جیکب آباد کا گاؤ شالہ - رحمن گل

کچھ دن قبل جیکب آباد میں ریلوے سٹیشن جاتے ہوئے سر راہ ایک شخص (منیش کمار) سے ملاقات ہوئی جو کہ گاؤ شالا کے لیے چندہ اکٹھا کر رہا تھا۔ اس کو دیکھنے پر ایک خوش گوار حیرت کے ساتھ ساتھ ایک جھٹکا بھی لگا۔ وہ یوں کہ آئے دن خبریں شائع ہوتی ہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں۔ یہ ظلم ہو گیا وہ ظلم ہو گیا اور نا جانے کیا کیا باتیں چھپتی رہتی ہیں۔

منیش سے بات چیت کی۔ گاؤ شالا کے بارے میں معلومات لیں۔ ایک سوال پوچھا تو اس کا جواب اس قدر بے باک تھا کہ اپنے سوال پر شرمندگی سی محسوس ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو پاکستان میں مذہبی آزادی میسر ہے تو اس نے کہا کہ اگر میں سر بازار گاؤ شالا کے لیے چندہ جمع کر رہا ہوں تو اس کا کیا مطلب ہے۔ پھر ہم دونوں مسکرا دیے. میں اسٹیشن کی جانب چل دیا اور وہ آگے بڑھ گیا۔

اسٹیشن سے واپسی پر گاؤ شالا کی طرف چلا گیا۔ گاؤ شالا تقریباً چار کنال پر محیط ہے، جس میں مرکزی دفتر سمیت مندر، ایک بڑا سا ہال جس میں سب گائیں چارہ کھاتی ہیں، نر مادہ اور بچھڑوں کو باندھنے کے لیے الگ الگ جگہیں تھیں، اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی موجود ہے. اس گاؤ شالا میں بچھڑوں بیل سمیت تقریباً تین سو پچاس گائیں ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے اٹھارہ ملازم ہیں

گئو شالا کے منتظم سے مذہبی آزادی اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور گاؤ شالا کے انتظامات سے متعلق گپ شپ ہوئی۔ یہاں پر میں نے وہی سوال دہرایا کہ کیا آپ لوگوں کو مذہبی آزادی میسر ہے؟ تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ دیکھیں مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں، آپ امریکہ چلے جائیں، وہاں بھی مسائل ہیں۔ یہاں ہمیں بھی مسائل کا سامنا ہے مگر وہ صرف ہمارے ساتھ مخصوص نہیں۔ ہمیں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ مسائل شدید نوعیت کے نہیں

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، عملی قدم کا وقت ہے - صبا احمد

یہاں ہم اپنے تہوار بغیر کسی خوف کے مناتے ہیں۔ ہماری گائیں سڑکوں پر آزادانہ گھومتی پھرتی ہیں. اس کے بعد ہم نے گاؤ شالا کی سیر کی، انتظامات دیکھے، مندر گئے اور کچھ تصاویر بنائی ہیں، خاص طور پر دلیل کے قارئین کے لیے