مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار کون؟ - عنایت کابلگرامی

ان دنوں مشرقی وسطیٰ کی صورت حال کافی کشیدہ ہے۔ ایک طرف اسلامی اتحاد جس کو امریکا کی معاونت حاصل ہے، تو دوسری طرف ایران، شام، عراق، لبنان اور اس کے ساتھ روس کی بھر پور حمایت کے طور پر ایک پانچ ملکی اتحاد قائم ہے۔ یہ دونوں اتحاد مسلسل ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اسلامی اتحاد کہتا ہے کہ ایران ہی اصل میں مشرقی وسطیٰ کے تمام دہشت گردوں کا سرپرست اعلیٰ ہے جبکہ ایران سعودی عرب کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں ماضی میں دیکھنا ہوگا کہ درحقیقت مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار کون ہے؟ دور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک وہ کونسا ملک ہے جو اسلامی لبادہ اُوڑھ کر اسلام اور مسلم ملکوں کی جڑیں کھوکلی کرنے میں مصروف ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایران اور ایرانی حکمرانوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کی تھیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلامی فوج نے ایران کو فتح کیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایرانی سپاسالار ہر مان (جو اسلامی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا) سے پوچھا کہ پہلے تو تم لوگوں نے کبھی بھی عربوں سے شکست نہیں کھائی تھی، اب کیا ہوا؟ تو ہرمان نے جواب دیا کہ پہلے جنگیں قومیت کے نام پر تھیں لیکن اب مسلمانوں کے ساتھ ان کے خدا کی مدد شامل تھی۔ مزید کہا کہ میں نے میدان جنگ میں مسلمانوں کا جذبہ شوق شہادت دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ دردناک شکست کھانے کے بعد ایرانیوں نے مسلمانوں کے خلاف انتقام کی وہ داستان شروع کی جو آج تک جاری ہے۔

ایرانیوں نے عربوں اور مسلمانوں سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایک سازش رچی جس کے تحت ابو لولو فیروز نامی ایک ملحد کو مسلمان افواج کے ہاتھوں گرفتار کر وایا اور مدینہ منورہ روانہ کیا (ابولولو جنگ نہادند میں قید ہوا تھا) مدینہ پہنچانے کے بعد ابولولو فیروز کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا گیا۔ ابولو لونے ظاہراً اسلام قبول کیا تھا لیکن اندر سے وہ انتقام کی بھٹی میں جل رہا تھا اور کسی صحیح موقع کی تلاش میں تھا۔ آخرکار وہ موقع اس کو 27 ذوالحجہ کو ملا جب فجر کی نماز میں اس نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دوران نماز خنجر مار کر زخمی کر دیا اور اس ہی خنجر سے خود کو ہلاک کیا، بعد میں یکم محرم الحرام کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوگئے۔ آج بھی ابولولو فیروز کا مزار ایران میں ہے اور ایرانی اس کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ اگرسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چند سال کی مہلت مل جاتی تو آج اسلامی دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایرانیوں کے لیے میدان صاف تھا۔ 35ھ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے امت میں ایک ایسا فتنہ کھڑا کردیا جو بقول خلیفہ ثالث (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) تا قیامت جاری رہے گا۔

اس کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو اختلافات اور جنگیں ہوئیں، ان میں ایران اور ایرانیوں کا براہ راست ہاتھ تھا۔ خلافت عباسیہ کے خلاف تمام تر سازشوں کا مرکز بھی ایران ہی تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ پر قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص بھی ایرانی تھا۔ ہلاکو خان کو عراق اور شام پر حملہ کرنے کی دعوت دینے والے بھی یہی ایرانی ہی تھے، جن کی ایماء پر ہلاکو خان نے حلب میں انسانوں کے سروں کا مینار قائم کیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں بھی ایران پیش پیش رہا۔

قارئین! ایران ایک اسلامی ملک ہے اور کچھ ادوار میں اسلامی سلطنت کا حصہ بھی رہا ہے لیکن ہمیشہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑانے کی سوچ رکھتا ہے۔ یہ تو ماضی کی مختصر سی تاریخ تھی لیکن اگر صحیح معنی میں دیکھیں تو ایران کی تاریخ اس سے بھی بدتر ہے۔

اب آتے ہیں موجودہ دور کی طرف اس میں بھی ایران کی مکاری واضح ہے لیکن اگر کوئی آنکھیں بند کرلے، سن کر ان سنا کردے تو اس کو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ یہ اس کا "جمہوری حق" ہے۔ امریکا ظاہری طور پر اسلامی اتحاد کے ساتھ کھڑا ہے مگر در پردہ ایران کے ساتھ ہے۔ ایران لاکھ دعوے کرے کہ امریکا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن اس کے اس دعوے میں رتی بھر بھی سچائی نہیں ہے۔ امریکا نے افغانستان پر حملے کی دھمکی دی اور حملہ کردیا، عراق کو ڈرایا اور لاکھوں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کیا، لیکن جب سے ایران میں خمینی انقلاب آیا ہے، تب سے ہی امریکا ایران پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے لیکن کر نہیں رہا۔ علاوہ ازیں جو پالیسی امریکا کی ہے وہی پالیسی ایران کی بھی ہے۔ اس وقت یہ دونوں ممالک عالمی خودمختاریوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ امریکا جب چاہے کسی بھی ملک میں ڈرون حملہ کردیتا ہے، کسی بھی ملک میں سی آئی اے یا بلیک واٹر کے اہلکار اتار دیتا ہے، اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگا نے میں اور کسی بھی ملک میں منتخب حکومت کو گرانے میں امریکا کا کوئی ثانی نہیں۔ امریکا کے ظلم کی داستان کے لیے یہ مضمون بہت کم ہے بس سادی سی بات ہے کہ امریکا دنیا میں اپنی اجارداری چاہتا ہے، اور ایران کی بھی یہی خواہش ہے لیکن صرف مشرقی وسطیٰ کی حد تک۔ اسی مقصد کے لیے اس نے عراق میں صدام حسین کے ساتھ کئی برسوں تک جنگ لڑی۔ اس بے نتیجہ جنگ میں لاکھوں انسان مارے گئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ایران امریکا کے کندھوں کے سہارے عراق میں جا بیٹھا، کرد اور نسلی امتیاز کو ہوا دی ساتھ ہی ساتھ فرقہ ورانہ بنیاد پر عراق کو ایک نہ ختم ہونے والے جنگ میں جونک دیا۔ ایران یمن میں حوثیوں کا ساتھ دے کر سعودی عرب سے اپنے چودہ سو سالہ پرانی دشمنی کو تازہ رکھنا چاہتا ہے، شام میں بے گناہ لوگوں کو اپنے مقصد کے لیے مار رہا ہے اور ان کے جسموں کو گیدڑ کی طرح بھنبھوڑ رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے کئی واقعات میں بھی ایران ملوث ہے۔ کلبھوشن اور عزیر بلوچ کے علاوہ اور بھی کئی ملک دشمنوں کو ایران نے ہی پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان کے کئی نامور علماء کے قاتل آج بھی ایران میں ان کی ایجنسیوں کے ساتھ ہیں۔

سیدھی سے بات یہ ہے کہ ایران سعودی عرب سے اپنی اس شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران کو ہوئی تھی۔

ان تمام تر حقایق کے بعد آپ بخوبی سمجھ گئے ہونگے کہ مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار کون ہے اور کیا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سمجھ آگیا ہوگیا کہ ایران امریکا کی طرح مشرقی وسطیٰ کی تباہی پر کیوں تلا ہوا ہے اور اپنے ہزاروں فوجیوں کو دوسرے ممالک میں مزحمتی تحریکوں سے کیوں ہلاک کروا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ پرانی دشمنی اور دوسری اپنے ملک کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی جنگ دوسرے ممالک میں لڑنا، یہی پالیسی امریکا کی بھی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ ہم تمام مسلمانوں کی بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار کون؟ - عنایت کابلگرامی
    جناب نویسنده یه جو آپ نے مقاله لکها هے اس میں کتنی سچایی هے یه تو با بصیرت لوگوں نے جانا هوگا....
    اولا ... آپ نے جو نژاد پرستی عرب و عجم کی ذکر فرمایی متأسفانه آپ اسی چیز کے شکار هے ..اور ساتھ میں تعصب اور نفسی مریض بهی هے ..
    غلطی آپ کی نهیں پوری دنیا کا صورت حال جو بیان هوتا هے ویسٹر میڈیا هی سنبهالتا هے لهذا آپ بهی یالاعلمی سے یا جانکر کویی اور مقصد هو اصل حقیقت اور واقعیت سے بی خبر هے ....
    اور وهاں کے باشندے جو هیں ان سے سوال کرے که ایرا ن کون سا رول وهاں پر کررها هے ...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */