی دیں کہ روزہ محض ایک ڈائٹ پلان نہیں بلکہ تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے۔ گاڑی چلاتے وقت دوسرے کو راستہ دینا، دوسرے کی غلطی پہ درگزر کرنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا، ملازمین پر دست شفقت رکھنا اور اچھے انداز سے پیش آنا، غریب اور تہی دست کی مدد کرنا، غیبت اور عیب جوئی سے دور رہنا، یتیم کی دلجوئی کرنا، مریض کی تیمارداری کرنا، پڑوسی کا حق ادا کرنا، اسیر کا حال پوچھنا، انفاق فی سبیل اللہ کا خصوصی اہتمام کرنا وغیرہ ایسے عوامل ہیں جو بندے کو خالق سے جوڑتے ہیں اور عاجزی پیدا کرتے ہیں۔

اگر روزہ ہمارے رویوں کی سخت گیری کو کم نہیں کرتا، ہماری گفتگو میں نرمی اور حلاوت پیدا نہیں کرتا، عبادات میں خشوع و خضوع نہیں آتی، ہم مہنگائی کرنے سے باز نہیں آتے، گراں فروشی کرتے نہیں تھکتے، چیزوں میں ملاوٹ سے نہیں کتراتے، تو اس کا واضح مطلب یہی کہ ہم اس عبادت کے اصل مفہوم کو نہیں سمجھ سکے!

حدیث میں آتا ہے کہ "اگر کوئی شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے"۔

رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تلاوت میں باقاعدگی ہونی چاہیے، اور کیا ہی عمدہ بات ہو اگر ہم قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے اس کا ترجمہ پڑھیں اور بوقت ضرورت تفسیر سے بھی استفادہ کریں تاکہ اس آفاقی کتاب کی تعلیمات کا اثر ہماری عملی زندگیوں میں بھی نظر آئے۔ علامہ ابن قیمؒ سے منسوب ایک قول ہے کہ "غور و فکر سے ایک آیت پڑھنا بلا فہم و تدبر پورا قرآن ختم کرنے سے بہتر ہے"۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو بیک وقت جسمانی اور روحانی تربیت فراہم کر کے ہمیں سال بھر کے لے توانائی فراہم کرتی ہے، ہمیں چاہیے کہ کامل ایمان کے ساتھ روزوں کا اہتمام کریں اور روزمرہ زندگی میں اپنے اعمال کا اس طرح سے احتساب کریں کہ ہمارا پورا سال اسی تربیت کے زیراثر رہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں"۔