خود پر گزری حقیقت - فرح رضوان

میں یہاں صرف واقعات ہی تحریر کر رہی ہوں کیونکہ ہر واقعے کی گہرائی، وضاحت اور مماثلت میں جانے سے بات بہت طویل ہو جائے گی، لیکن اشارتا کچھ حصوں پر * مارک کر رہی ہوں تاکہ کوئی روانی میں بھی پڑ ھے تب بھی * پر رک کر اس استعارہ پر غور کرسکے. اللہ کرے کہ ہم سب کے لیے سفر کا یہ احوال، سبق آموز ثابت ہو..

کئی سال پہلے ہم ملائشیا میں مقیم تھے، اسلامی ممالک میں جو کچھ تیسرے درجے کے شہری کے ساتھ ہوتا ہے، وہ سب بھگت کر تھک چکے تھے، کہ شکر ہے کہ کینیڈا کے پیپرز آگئے، لیکن وہاں جانے کے انتظامات میں تاخیر کچھ زیادہ ہی ہوگئی، اور شدید رش کا سیزن آگیا. اب سیٹ ملنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہو چلا تھا کہ خوش نصیبی سے ڈیڈ لائن سے کچھ دن پہلے دو سیٹس مل گئیں. میاں تو خیر، پہلے ہی وہاں جا کر ہمارے لیے رہائش کا بندوبست کر کے آ چکے تھے، اب ان کو یہاں کا بزنس سمیٹنا تھا. لہٰذا، میں پہلی بار کینیڈا اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ روانہ ہوئی، میرے میاں ہم دونوں کو ائیر پورٹ چھوڑنے آئے تو ہم تینوں ایک دوسرے کے لیے بہت فکر مند تھے، بیٹے اور مجھے فکر تھی کہ وہ اکیلے کیسے رہیں گے، انہیں فکر کہ ہم دونوں پہلی بار کینیڈا جا رہے ہیں، بیچ میں جہاز بھی تبدیل ہوگا، ساتھ ہی ہدایات جاری تھیں، پاسپورٹ سامنے ہی رکھنا، لینڈنگ پیپرز سیدھے رکھنا تاکہ مڑیں نہیں، جہاز میں بیٹھ کر یہ کرنا وہاں پہنچ کر وہ کرنا.

یہ اس زمانے کی بات ہے جب دھکے پر انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا جاتا تھا اور جہاز میں ایک شخص دو ہینڈ کیری لے کر جا سکتا تھا، لہٰذا دو عدد میرے پاس، دو بیٹے کے پاس تھے، میرے پاس ایک بیگ میں قرآن پاک تھے، جن کی حفاظت و احترام لازمی تھا، باقی تین بیگز میں کچھ فوری ضرورت کا، اور کچھ نازک سامان تھا. لیکن جوں ہی ہم بورڈنگ کے لیے لائن میں لگے، پتہ چلا کہ جناب! پچھلے ہفتے قانون بدل چکا ہے، اب سے صرف ایک ہی ہینڈ بیگ جاسکتا ہے. ہم پاکستان میں تو تھے نہیں کہ کوئی فون وغیرہ سے بات بن جاتی. *دوسری جانب گراؤنڈ پر موجود درشت اور سخت گیر عملہ اپنے مؤقف پر جما ہوا تھا کہ ائیر پورٹ کے *اس قانون سے لاعلمی ان کا نہیں، ہمارا مسئلہ ہے، *سوٹ کیس تو پہلے ہی بمشکل بند کیے تھے، ان کو سر راہ کھولنا ایک بدترین حماقت ثابت ہوتی، جب بحث مباحثہ اور منت سماجت کسی کام نہ آئی، تو ہم نے ہار مان کر گھٹنے ٹیک دیے کہ *ان کی بادشاہت تھی، ان کا حکم ہی چلے گا، اب باری تھی کہ کون سا بیگ دیا جائے، وقت بہت کم رہ گیا تھا، فوری فیصلے میں یہ طے پایا کہ فوری ضرورت کا سامان رکھ لیا جائے، قرآن؟ میرا روزانہ والا، بڑے حروف والا، ترجمے والا، امی والا؟؟ اور یہاں خالی گھر میں ان کو کون پڑھے گا بھلا؟ فوری جواب یہ آیا ذہن میں کہ قرآن میں میرا تیرا کیا، یہ تو ہر جگہ مل بھی جائے گا، اور ایک سا ہی ہوگا، اور جو یہاں چھوڑ جائیں گے وہ فلاں اور فلاں کو ہدیہ بھی کیا جاسکتا ہے، سو ......قرآن والا بیگ ....
*جس کا وزن بھی بہت تھا، میاں کو دے دیا.

پھر جلدی سے بورڈنگ پاس لیا تو پتہ چلا کہ ائیرپورٹ کے آخری سرے پر ہمارا گیٹ ہے تو پھر لگائی دوڑ. اتنا دوڑے کہ سانس پھول گیا، رش کا وہ عالم کہ اللہ کی پناہ اور دوڑ لگتی رہی یہاں تک کہ گیٹ پر پہنچے تو وہ بند ملا اور اتنے شور میں ایک اناؤنسمنٹ پر کان کھڑے ہوئے کہ گیٹ بدل گیا ہے. اب واپس الٹا دوڑنا تھا، *بےترتیب اپنی اپنی سمت رواں دواں اس ہجوم میں اپنا آپ ایک گم گشتہ چیونٹی جیسا لگ رہا تھا، بھاگتے بھاگتے سانس خشک ہو گیا تھا مگر رکنے کا وقت تھا نہ پانی پینے کا. دوڑتے ہوئے مجھ سے ایک لڑکی ٹکرا گئی، اور میں اس کے کاندھوں پر جھول سی گئی، وہ شرمندہ ہو کر مجھ سے سوری کر رہی تھی اور میں اس کا شکریہ، کیوں کہ مجھے اس وقت اس کے کندھوں کا لمحاتی سہارا بھی بہت نعمت محسوس ہو رہا تھا. اگلے لمحے ہم پھر بھاگنا شروع ہو گئے اور اللہ اللہ کر کے گیٹ کھلنے سے کچھ منٹ قبل لاؤنج تک پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گئے، یوں لگا جیسے تمام تر توانائی خرچ کر کے جیت اپنے نام کر لی ہو.

جب سانس بحال ہوئی تو میں نے بیٹے سے کہا کہ ہمیں اب وقت سے پہلے ہی آرگنائز ہو جانا چاہیے، پاسپورٹ کا کام تو ہو چکا، لینڈنگ پیپرز اوپر کی طرف رکھ لیتے ہیں، لینڈنگ پیپرز ؟.. اوہ ہ ہ خدایا! وہ تو اس قرآن والے بیگ میں ڈال دیے تھے کہ اس بیگ کو جتنے احترام سے رکھا ہوا تھا تو اس میں وہ فائل سیدھی رہے گی. اور اب... دماغ پر تابڑ توڑ سوالات کی بوچھاڑ سے ذہن ماؤف ہو چلا تھا، میری حالت دیکھ کر بیٹے نے سارا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر پہلے گراؤنڈ سٹاف کو صورت حال بتائی، ان کی اجازت سے ان ہی کے فون سے اپنے ابو کو کال کی تو وہ اتنی دیر میں *ائیرپورٹ سے بہت دور جا چکے تھے۔ لیکن یہاں پر عملہ نسبتا با اخلاق اور مددگار ثابت ہوا کہ انہوں نے ہم سے آخری پسنجر تک انتظار کرنے کا وعدہ کر لیا، *ایک ایک لمحہ اس وقت اس قدر قیمتی تھا کہ کچھ حد نہیں، پھر *گیٹ کھلنے کا اعلان، لوگوں کا اس پر جھپٹنا، *ہمارا سب کچھ ہونے کے بعد بھی مفلسی کا شکار ہو کر اس کھلے دروازے کا اہل نہ رہ پانا، *حسرت سے گزرتے لمحوں کو روکنے کی امید کے ساتھ دعائیں کرنا، میاں کا واپس ائیرپورٹ کا سفر، مسافروں کی لگاتار آمد اور بلآخر پورے ہال کا خالی ہو جانا،گراؤنڈ سٹاف کا ہمیں دیکھ کر نفی میں سر ہلا دینا کہ آج کوئی کسی کام نہیں آنے والا، میرا (اس وادی اعراف پر کھڑے) یہ سوچ کر دم نکلتے چلے جانا کہ اگلی فلائٹ وقت پر مل سکے گی؟ ابھی کے اتنے مہنگے ٹکٹس کا کیا بنے گا؟ (قابل قبول ہوں گے یا مسترد کر دیے جائیں گے) کب؟ کیا؟ کیوں؟ والے تمام سوالوں میں سے ایک کا جواب میرے پاس تھا اور وہ تھا کیوں؟ اور یہی کیوں؟ اب میرے ضمیر کی سب سے طاقتور آواز بنا ہوا تھا کہ کیوں میں نے اپنے نفس کا کہا مان کر اپنا قرآن والا بیگ دے دیا؟ کیسے میری عقل پر پردہ پڑ گیا؟، *شاید وہ محض چند لمحے تھے جب میں نے اپنے کاندھوں سے بیگ کا وزن ہلکا محسوس کیا ہو، لیکن تب سے اب تک ہم ائیرپورٹ کے اس میدان حشر میں بھوکے پیاسے خوار و خراب دوڑے چلے جا رہے ہیں. اور اب وہ فیصلہ کن گھڑی آچکی تھی. *جب بھرے ہوئے جہاز سے، ہمارا سامان آف لوڈ کیا جارہا تھا،* بےبسی اور ریجیکشن کا عجیب احساس ذلت تھا.

لیکن اللہ کا احسان کہ اسی کاؤنٹر پر اس سٹاف نے ہماری ایک دن بعد کی فلائٹ بک کر دی، میں تو کافی حواس باختہ تھی لیکن بیٹے کو یاد تھا تو اس نے سیٹس کے ساتھ ہی حلال فوڈ کی ریکویسٹ بھی شامل کی جو انہوں نے ہمارے سامنے اوکے کی، بہرحال اس شہر میں بھی ابھی کچھ رزق باقی تھا سو اپنا مسترد شدہ سامان لیا اور واپس گھر روانہ ہو گئے، راستے بھر ٹکٹ مل جانے پر شکر تو کیا ہی لیکن ساتھ ہی کچھ باتوں کی بازگشت ذہن میں گونجتی رہی کہ *ذرا سا excess baggage دنیا میں اتنے دکھ، ذلت اور محنت کے اکارت ہونے کا سبب بن گیا. * دنیا کے صرف ایک قاعدے یا قانون سے ناواقفیت کا اتنا نقصان اٹھانا پڑا ! اس روز کیا ہوگا جب بات ہمیشہ ہمیشہ کی ہوگی اور اس سے کہیں زیادہ سخت گیر فرشتے حشر کے میدان میں تعینات ہوں گے؟ ذہن میں یہ باتیں جاری تھیں کہ گھر آگیا، میں نے پہلی فرصت میں قرآن والے بیگ کی کچھ کتابیں نکال کر اسے لے جانے کے لیے تیار کیا اور ایک دن کے وقفے کے بعد پھر سفر کا آغاز ہوا۔

یوں تو میں نے اپنی حرکت پر بہت توبہ بھی کی تھی اور امید ہے کہ قبول بھی ہوئی ہوگی کہ اللہ رب العزت نہایت مہربان ہے، لیکن اس کے سکھانے کے طریقے بھی تو بڑے انوکھے ہیں۔ *نہ تو وہ دو دن ہی سکون سے گزر پائے نہ ہی یہ سفر۔ کچھ تو طبعیت اچانک خراب ہوگئی، اور باقی کسر زمین و آسمان کے بیچ جہاز کے برزخ میں بھوک سے بلبلا کر پوری ہو گئی کیونکہ دوران پرواز جب کھانے کا وقت ہوا تو کریو نے ہمارے حلال کھانا طلب کرنے پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے معذرت فرمالی. ہم نے سوچا کہ کوئی گل نہیں stay کے دوران کچھ دیکھ لیں گے مگر اس ائیرپورٹ پر تو حلال کا تصور ناپید تھا، وہاں جہاز تو بدلا، مگر حالات نہ بدلے، 24گھنٹے کے اس سفر میں کریو ممبرز جب بھی کھانا لاتے، ہم دونوں ہی کا دل نہیں مانتا اور ہم انکار کر دیتے. اب تو یاد بھی نہیں کہ اس وقت ائیر پریشر زیادہ تھا یا بلڈ پریشر، بہرحال سفر مکمل ہوا اور منزل مقصود پر پہنچ گئے، اور دیکھا جائے تو یہاں پہنچ کر اصل اندازہ ہوا کہ *شکر ہے ہم بنا لینڈنگ پیپرز کے یہاں نہیں آگئے، کیونکہ یہاں مختلف کیوبیکلز اور کمروں میں لوگوں کے انٹرویو ہو رہے تھے اور جن لوگوں کے ”نامۂ اعمال“ میں ذرا بھی گڑبڑ تھی، ان کو ڈانٹ پھٹکار کر جہنم رسید کیا جارہا تھا، اور ہم تو سرے سے نامہ اعمال یعنی پیپرز کے بغیر ہی روانہ ہو چلے تھے، نہ جانے ہمارا کیا حشر ہوتا.

ہم اُن لوگوں میں سے تھے جو سالہاسال میں اتفاق سے کوئی ایک لیکچر سن لیا کرتے ہیں، یا کچھ خاص سورتیں خاص مقاصد کے حصول کے لیے پڑھ لیتے ہیں، علم یعنی دین کو جاننے کی نہ تو اہمیت جانی تھی کبھی، نہ ہی ضرورت سمجھی، اور افسوس کی بات یہ کہ نہ ہی کبھی اس بات کی خواہش جاگی۔ الحمدللہ مسلمان ہونے کے ناطے قرآن کی سچائی اور برکت پر تو مکمل ایمان تھا، لیکن فیوض اور برکات کا درست علم بھی نہ تھا اور اس سے دوری اور اعراض برتنے کے نقصانات سے واقفیت بھی نہ تھی، نہ ہی اس بات کی وضاحت کہ قرآن کو محض پڑھنا ہی نہیں ہوتا اس پر عمل بھی کرنا ہوتا ہے، یعنی پڑھنا اور عمل کرنا ملا کر تلاوت کہلاتا ہے. لیکن اس سفر کے بعد الحمدللہ بہت سی بہتر تبدیلیاں آتی گئیں.

کئی سال ہو چکے ہیں، لیکن الحمدللہ اب تک یہ سفر صرف یاد ہی نہیں ہے، بلکہ اکثر نئے نئے زاویے سے اس سے سبق ملتے رہتے ہیں. خاص کر سورۂ الاعراف کی تلاوت کے دوران بے شمار مقامات پر اور مفتی اسماعیل مینک کے excess baggage کے عنوان سےایک لیکچر کے دوران تو لگا کہ گویا میرے ہی سفر کی بات ہو رہی ہے.

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.