شہر پناہ (2) - سعود عثمانی

ہم گیلری سے نیچے اتر آئے۔ 15 کال آپریٹرز کے شعبے میں۔ بہت بڑی سکرینوں پر مصروف آپریٹرز اور فارغ آپریٹرز کی تفصیلات دکھائی دے رہی تھیں۔ بہت سے آپریٹرز کالز سننے میں مصروف تھے۔ ہر کال کی ریکارڈنگ ہوتی ہے تاکہ بعد میں کام آسکے۔ ابھی میں اس نظام کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اکبر کی بات نے مجھے چونکا دیا۔
ـ”ہمارے پاس ہر روزبے شمار کالز آتی ہیں۔ اکتوبر سے اب تک پندرہ لاکھ بیاسی ہزار کالز آچکی ہیں۔ اور آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ان میں سے صرف ایک لاکھ ساٹھ ہزار کالز ایسی تھیں جن پر واقعی کوئی اقدام کیا جاسکتا تھا۔ باقی چودہ لاکھ بائیس ہزار کالز جعلی کالز تھیں۔ یعنی تقریبا نوّے فیصد۔ فون کال کے کوئی پیسے نہیں ہیں، اس لیے کوئی بھی شخص وقت گزاری کے لیے یا تفریح کے لیے فون کردیتا ہے۔“
خدا کی پناہ۔ نوے فیصد فیک کالز۔ اس کنٹرول سنٹر کو یہیں چھوڑیے، یہ بعد میں دیکھتے ہیں۔ اے گروہ ِ تفریح بازاں! کچھ خدا کا خوف۔ کیا یہ مفت کال اس لیے رکھی گئی ہے کہ آپ اس پر اپنا اور ان کا وقت ضائع کریں۔ اگر اس کال کی قیمت تین روپے بھی رکھ دی جاتی تو اکتوبر سے اب تک پچاس لاکھ روپے کے لگ بھگ سنٹر کو مل جاتے لیکن دوسری طرف بے شمار لوگ مدد کو پکارنے سے رہ جاتے۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یہ نظام اس شخص کو شناخت کرسکتا ہے جس نے کال کی ہے اور ریکارڈنگز کے ساتھ اس گواہی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ڈریں اس وقت سے جب تنگ آ کر یہ فیصلہ کیا جائے کہ اردو محاورے تنگ آمد بجنگ آمد پر عمل کا وقت آگیا ہے۔ براہ کرم اس نظام کو مدد مانگنے والوں کے لیے مخصوص رہنے دیں۔ وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیاکی نگرانی کے لیے ایک اور شعبہ ہے۔ سوشل میڈیا کی چیٹ اور وائس کالز کی بھی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ ایک چیٹ گروپ پر منگل باغ اور ایک اور پر لال مسجد سے متعلق باتیں ہو رہی تھیں۔ نگران عملہ خاموشی سے دیکھتا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ہر ایک کو نہیں، البتہ قابل اعتراض اور مشکوک گفتگو کرنے والوں کے نام اور تفصیلات متعلقہ اداروں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ آگے کارروائی ان کی۔

ہم مرکزی ہال میں سکرینوں کے سامنے اور نگران حلقوں کے درمیان کھڑے تھے۔ ایک بڑی سکرین پر کیمرے نے ایک پارک میں بیٹھے ہوئے شخص پر کیمرہ مرکوز کیا۔ کچھ دیر اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیا جاتا رہا، پھر مطمئن ہوکر پلٹ آیا۔ ایک اور چوک میں ایک سگنل پر رکے ہوئے موٹر سائیکل سوار پر کیمرہ زوم اِن (Zoom in) ہوا۔ موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹ، سوار کے چہرے کے تاثرات تک اور دیگر جزئیات تک واضح تھیں۔ جب کیمرہ مین نے پُل آؤٹ (Pull out) کیا تو اندازہ ہوا کہ کیمرہ کتنی دور نصب تھا۔ اتنی دور سے اتنی اعلی کوالٹی یقینا قابل داد تھی۔ اسی چوک میں کھڑا ہوا سپاہی اتنی جزئیات نہیں دیکھ سکتا تھا جتنا دس کلو میٹر دور سے سکرین پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ ایک اور جگہ دو ٹریفک اہل کار کسی کار سوار کو روکے کھڑے تھے۔ کیمرہ خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا کہ کیا یہ رشوت لے کر اسے جانے دیں گے۔ ایسے کئی کیس اس نظام نے پکڑے بھی ہیں۔ متعلقہ شخص جانتا بھی نہیں کہ اس کی خاموش نگرانی کی جارہی ہے۔ وہ مصرعہ یاد آتا ہے کہ
چپکے چپکے مری جانب نگراں ہے کوئی.

پی پی آئی سی 3 (PPIC3) کا ابھی آغاز ہوا ہے اور تدریجا کام آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے کئی مجوزہ ذیلی نظام عنقریب شروع ہوجائیں گے۔ 15پر فون کرنے والے کو شکایت نمبر دینے کا ارادہ ہے جس کے تحت تھانے میں ایف آئی آر آسان ہوجائے گی۔ وہ کیمرے نصب ہوچکے ہیں جو سرکاری جاری کردہ نمبر پلیٹس پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پرای ٹکٹنگ کے ذریعے چالان گھر بھجوا دیا جائے گا۔ بار بار خلاف ورزی پر سخت کارروائی بھی ہوسکتی ہے ۔ ایف ایم 86.6 کا نظام بنایا جا رہا ہے جس پر ہمہ وقت مختلف سڑکوں پر ٹریفک کی صورت حال معلوم کی جاسکتی ہے۔ فیصل آباد میں سیف سٹیز منصوبے کے سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس کالم کی پہلی قسط کے ساتھ ہی یہ اطلاع ملی کہ پنڈی، ملتان، بہاول پور، سرگودھا اور گوجرانوالہ میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (PSCA) کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اب انتخابات بھی قریب ہیں، اس لیے ان شہروں میں کام کتنی تیزی سے ہوسکے گا، کہا نہیں جا سکتا۔ میاں شہباز شریف کی اس طرف توجہ کم دیکھتے ہی مامور عملہ اپنے رخ بھی دوسری طرف پھیر سکتا ہے۔ جیسا کہ ہوتا رہا ہے۔

یہ بدقسمتی سہی لیکن اکثر و بیشتر ہماری ذہنیت یہ بنتی جا رہی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کام کس نے کیا ہے۔ کیا اس حکومت نے جس کے ہم خلاف ہیں یا اس جماعت کی حکومت نے جس میں ہمیں سب ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ ہم اس کام کی تعریف اور تنقید انہی بنیادوں پر کرنے کے عادی ہوچکے ہیں اور اس میں کوئی اخلاقی قباحت بھی نہیں سمجھتے۔ اب ہماری سیاسی وابستگی یہ تعین کرتی ہے کہ ہمیں اس کام کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ اور لطف یہ کہ جب ہم مختلف ممالک میں قابل تعریف کاموں کے بارے میں رطب اللسان ہوتے ہیں تو یہ نہیں دیکھتے کہ یہ ری پبلکن حکومت نے کیا تھا یا ڈیمو کریٹس نے۔ کنزرویٹو پارٹی نے کیا تھا یا لیبر پارٹی نے۔ اے کے جسٹس پارٹی کا کریڈٹ ہے یا ری پبلکن پیپلز پارٹی کا۔ ہم وہاں اپنی وابستگیوں کے چوغے اتار کر کھونٹیوں پر ٹانگ دیتے ہیں۔ لیکن اپنے ملک کو اور اپنے لوگوں کو بخشنا ہمارے بس سے باہر ہے۔

سیف سٹی کے منصوبے کو اس کا جائز حق، درست پذیرائی ملنی چاہیے۔ اگر اس معاملے میں شفافیت پر کوئی دھبہ لگا ہے تو وہ بھی ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ اس کی کارکردگی کو بھی پرکھنا چاہیے۔ ساڑھے تیرہ ارب روپے عوام کی جیبوں سے گئے ہیں اور انہیں اس کے بارے میں پوچھنے کا حق ہے۔ دوسروں کی طرح مجھے بھی یہ حق ہے اور میرے ذاتی طور پراس نظام کے بارے میں کچھ تحفظات موجود ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان پر غور ہونا چاہیے۔ لیکن ان سوالات سے پہلے ایک عمومی تاثر ذکر کرتا چلوں۔ ہمارے یہاں عمارتیں، بسیں،گاڑیاں بہت مہنگے سرکاری بجٹ سے تیار ہوجاتی ہیں۔ ادارے کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ پہلے چند مہینوں میں ان کی جگمگاہٹ اور نظام قابل دید ہوتا ہے۔ چند سال بعد انہی عمارتوں میں جاکر دیکھیے، باتھ روم تک جانے کے قابل نہیں ہوتے۔ یہ گاڑیاں اور بسیں ملبے کا ڈھیر بنی لوہے کے قبرستانوں میں پڑی ہوتی ہیں۔ انہیں مسلسل کارآمد رکھنے کا کوئی نظام ہوتا ہی نہیں اور اگر ہوتا ہے تو کوئی اس حالت کا ذمے دار نہیں بنتا۔ کیا یہ سیف سٹی پراجیکٹ سال خوردگی سے بچ سکے گا؟

اس بنیادی بات کے بعد پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہونے کے بعد شہر میں جرائم کی شرح کتنی کم ہوسکی؟ کیا سٹریٹ کرائم کم ہوئے؟ کیا جرم ہونے سے پیشتر لوگ پکڑے گئے؟ کیا ڈیڑھ کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہر میں دوہزار پبلک یا حساس مقامات پر کیمرے لگانے سے شہر کا احاطہ ہوسکے گا؟ جرائم کا معاملہ یہ ہے کہ جرم وہ گنا جاتا ہے جس کی رپورٹ یا ایف آئی آر درج ہوچکی ہو۔ سینکڑوں جرائم کی رپورٹ ہوتی ہی نہیں ہے۔ لہذا جب تک عام آدمی کو واضح طور پر یہ محسوس نہ ہو کہ وارداتوں میں نمایاں فرق پڑگیا ہے، اس تمام جمع خرچ کا عملی فائدہ کچھ بھی نہیں۔ رپورٹس اور ایف آئی آر میں کتنی کمی واقعی ہوئی، یہ اعداد و شمار بتانے سے حکام فی الوقت قاصر ہیں۔ ضرورت ہے کہ وقتا فوقتا یہ مستند اعداد و شمار شائع کیے جائیں تاکہ حتمی نتیجہ معلوم ہوسکے۔

دوسرا اہم بلکہ سنگین مسئلہ لوگوں کی پرائیویسی کا ہے۔ ذاتی مصروفیات کی نگرانی کسی بھی جدید ترین معاشرے میں پسندیدہ نہیں ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کھڑکیوں اور دروازوں کے اندر نہ جھانکا جائے۔ اسی لیے گلیوں اور رہائشی علاقوں میں کیمرے عام طور پر نہیں لگائے گئے۔ تاہم گنجان اور نیم تجارتی علاقوں میں یہ امکان موجود ہے۔ لیکن پبلک مقامات، چوراہوں اور پارکوں میں بھی یہ معاملہ بہت حساس ہے۔ فرض کیجیے کوئی ایسے مرد اور عورت کسی علاقے میں اکٹھے دیکھے جاتے ہیں جن کے پاس اکٹھا ہونے کا معاشرتی، قانونی اور مذہبی جواز نہیں ہے اور انہیں یہ اندازہ بھی نہیں کہ انہیں دیکھا جارہا ہے۔ اس سنٹر میں کوئی اہلکار انہیں جانتا پہچانتا ہے اور ان کی ویڈیو فوٹیج اپنے موبائل میں محفوظ کرلیتا ہے یا سنٹر کی دفتری ریکارڈ کی ویڈیو کسی طرح باہر نکل جاتی ہے تو جو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، وہ آپ سوچ سکتے ہیں۔ لوگ تو غیرت کے نام پر محض شبہ کی صورت میں قتل کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں کجا یہ کہ ویڈیو ثبوت۔

آج ادارے کے سربراہان کی طرف سے سخت چیکنگ موجود ہے۔ آج سینکڑوں دیانت دار نگران موجود ہیں لیکن یہ لوگ ہمیشہ یہاں نہیں رہیں گے۔ کوئی افسر، کوئی ماتحت، کوئی نگران ایسا آسکتا ہے جو سب کے سر جھکا دے اور اس نظام پر بڑے سوال اٹھ کھڑے ہوں۔ شخصیات آتی جاتی رہیں گی لیکن ایک ایسا بے عیب اور بے نقص نظام لازما درکار ہے جو اس ممکنہ خطرے کو روک سکے۔ اور یہ سد باب بھی انہی افسران کے ذمے ہے۔

اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا اس سے پولیس کی بدنام روایتی ذہنیت کا خاتمہ ہوجائے گا؟ کیا تھانہ کلچر سے لوگوں کو نجات مل جائے گی۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ ایک آغاز ہو سکتا ہے لیکن اس سے یہ امید نہیں رکھی جاسکتی۔ دیکھیے ایک شخص نے شدید ضرورت پر مدد کے لیے 15 کو فون کیا، نظام حرکت میں آیا اور آٹھ دس منٹ کے اندر مددگار اس تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد جو بھی معاملہ ہوگا، ڈالفن یا پیرو فورس کا مددگار ممکنہ مدد کے بعد متعلقہ تھانے کو بلائے گا اور معاملہ اس کے سپرد ہوجائے گا۔ اس سے زیادہ وہ مدد کے قابل ہے ہی نہیں۔ اور وہی روایتی تھانہ، وہی روایتی حربے اور وہی روایتی تفتیش۔ بعد کا عذاب تو اسی طرح برقرار ہے۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ لاہور کے 100 تھانوں میں بتدریج بیس پچیس تھانے ہر سال بدل دیے جاتے. ان کی عمارتیں، ان کی پولیس، ان کی تنخواہیں، ان کی تعلیم اور ان کی تربیت الگ ہوتی اور وہ لوگوں سے پنجاب پولیس والا سلوک نہ کرتے۔ وردی بدل دی گئی مگر کیا ذہنیت بھی بدل گئی۔

کوئی میاں شہبازشریف، کوئی کیپٹن (ر) امین وینس، کوئی اکبر ناصر خان ہے جس کی قسمت میں یہ اعزاز لکھا ہو۔ قسمت بدل دینے والا اعزاز۔ ذاتی قسمت ہی نہیں قوم کی بھی۔

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.