کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا- ممتاز شیریں

پاکستان میں رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی وی چینلز پہ خصوصی نشریات کا آغاز ہو جاتا ہے خوبصورتی سے سجائے گئے اسٹیج،عظیم الشان سیٹ،لاکھوں روپے مالیت کے انعامات،مذہبی شخصیات اور شو بز کے ستاروں سے سجی نشریات پورے مہینے نہایت شان و شوکت کے ساتھ ناظرین کے اعصاب پر سوار رہتی ہیں۔ ان نشریات کے دوران سب سے زیادہ مقبولیت پروگرام کے اس خاص حصے یا سیگمنٹ کو حاصل ہوتا ہے جس میں ہزاروں روپوں کے انعامات مہمانوں کو"آم" کھانے سے لے کر "تقریری مقابلوں "میں حصہ لے کر "ذلیل" ہونے کے عوض دیے جاتے ہیں۔

روزہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ جو سحر سے مغرب تک رکھا جاتا ہے اس روزے کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی کچھ پابندیاں ہم پر لاگو ہوتی ہیں۔ دوسرا روزہ شعور بیدار ہونے سے لے کر زندگی کے آخری دم تک کا ہوتا ہے اس کی بھی کچھ پابندیاں عائد ہوتی ہیں جس میں سب سے اہم "عزت نفس" ہے اپنی بھی اور اوروں کی بھی۔اپنی خودداری، حیاء اور معاشرتی اور قومی تشخص کو برقرار رکھنا اس شعور کی سب سے پہلی شرط ہے۔

یہ ساری تمہید لکھنے کا سبب وہ کلپ ہے جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور جس میں میزبان ساحر لودھی غیض و غضب کی حالت میں پھنکارتے نظر آرہے ہیں۔ ہم نے بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہ طبع نازک پر کون سی بات گراں گزری ہے؟ یہ کلپ کھولا تو ساحر لودھی کو خوب زور و شور سے گرجتے برستے پایا۔

پوری ویڈیو دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج کی صبا رضوان "میری آواز سارے زمانے کی صدا ہے " کے موضوع پہ تقریر کر رہی تھیں:

عزت نفس کسی شخص کی یہاں محفوظ نہیں
اب تو اپنے ہی نگہبانوں سے ڈر لگتا ہے
ڈنکے کی چوٹ پہ ظالم کو بُرا کہتی ہوں
مجھ کو سولی سے نہ زندانوں سے ڈر لگتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   تبصرہ " میرے پاس تم ہو ‎" - ایمن طارق

صدر عالی وقار! میری آواز سارے زمانے کی صدا ہے، اس سے مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ایک ہی شخص کو پکارنے کا دل کرتا ہے کہ

چور ،لٹیرے،قاتل سارے شہر کے چوکیدار ہوئے ہیں

ہوس کے متوالے بھی دھرتی کے حقدار ہوئے ہیں

کوئی نہیں ہے دیکھنے والا،کوئی نہیں ہے پوچھنے والا،

کن ہاتھوں میں سونپ گئے تم قائد،جان سے پیارا پاکستان،

قائد اعظم آؤ ذرا تم دیکھو اپنا پاکستان۔۔!!

یہاں اس بچی کو "محترم،" "عالی وقار،" "قائد سے بے پناہ محبت کرنے والے" جناب ساحر لودھی صاحب نے روک دیا اور قائد کو" بُرابھلا" کہنے پر خوب ڈانٹ پلائی۔ بچی نے اپنی بات کی وضاحت بھی کرنی چاہی کہ اس نے دراصل قائد کو کچھ نہیں کہا ہے، اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ آج اگر قائد ہوتے تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔وہ قائد کو نہیں معاشرے کو بُرا کہہ رہی تھی لیکن ہمارے محترم میزبان نے قائد کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بٹھانے اور دوسرے معنوں میں اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں تقریر پوری نہیں کرنے دی۔ ساحر صاحب کو کون بتلائے کہ یہ ایک تقریر تھی جو کہ موضوع کی حمایت اور اختلاف دونوں میں کی جا سکتی تھی۔ ساحر صاحب کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ تقریر کو درمیان سے روک دیں۔ دنیا میں تقریر کرنے کا اصول یہ ہے کہ آپ اپنے دلائل بھرپور انداز میں پیش کر سکتے ہیں اور تقریر کے دوران کوئی بھی آپ کو نہیں ٹوک سکتا۔ تقریر ختم ہونے کے بعد آپ اپنا موقف مدلّل طریقے سے لوگوں تک پہنچا سکتے تھے مہمان کی تذلیل کرنا ضروری نہیں تھا۔ جس قائد کی محبت میں ساحر پاگل ہو کر کاٹنے کو دوڑ رہے تھے اس قائد نے ہی سب سے پہلے ایمان، اتحاد، اخلاق نظم و ضبط اور صبر و برداشت کا سبق دیا ہے۔

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

یہ بھی پڑھیں:   ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے -اسماء طارق

افسوس کہ ابلاغ کے اس سب سے اہم شعبے میں نو ٹنکی بھیڑ بکریوں کی طرح داخل ہو گئے ہیں ہر کس و نا کس رمضان پروگرام کر رہا ہے۔ ٹی وی چینلز گویا رمضان اسپیشلسٹ بن گئے ہیں۔ چاند کا اعلان ہوتے ہی گلیمرس چہرے حلیے بدل کر پروگرام کی میزبانی کرتے نظر آتے ہیں۔

رمضان ٹرانسمیشن ہر ٹی وی چینل کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوں یا ملکی انڈسٹریز، سب یہ گُر جانتے ہیں کہ ان کی پروڈکٹ سب سے زیادہ رمضان میں بکے گی۔ لہٰذا ان کی پہلی ڈیمانڈ یہی ہوتی ہے کہ ان کے کمرشلز سحر و افطار میں دکھائے جائیں اس کے لیے وہ چھوٹے سے بڑے ہر قسم کے انعامات بھی دیتے ہیں اور چینلز کو چلانے کے پیسے بھی ،پھر بھلا رمضان ٹرانسمیشن دلکش و رنگین و پر کشش کیوں نہ ہوں۔۔؟ سارے سال کی آمدنی ایک ماہ میں جو نکل آتی ہے۔

اس سارے ہنگامے کا ذمہ ہم ٹی وی چینلز پر ہی نہیں ڈال سکتے۔ اصل وجہ ہم ناظرین بھی ہیں۔ عام دنوں میں لوگ شاید ہی سارا سال اتنے چینلز دیکھتے ہوں جتنے رمضان المبارک کے دنوں میں دیکھتے ہیں۔ روزہ کھولنے کے لیے پہلے ٹی وی پھر محلے کی مسجد سے آنے والی اذان سنی جاتی ہے۔ عوام کم از کم اتنا تو جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں نمازوں ،ذکر و اذکار ،قرآن کی تلاوت ،تراویح اور دیگر مسنون اعمال میں اپنا وقت صرف کرنا چاہیے۔ چینلوں نے میک اپ زدہ خواتین و حضرات کے ذریعے ایسے پروگرام ترتیب دے کر سحر و افطار کے مقدس لمحات میں پیش کردہ پروگراموں میں معنی خیز جملے، فحاشی و عریانی،رقص و سرور شامل کر کے ان چینلز کو بازار بنا دیا ہے اور جو لوگ یہ پروگرامز دیکھتے ہیں وہ بھی تماش بین کی حیثیت سے اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔