امام غزالی (رح) کا علمی منہج اور چند اشکالات کا ازالہ - محمد زاہد صدیق مغل

کچھ مفکرین کو امام غزالی پر یہ اعتراض رہا ہے کہ امام نے ”تہافت الفلاسفہ“ میں فلسفیوں کے ہتھیار سے فلسفیوں کے افکار کے پرخچے تو اڑا دیے مگر اثبات الہیات کے باب میں انہوں نے مثبت عقلی دلائل نہ دیے۔ اس سے بعضوں کو یہ بدگمانی ہوگئی کہ وہ محض ”تخریب کار“ تھے، ان کے پاس کوئی مثبت ایجنڈا موجود نہ تھا۔ کچھ لوگوں کو یہ وہم گذرتا ہے کہ امام نے عقلیات کے استعمال سےایسے معروضی دلائل جن کی بنیاد پر ایک ملحد سے مکالمہ ہو سکے، انہیں فراہم کرنے کے بجائے امت کو تصوف کی وادیوں کی طرف دھکیل دیا اور ظاہر ہے متصوفانہ تجربات کی بنا پر کسی شخص کو اسلام کی حقانیت پر قائل نہیں کیا جا سکتا۔ گویا اثبات الہیات کے باب میں امام نے عقلیت سے فرار کا راستہ اختیار کیا (بعض لوگ اس مقام پر امام کا ڈیکارٹ سے موازنہ شروع کر دیتے ہیں، جو ایک الگ موضوع ہے)۔ اس قسم کے تمام اعتراضات و شبہات امام کی مجموعی فکر اور ان کے طریقہ استدلال پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں اس حوالے سے کچھ گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔

• امام کی فکر کا تخریبی یا سلبی پہلو:
یہ وہ پہلو ہے جہاں وہ بالخصوص فلسفیوں کا رد اور اس کا طریقہ کار بتاتے ہیں جس کا افق ”تہافت“ میں ملتا ہے جو گویا ”افکار باطلہ کی تخریب“ کا عمل تھا۔ اس ”تخریب“ کے لیے امام نے جو عمومی طرز استدلال اختیار کیا اسے ”داخلی تنقید“ (internal criticism) کا منہج کہا جاتا ہے۔ اس کے مدمقابل نقد کا دوسرا عمومی طریقہ ”خارجی تنقید“ (external criticism) کہلاتا ہے۔

خارجی تنقید کا مطلب ایک نظریے کو کسی دوسرے نظریاتی فریم ورک کے معیارات سے جانچ کر رد کرنا ہوتا ہے۔ مثلا اگر ہم مغربی تصورات کو قرآن و سنت پر پرکھ کر رد کریں تو یہ خارجی نقد کہلائے گا۔ اس کے مقابلے میں ”داخلی نقد“ کا مطلب کسی نظریے کو خود اس کے اپنے طے کردہ پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ہوتا ہے۔ اس طریقے کے تحت چند طرح سے تنقید کی جاتی ہے:
(الف) فریق مخالف کے مفروضات کی لغویت ثابت کرنا، یعنی یہ کہ وہ عقلی اعتبار سے ثابت شدہ نہیں.
(ب) فریق مخالف کے مفروضات یا دعووں میں تضاد ثابت کرنا.
(ج) یہ ثابت کرنا کہ ان کے طے شدہ مقدمات سے لازما ان کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے وغیرہ۔
چنانچہ امام نے تہافت الفلاسفہ (Incoherence of Philosopherss) میں رداعتزال و فلسفہ کے لیے داخلی نقد کا منہج بطور خاص ہتھیار استعمال کیا۔ امام سے پہلے اعتزال کے خلاف اسلامی دنیا میں اس طریقے کو اتنے منظم انداز سے کسی متکلم نے استعمال نہیں کیا تھا۔

رد الحاد و اعتزال کے رد کے ضمن میں امام اس بات کی بطور خاص تاکید کرتے ہیں کہ الحادی مفروضات کو مذہبی پیمانوں پر جانچ کر رد کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ مذہب اور الحاد کے علمی تناظر (یعنی ان کے مفروضات، مقاصد اور نتائج اخذ کرنے کے طریق کار) میں فرق ہوتا ہے، لہذا الحاد کو رد کرنے کا درست طریقہ اس پر داخلی تنقید کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ امام یہ خصوصی وضاحت فرماتے ہیں کہ جو لوگ مذہبی نصوص کو الحادی ڈسکورس رد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ نہ صرف مذہب کا نہایت کمزور مقدمے کی بنا پر دفاع کرتے ہیں بلکہ الٹا اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔ امام غزالی جدید دور کے مفکرین کی طرح اس فکری و علمی غلط فہمی کا شکار نہیں تھے کہ دماغی عقلیت کا کوئی ایسا معروضی دائرہ کار بھی موجود ہے جہاں مذہب اور الحاد کے مابین ”مساوی سطح پر مکالمہ“ ممکن ہے۔

• تہافت الفلاسفہ کیوں؟
امام کی فکر کے اس (سلبی) پہلو کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ازحد ضروری ہے کہ امام نے تہافت الفلاسفہ (incoherence of philosophers) کیوں لکھی۔ امام نے یہ کتاب اپنے دور کے گمراہ کن یونانی فلسفہ زدہ معتزلی نظریات کے رد میں لکھی تاکہ عام لوگوں کو ان سے بچایا جاسکے۔ اس کتاب کو لکھنے کا جو مقصد اور طریقہ امام نے بتایا، وہ جدید تنویری فکری و فلسفے کے رد کے لیے بھی اتنا ہی ریلیونٹ ہے جتنا ہزار برس قبل تھا۔ چنانچہ امام کتاب کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
”موجودہ زمانے میں میں ایک ایسی جماعت کو دیکھ رہا ہوں جو خود کو عقل و ذکاوت میں اپنے ہم عصروں سے ممتاز سمجھ رہی ہے، اور اسی لیے اس کے افراد نے فرائض اسلامی سے کنارہ کش رہنا اپنا شعار بنا لیا ہے، یہ لوگ شعائر دینی کی توقیر و عظمت کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اپنے وہم و گمان میں اس کو اپنا اعلی وصف سمجھ رہے ہیں۔ اپنے اس عمل سے یہ لوگ گمراہی کا سبب بن رہے ہیں. اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب لکھوں جس میں ان کے خیالات کا رد کیا جائے، نیز ان کے دعووں و استدلال کے تناقض و بے ربطگی کو واضح کیا جائے تاکہ ان کی معقولیت کے رعب کو لوگوں کے دماغوں سے اٹھایا جائے تاکہ سادہ ذہن عوام اس فتنے سے محفوظ رہیں. ان لوگوں کے مباحث و دعووں کو جانچتے وقت میں صرف ایک طالب حقیقت بن کر ہی کھوج نہیں لگاؤں گا بلکہ مذہب کے وکیل و مدعی کی حیثیت سے بھی گفتگو کروں گا.“
یہ اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ امام جدید دور کے دانشوروں و مفکرین کی طرح ”غیرجانبداریت و معروضیت“ کے جھانسے کا نہ تو شکار تھے اور نہ ہی اس علمی خیانت کے اظہار کے قائل تھے۔ اکیڈمک clarity اور integrity کی اس سے زیادہ عمدہ مثال ملنا مشکل ہے۔ تہافت الفلاسفہ میں امام مسلم فلاسفہ کے نظریات کی صرف تنقیص و تردید کرتے ہیں، کسی مخصوص مذہبی تصور کا ایجابی ثبوت پیش نہیں کرتے۔ اس کتاب سے امام یہ بتانا چاہتے ہیں کہ زندگی کی حقیقت و معنی متعین کرنے کا کوئی یقینی پیمانہ ماسواء نبی موجودہ نہیں، لہذا ہدایت و کامیابی کے لیے اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

امام کی تنقید اس قدر ٹو دا پوائنٹ اور مہلک تھی کہ ابن رشد جیسے ذہین انسان کو بھی یہ کہے بغیر کوئی جائے فرار میسر نہیں آئی کہ امام نے جو نقد کیا ہے، وہ ”اصل یونانی فلاسفہ“ کے نظریات پر نہیں بلکہ وہ تو ان کے مسلم شارحین پر پڑتا ہے۔ پھر ابن رشد اپنے تئیں ان یونانی فلاسفہ کی ایک تشریح بیان کرکے امام کے نقد کو غیر متعلق ثابت کرنے لگتے ہیں۔ ابن رشد کے اس طریق کار سے یہ بات دو اور دو چار کی طرح ثابت ہوگئی کہ امام نے معتزلی مفکرین کے جن نظریات کا رد کیا تھا، ابن رشد کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اور اسی لیے انہیں ”علمی تناظر“ بدلنا پڑا۔ اب اگر ابن رشد یا کوئی دوسرا شخص یونانی فلاسفہ کی ایک نئی تشریح لے کر بیٹھ جائے (جو علمی اعتبار سے ایک ایسا سلسلہ ہے جو تاقیامت جاری رہے گا کیونکہ مصنف کی موت کے بعد اس کا ہر نیا قاری اس کی ایک نئی تشریح بہرحال کرسکتا ہے اور اس بات کی بھی کوئی قطعی دلیل نہیں کہ آیا یونانی فلاسفہ کی اصل پوزیشن وہی تھی، جو ابن رشد نے کہی کیونکہ وہ بھی محض ایک تشریح ہی تھی) تو ایسی تاقیامت بدلتی ہوئی تشریحات کا جواب دینا کسی ایک شخص کے لیے کبھی ممکن نہیں ہوسکتا۔ لہذا امام کے بارے میں ان کے بعض معاصرین و اہل علم کی اس نوع کی باتیں کہ انہوں نے یونانی فلاسفہ کو پڑھا ہی نہیں تھا وغیرہ، یہ ان کے ذاتی نوعیت کے تاثرات ہیں اور بس جن کی کوئی خاص علمی وقعت نہیں۔ ان تاثرات کو کسی ”علمی حوالے“ کے طور پر پیش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ناقد تجزیے کی صلاحیت سے محروم اور نری مخالفت کے جذبے سے مغلوب ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سیکولرازم، ایک دھوکا - حماد احمد

• امام کی فکر کے تعمیری (مثبت) پہلو میں مجرد عقل کی حیثیت
اگر امام کے ”تعمیری“ پہلو کی طرف نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ امام نے اس باب میں کلامی طرز پر بھی اس کا مختصرا اثبات (درحقیقت دفاع) کیا جس کی نمائندہ کتاب ان کا رسالہ ”کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد“ ہے۔ البتہ امام الہیات کے باب میں اصولا ”مجرد عقل“ (absolute or abstract rationality) اور کلام و فلسفے کی زیادہ افادیت کے قائل نہ تھے۔ پہلے اس پر کچھ گفتگو کیے لیتے ہیں۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا لازم ہے کہ امام کے علمیاتی منہج میں ان کا ”مخاطب کون“ اور انہیں ”خطاب کس حیثیت“ میں تھا کیونکہ مخاطب اور اس کی حیثیت کا تعین کیے بغیر کسی کے خطاب کو سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ الہیات کے باب میں امام کا مخاطب وہ مسلمان ہے جو فلاسفہ کے زیر اثر ”مجرد عقل“ کی بنیاد پر الہیات کے اثبات کا مدعی ہے۔ چنانچہ امام کا پورا نقد تھا ہی اس گروہ پر جو بدون وحی مجرد عقلیت کی بنیاد پر الہیات کے تعین کے امکان کا دعویدار تھا اور جو اپنے اس دعوے کی بنیاد پر نبی کی ضرورت کو ایک اضافی امر اور نبی کے بتائے ہوئے احکامات کو مجرد عقل پر تولنے کا مدعی تھا۔ امام نے ان کے نظریات کا رد کرکے بالتفصیل یہی مقدمہ ثابت کیا کہ مجرد عقل یا عقل محض میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ اس باب میں اسے راہنما بنایا جاسکے۔ الہیات و قدر کے معاملات میں نبی کے سہارے کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص ایک ذریعہ علم (مجرد عقل) پر پہلے یہ نقد پیش کرے کہ اس راستے سے مخصوص نتائج (خدا تک رسائی کے حصول) کا دعوی باطل و ناممکن ہے، پھر بعد میں خود اسی ذریعے کی بنیاد پر اسی نتیجے کو ثابت کرنے کا پراجیکٹ کھول دے؟ ایسی بات ایک غیر ہم آہنگ مفکر ہی کرسکتا ہے، امام سے اس کی امید رکھنا عبث ہے۔

جن لوگوں کو امام پر یہ اعتراض رہا ہے کہ آخر امام نے اثبات الہیات کی ”خالص عقلی بنیادیں“ کیوں نہ فراہم کیں وہ دراصل امام کے علمی منہج ہی سے ناواقف ہیں۔ اگر معترضین کو لگتا ہے کہ امام نے اس باب میں ٹھوکر کھائی تو پھر انہیں یہ ثابت کرکے دکھانا چاہیے کہ ”مجرد عقل“ کے ذریعے الہیات اور قدر کے وہ سوالات حل کرنا ممکن ہیں جن کے جوابات نبی بتاتا ہے۔ علمی منہج کے اس معاملے میں امام جس فکری clarity کے مقام پر فائز نظر آتے ہیں اس کا رد کرنا تو دور کی بات، اس کا فہم بھی ان کے اکثر معترضین کو حاصل نہیں۔

اثبات الہیات کے باب میں امام مجرد عقل تو کجا علم الکلام کی افادیت کے بھی بجا طور زیادہ قائل نہیں۔ علم الکلام کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ اس کا مقصد ”مسلمان شخص کے عقیدے کی حفاظت ہے جو اپنے عقائد کی بنیاد کتاب و سنت قرار دیتا ہو اور یہ چاہتا ہو کہ اس کا عقیدہ فلسفیوں کے شکوک و شبہات سے محفوظ رہے“۔ پس علم الکلام سے اسی قدر فائدہ ممکن ہے کہ اس کے ذریعے اسلامی عقائد کا دفاع کیا جاسکے، رہا وہ شخص جس کا سینہ نور ایمان سے خالی ہے تو اس بارے میں امام کی رائے یہ ہے کہ علم الکلام میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ایسے شخص کے سینے کو نور ایمان سے منور کردے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کلام کے پاس جتنے استدلال ہیں وہ ”بیرونی ساخت“ کے ہیں اور اس کا حامل انھی دلائل و مسلمات کو لے کر آگے بڑھتا ہے جو یا تو دھوکہ دے جاتے ہیں اور یا پھر کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اثبات الہیات کے باب میں امام کلام و فلسفے پر زیادہ انحصار نہیں کرتے۔ یہی نقطہ نہ سمجھنے کی بنا پر فلسفہ زدہ لوگوں نے جب دیکھا کہ امام نے الہیات کا فلسفیانہ اثبات نہ کیا تو وہ امام پر عقلیت سے فرار کا الزام لے کر بیٹھ گئے حالانکہ جس عقلیت کا رد امام نے کیا، وہ عقل بطور کیٹیگری نہیں بلکہ بطور ماخذ (مجرد عقل یا substantive reasoning) تھا۔ امام پر ”علمیات“ و ”ریشنیلٹی“ کے تناظرات میں اعتراض کرنے والوں کو پہلے ان الفاظ کے معنی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

• امام کی فکر کے تعمیری پہلو میں تصوف کا مقام
رہا یہ سوال کہ امام نے پھر اثبات الہیات کا کون سا طریقہ بتایا؟ تو اس سوال کے جواب سے قبل یہ سمجھنا لازم ہے کہ اثبات ایمان پر گفتگو کرتے ہوئے امام ایمان کے کس درجے کی بات کرتے ہیں۔ اس کی وضاحت امام نے ”المنقذ من الضلال“ (جو امام کی سوانح عمری ہے) میں کی ہے۔ امام اپنے سفر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ یقین کے اس درجے کے متلاشی تھے جسے بلا تمثیل ”ارنی کیف تحی الموتی“ کی کیفیت کہا جاسکتا ہے۔ امام کے کچھ شارحین کو یہ وہم گزرا گویا امام صاحب کو ایمانیات اسلام کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات لاحق ہوگئے تھے جنہیں رفع کرنے کے لیے وہ مختلف ماخذات علم کی طرف متوجہ ہوئے، حاشا و کلا۔ امام یقین کے اس درجے کے متلاشی تھے جسے ”احسان“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ جنہیں ”اثباتی عقلی دلائل“ (مثلا اثبات توحید کے تکوینی، مقاصدی یا منطقی دلائل) کی جنس کہا جاتا ہے، وہ تو امام کی کتاب ”تہافت“ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں، (بس آنکھیں اور کتاب دونوں کھول کر کتاب پڑھنے کی ضرورت ہے) مگر یقین کی جس منزل کے امام متلاشی تھے، وہاں ان عقلی دلائل کا گزر نہیں۔ بقول مولانا مودودی عقلی دلائل محض گمان غالب کی ایک کیفیت پیدا کرسکتے ہیں، یہ جسے ایمان کہا جاتا ہے تو یہ اس سے آگے کی ایک چیز ہے۔ کانٹ کے الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ فنامینا پر مبنی دلائل عقل کو متعدد نامینا میں سے بعض کے بعض کے مقابلے میں زیادہ قرین قیاس ہونے کے امکانات تک تو پہنچا سکتے ہیں مگر نامینا کے اس الجھاؤ کو پوری طرح حل نہیں کرسکتے جس میں عقل پھنس جاتی ہے۔ جس کی نظر امام کی منزل پر نہیں وہ امام کے طریقہ علم کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ میرے بچوں کی ماسی نکلی ماں نہیں - اسری غوری

امام اس منزل تک ایسی رسائی رکھنے والے چار گروہوں کا ذکر کرتے ہیں جن کی طرف وہ متوجہ ہوئے:
1) اہل کلام (اس کی حدود اوپر بیان ہوچکیں
2) اہل باطن جن کا یہ زعم ہے کہ ہم نے امام معصوم سے سینہ بسینہ تعلیم پائی ہے۔ ان کے ساتھ امام اس حد تک تو متفق ہیں کہ عقل محض سے دینی حقائق کا اکتساب نہیں ہوسکتا مگر ان کے اس دعوے کو رد کرتے ہیں کہ اس اکتساب کا ذریعہ امام معصوم ہے.
3) اہل فلسفہ جن کا یہ گمان ہے کہ ہم ہی اہل منطق ہیں (ان کا رد امام نے تہافت میں خود ہی فرما دیا)
4) اہل تصوف جن کا یہ دعوی ہے کہ ہم خاصان بارگاہ ایزدی و اہل مشاہدہ ہیں۔

امام فرماتے ہیں کہ صوفیا کا طریقہ علم (دماغی عقل) سے زیادہ ”عمل“ (عقلیت قلبی) پر مبنی ہے اور مجھے اس ہی طریقہ کسب کے ذریعے ایمان و ایقان کی دولت اور قلبی سکون میسر آیا۔ علمیاتی مباحث میں حقیقت تک رسائی کے اس طریقے کو ”شرکت“ (participation) کا طریقہ کہا جاتا ہے جبکہ عقل جس طریقے سے کسی شے کی حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اسے ”مشاہدے“ (observation) کا طریقہ کہا جاتا ہے اور دونوں میں بنیادی نوعیت کا فرق ہے اور دونوں سے تعمیر ہونے والا ادراک حقیقت اپنی نوعیت میں جداگانہ ہوتا ہے (یہاں اس کی تفصیلات میں جانا ممکن نہیں)۔

جب امام کو اس ذریعے سے ایمان کی مطلوبہ کیفیت میسر آگئی تو انہوں نے ”احیاء العلوم“ تحریر کی جس کے حصہ سوم و چہارم میں امام اس قلبی عقلیت کی تعمیر کا طریقہ بتاتے ہیں جو حقیقت تک رسائی کا ذریعہ بنتا ہے، جن کے اسرارورموز سے امام نے کتاب الصبر، کتاب الشکر، کتاب المحبت، کتاب التوکل میں پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ابواب سمجھنا ان لوگوں کے بس کی بات نہیں جو اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ معروضیت کسی عقلی تناظر کا نام ہے۔ ہرگز نہیں، معروضیت دماغی عقلیت نہیں بلکہ قلبی عقلیت کے فروغ سے میسر آتی ہے۔

اب اگر اس گفتگو پر کسی کو یہ اشکال ہے کہ آخر اس طریق کار سے کسی غیر مسلم کو دعوت کس بنیاد پر دی جائے تو اس کا جواب ہے وہی طریقہ جو پیغمبرعلیہ السلام و صحابہ نے برت کر دکھایا، یعنی یہ کہ جس حق کے آپ وارث بنائے گئے ہیں، اس کے تقاضوں پر پورے خلوص، قوت و راست بازی کے ساتھ مسلسل عمل پیش کرنا، ہاں اس کے ساتھ دیگر وسائل کو بھی بروئے کار لایا جاتا رہے۔ احیاء العلوم میں امام اس طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہیں جس کے ذریعے انسان ایسا عمل پیش کرنے لائق ہوکر دوسروں کے لیے مشعل راہ بنتا ہے۔

جن لوگوں کو ”علمیات“ کا حوالہ دینے کا شوق ہے تو انہیں چاہیے کہ علمیات کے مباحث میں یہ بحث دیکھیں کہ کسی دعوے کی سچائی کو جانچنے کے ممکنہ علمی معیارات کیا کیا ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ مؤثر معیار کون سا ہے، عوام الناس سب سے زیادہ کس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ معیارات متعدد ہیں، مثلا فاؤندیشنلسٹ تھیوری کے مطابق علم کو جانچنے کا اعلی ترین معیار قطعیت (certainty) ہے، بعضوں کے مطابق یہ معیار ”داخلی ہم آہنگی“ (coherence) ہے تو بعضوں کے مطابق یہ معیار ”correspondence“ ہے۔ جو لوگ امام کے بارے میں عقلیت سے فرارکی بات کرتے ہیں، وہ اگر ان سوالوں پر غور کرلیں تو اپنے دعوے کی غلطی ان پر واضح ہوجائے:
- علم کو جانچنے کا کون سا معیار ان حضرات کے پیش نظر ہے؟
- ان میں سے کون سے معیار میں (دماغی) عقلیت کا کتنا کردار ہے؟
- امام کے پیش نظر جو مقصد تھا، اس کے لحاظ سے کون سا علمی معیار زیادہ متعلق ہے؟
- ان میں سے متعلقہ معیار کے اظہار کے ساتھ کون سا طریقہ کار مناسبت رکھتا ہے؟

امام کے طریقہ کار کو رد کرنے والے درحقیقت انبیاء، صحابہ اور پوری اسلامی تاریخ میں دعوت کے لیے اختیار کی جانے والی ورایت کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں۔ ”عقلیت“ کی باتیں کرنے والے جو لوگ اپنی زندگی میں کسی ایک بھی غیر مسلم کو مسلمان نہ بنا پائے، وہ اٹھ کر دعوت کے طریقوں پر حکم لگانے لگیں تو انسان صرف ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔

پس یہ جو چند گزارشات پیش کیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خاص علمی تناطر کی بنا پر یہ ناچیز امام سے ایک مخصوص قلبی تعلق محسوس کرتا ہے اور دوسری وجہ ان غلط فہمیوں کا ازالہ مقصود تھا، جو ایک زمانے سے امام کے بارے میں کچھ مغربی مفکرین کی پیروی میں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔ جب کچھ ”مفکر نما“ لوگ ان غلط فہمیوں کو ہماری نوجوان نسل تک منتقل کرتے ہیں تو دل پریشان ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک نوجوان کی باتیں ان گزارشات کا پیش خیمہ بن گئیں۔ پس اسی جذبے کے تحت انہیں پیش کیا کہ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات!

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!