یہ نئی نسل اور ہماری درس گاہیں - محمدجمیل اختر

ایک نجی چینل کے پروگرام میں پاکستان کی مختلف درس گاہوں کے طلبا و طالبات کو سوال جواب کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ایک پروگرام دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہماری درس گاہیں کتنی معیاری تعلیم دی رہی ہیں اور اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ کیوں ہماری جامعات دنیا کی پانچ سو بہترین جامعات میں شامل نہیں۔ جن بچوں کو مذہب ،سیاست ، تاریخ ، جغرافیہ، ادب ، کھیل غرض کسی بھی شعبے کے بارے معلوم نہ ہو، ان کا کیا بنے گا؟

ایسے ہی ایک پروگرام کا احوال ہے کہ میزبان نے منکر نکیر کے بارے پوچھا تو طلبا کو اس بارے کچھ معلوم نہیں تھا ۔ احمد ندیم قاسمی کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ کون صاحب ہیں، شاید آپ لوگ جانتے ہوں یا شاید کبھی ان کا لکھا پڑھ رکھا ہو؟ لیکن جواب ندارد ۔ پھر اسد عمر کی تصویر دکھائی گئی، نہیں معلوم۔ جہانگیر خان کی تصویر دیکھ کر بھی بچے ( بچےجو یونیورسٹی کے نوجوان تھے ) نہ پہچان پائے کہ یہ کون صاحب ہیں ۔ پروگرام کے میزبان نے بہت سے اشارے بھی دیے کہ یہ صاحب برٹش اوپن جیت چکے ہیں لگاتار 555 میچز جیتنے کا ریکارڈ ہے اور یہ کہ ان کا نام گنیز بک میں بھی درج ہے تو ایک نوجوان نے بہت ذہن پر زور دیا اور جواب تھا " شیر خان " ۔

اب معلوم نہیں یہ شیر خان کونسا سکواش کھلاڑی ہے جس کے بارے تاحال خاکسار کو بھی نہیں معلوم پھر سوال محمد علی باکسر کے بارے تھا جنہیں گھر کی خبریں نہ ہوں وہ باہرکی خبریں خاک رکھیں گے سو یہ بچے محمد علی کو بھی نہیں جانتے تھے۔

تاریخ اور جغرافیے میں ان بچوں نے کچھ نئی معلومات ہم تک پہنچائیں جو یقینا آپ کے لیے بھی نئی ہوں گی وہ یہ کہ ہرن مینار بہاولپور میں ہے اور بہادر شاہ ظفر نے بنوایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

شاعری میں میزبان نے ایک شعر پڑھا کہ یہ کس شاعر کا ہے شعر احمدفراز کا مشہور زمانہ شعر تھا لیکن کیا افسوس صد افسوس کہ یہ نوجوان نسل فراز کو ایک " مزاح نگار " کے طور پر جانتی ہے۔

اس سے اگلا شعر تو بہت ہی مشکل تھا۔ میزبان نے اکبر الہ آبادی کا شعر پڑھ کر کہا کہ یہ کس شاعر کا ہے؟ اب وہ دور کہاں کہ اکبر الہ آبادی کے شعر یاد رکھے جائیں، ہمارے زمانے میں یہ شعر ساتویں آٹھویں میں نصاب کا حصہ تھا جو کہ دراصل نوجوانوں کے لیے ایک سبق بھی ہے :

تم شوق سے کالج میں پھلو، پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو، چرخ پہ جھولو
بس ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

افسوس کہ ہماری درس گاہیں بس اتنی ہی تعلیم دے رہی ہیں کہ بچوں سے پوچھا جا سکے

"ہاں بھئی کونسا ڈبہ کھولوں ؟"

اور بچے دانت نکال کر کہیں:

"آڈیئنس سے مدد لے سکتے ہیں؟"