مکہ کے پہاڑ اور عامر بھائی والا جہاز - راؤ اسامہ منور

کبھی کبھار اپنے ہاسٹل کی چھت سے اگر نظارہ کروں تو دور مارگلہ کی پہاڑیاں درجنوں کلومیٹر کے فاصلے سے اپنی طرف کھینچتی نظر آتی ہیں، اور ان کی خوبصورتی اپنے سحر میں جکڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے. دنیا میں کہیں بھی دیکھ لیں اکثر جگہ آپ کو پہاڑ اسی طرح کے ملیں گے، خوبصورت اور اپنی طرف متوجہ کرنے والے، لیکن اگر مکہ کے پہاڑوں پہ نظر دوڑائیں (خود تو نہیں گیا کبھی لیکن سنا ایسا ہی ہے) تو یہ ہمیں ویران اور خشک نظر آتے ہیں، جن کی طرف دیکھنے یا خصوصی توجہ دینے کا اتنا جی نہیں چاہتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ مکہ تو اللہ کے نبی کا شہر ہے اور اللہ کا گھر بھی وہیں ہے تو وہاں کی خوبصورتی تو مثالی ہونی چاہیے، لیکن اگر اس بات پہ دھیان سے سوچا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ پہاڑ بھی دیگر جگہوں کی طرح خوبصورتی کا کوئی نمونہ ہوتے تو وہاں عبادت سے زیادہ پکنک شروع ہوجاتی، فیصل مسجد اور بادشاہی مسجد کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

اسی طرح رمضان المبارک میں ٹی وی چینلز پہ مختلف پروگراموں کی صورت میں جو خرافات موجود ہیں، انہوں نے دراصل اس ماہ کا تقدس پامال کردیا ہے، سحر و افطار کے اوقات کو تفریح کا موقع بنا دیا گیا ہے، اور اس سب کو رمضان سپیشل کا نام دے کر گویا گُڑ میں زہر ملا کر دی جا رہی ہے۔ سحری کے اوقات میں لوگ اٹھ کر سحری سے پہلے نوافل ادا کیا کرتے تھے، اب رات والی ”رمضان ٹرانسمیشن“ کی قسط دیکھتے ہیں کہ یہ دیکھنے سے محروم نہ رہ جائیں کہ عامر بھائی والا جہاز کس کو ملا؟ افطار کے اوقات میں سب خاندان والے بیٹھ کر دعائیں کرتے تھے، ایک دوسرے کو ذکر و اذکار یاد کراتے تھے، اور اب اداکاروں کے سنہری اقوال سنتے ہیں، اگر کوئی گھر کا بوڑھا غلطی سے کہہ دے کہ یہ تو فضول لوگ ہیں اور فضول حرکات کر رہے ہیں، اسے مت دیکھو، تو فوراََ سے جواب دیا جاتا ہے کہ جناب یہ تو بڑی شکر ادا کرنے والی بات ہے کہ مؤمنہ مستحسن گانے چھوڑ کر نعت پڑھنے لگ گئی ہے۔

اسی طرح سوشل سائٹس کا معاملہ بھی ہے، ان پہ بھی ہمارا قیمتی وقت کسی نہ کسی صورت صرف ہوجاتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سب (ٹی وی چینلز اور سائٹس) دراصل عبادت کے ماہ کو ایک فیسٹیول بنانے کی سازش ہے، مکہ کے پہاڑوں کی مثال اسی لیے دی، یہ رمضان کی مبارک ساعتیں ہیں، ان میں اللہ کی کبریائی کا احساس ہر چیز پہ غالب ہونا چاہیے جسے سبوتاژ کرنے کے لیے ادھر ادھر کی خرافات ہم پہ مسلط کر دی گئی ہیں اور ہم بڑے شوق سے ان میں گھرے چلے جارہے ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کو صحیح معنوں میں رحمت و مغفرت کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور سازشوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین