بھٹ پئی شاہی - ابوبکرقدوسی

بھٹ پئی شاہی
تے میں یار د دامن پھڑ ساں
مول نہ ھل ساں.

گرمی کی شدت روح اور بدن سب کو جھلسائے دے رہی تھی. کھجوریں پک کر تیار ہونے کو تھیں. کسانوں کی محنت جب رنگ لا رہی ہوتی ہے تو دل خوشی سے اچھلتے تو ہیں ہی، لیکن اسی بیچ اندیشہ ہائے دراز بھی دل میں جنم لے رہے ہوتے ہیں. ہر دم یہ دھڑکا کہ کہیں یہ نہ ہو جائے، کہیں یوں نہ ہو جائے.

ایسے میں طبل جنگ بجا اور اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے ساتھیوں کو تیاری کے لیے کہا.
.. قصہ اس روز شروع ہوا جب ساتھی سفر کو جا چکے ..
”ہاں مجھے کھجوروں کے ٹھنڈے سائے اور پھلوں سے رغبت سی ہو رہی تھی“. سیدنا کعب نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے آہ بھری.
ساتھی تیار ہورہے تھے، اور کعب سوچ رہے تھے کہ کل تیاری کر لوں گا اور پھر مزید کل، کل اور کل کرتے گئے.
لشکر نکل گیا. ساتھی بچھڑ گئے. اونٹوں کے سائے بھی دور نکل گئے.
اور پھر احساس زیاں نے گھیرا تو کعب نے جانا چاہا، لیکن وقت گزر چکا تھا. اب لشکر سے ملنا ممکن نہ تھا.
”یلیتنی فعلت“ ......... کاش میں چلا ہی جاتا.

ہاں! وہ رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نظر میں تھے، ان سے محبت تھی، ان کی یاد نبی کو آتی ہی تھی تو تبوک پہنچ کر پوچھا:
”ما فعل کعب بن مالک؟“ .....کعب نے کیا کیا؟ لہجہ دکھی دکھی سا تھا، دوست کعب سے یہ امید نہ تھی نا.
کچھ روز گزرے. لشکر واپس آ گیا. کعب رض کہتے ہیں کہ:
مجھے غم نے آ لیا. پچھتاوا رگوں میں اتر رہا تھا. میں سوچ میں تھا کہ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کیا کہوں گا. حاضر ہوا تو غصے میں آپ مسکرا دیے،
.. لیکن چہرہ دوسری طرف کو موڑ لیا . کعب تڑپ اٹھے.
”واللہ میں منافق نہیں ہوا،
واللہ میں شک میں نہیں مبتلا ہوا،
واللہ کفر اختیار نہیں....پھر اعراض کیوں؟“
.....جواب آیا
....ما خلفک؟
کس چیز نے تجھے پیچھے رکھ لیا؟..... دو لفظ ہی تو تھے لیکن کعب کا دل دہل گیا..
سچ کہوں؟ خاموش رہوں؟ جھوٹ بول دوں؟ ہزار خیالات ان کے دل میں آ کر نکل گئے. نظریں جھکا لیں:
”ہاں مجھے کوئی عذر نہ تھا... رکنے کی کوئی وجہ نہ تھی.“
.....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پھیر لیا....کعب نامراد خالی ہاتھ ، خالی دامن گھر چلے آئے
ان کی محفل سے ہم یوں اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

قبیلے کے لوگ چلے آئے. ملامت کی کہ کیوں سچ بول کے ”عزت“ گنوائی. ایک بارگی تو کعب ڈول گئے کہ ناحق سچ بولا لیکن کسی نے خبر دی کہ دو اور ساتھی بھی سچ پر قائم ہیں. کعب کا دل سچ پر جم گیا.
..کچھ ہی روز میں سب کو کعب سے ترک تعلق کا حکم آ گیا..
مدینہ اجنبی ہو گیا، جن گلیوں میں کھیلے، جوان ہو گئے.. وہ اب پہچانتی بھی نہ تھیں. کہتے ہیں:
”میرے لیےساری زمین ہی بدل گئی. میری اپنی ذات میرے لیے اجنبی بن گئی.“
دل سے ہوک اٹھتی. لیکن بے بسی تھی. شاید جرم بڑا تھا.
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
دن لمبے اور راتیں ویران ہوتی چلیں گئیں لیکن امتحان باقی تھے.

غسان کے بادشاہ نے ان کو خط لکھا کہ:
”ہم سے آن ملو. آ جاؤ ہم تمہیں اپنے اموال میں ساتھی بنا لیں گے، اس ذلت والی جگہ پر نہ رہو.“
کعب تڑپ تڑپ اٹھے. آنکھوں میں آنسو بھر آئے. اللہ یہ وقت بھی آنا تھا. دھیرے سے اٹھے اور بادشاہ کا خط جلتے تنور میں ڈال دیا.
بھٹ پئی شاہی................تے میں یار د دامن پھڑ ساں
..........................مول نہ ھل ساں....

دل کچھ ٹھہر گیا...لیکن کتنے روز؟.
اک روز بے کلی حد سے گذر گئی تو ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پر جا چڑھے.
ہائے وہ ابو قتادہ جو یار تھے. چاچا کے بیٹے تھے. شدید محبت تھی ان سے. یار نے رخ پھیر لیا. کعب نے پھر قسم دے کر پوچھا کہ:
”یار ! تم تو جانتے ہو میں اللہ اور رسول سے پیار کرتا ہوں. بولو نا یار. بولو نا.“
کعب کی آواز نہ تھی درد کی لہر تھی کہ یار کا دل بھی تڑپ اٹھا لیکن دوسری طرف اللہ کے دوست کا حکم تھا. بس اتنا ہی کہہ پائے:
”اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں.“
کعب آنکھوں میں آنسو بھرے واپس پلٹ آئے. ہاں آپ رو پڑے. ہاں ہم مسلمانوں کے پاس ایمان کے سوا کیا ہے.؟ اور وہ بھی صحابی رسول کا ایمان. ستم یہ کہ بچپن کا دوست جو خود صحابی رسول. اور ایمان کی تصدیق سے انکاری..

چالیس روز گذر گئے. امید بندھتی ٹوٹ جاتی. پیام بر آیا. کعب مستعد ہوئے کہ دیکھیے کیا پیام آیا ہے؟
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیویوں سے الگ ہو جاؤ.“
پیغام کو سنتے ہیں نظریں جھک جاتی ہیں کہ ابھی ضبط کے امتحان باقی ہیں....:
”طلاق دے دوں..؟“
”نہیں پاس نہیں جانا“ پیغامبر نے دھیرے سے کہا اور چل دیا.
..آپ گھر داخل ہوئے، .دکھ سکھ کی ساتھی کو کہا کہ والدین کے گھر چلی جائے. اور تنہا کعب گھر میں بیٹھ گئے.
لیں اب وقت آ گیا تھا. مشکل؟.. ارے نہیں بھائی .. اب تو وقت آیا تھا.. کہ کعب تھے اور ان کا رب. بس نہ کوئی دوست نہ رشتہ نہ ساتھ نہ انسان.
بس کعب اور ان کا رب..
دور سے آواز آئی
... ابشر یا کعب ... مبارک ہو کعب...
ہاں جبل سع پر چڑھا کوئی آواز لگا رہا تھا..
”کعب تمہاری توبہ اللہ نے قبول کر لی.. وحی آگئی.“
جو گھڑی بھر پہلے پہچان بھی نہ رہے تھے، وہ کعب کے گھر کو بھاگے. ایک ساتھی نے شان دار گھوڑا بھجوایا. سب خوش تھے. اور دور سے جیسے آواز آ رہی تھی
.....بھٹ پئی شاہی...
...........تے میں یار دا دامن پھڑ ساں
...................مول نہ ھل ساں..
(بادشاہی کو آگ لگے، میں نے اپنے محبوب کا دامن تھاما ہے .اور میں اسے کبھی نہ چھوڑوں گا)

Comments

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ کے مدیر ہیں۔ تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ مجلہ الاخوہ کے مدیر رہے۔ اسلامی موضوعات سے دلچسپی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.