ماہِ صیام اور روزے کے مسائل - در صدف ایمان

اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔ (البقرہ ، پارہ 2، آیت 185)

نزول قرآن پاک کی برکت سے اس ماہ مبارک کو یہ فضیلت ملی کہ اس کے لیے جنت آراستہ کی جاتی ہے، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، خطائیں مٹائی جاتی ہیں، سرکش شیطان مقید کر دیے جاتے ہیں، بابِ نار بند کر دیے جاتے ہیں، گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ رب کی منشاء سے جسے چاہے جہنم سے آزادی ملتی ہے۔ دعائیں مستجاب ہو جاتی ہیں۔ نفل و سنت کا ثواب فرائض کے برابر اور فرائض کا ثواب ستر گنا اور بڑھ جاتا ہے۔

رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، اس کا پل پل، لمحہ لمحہ، غرض ہر ساعت انعام عظیم ہے۔ قرآن و حدیث میں اس مبارک ماہ کی بےحد فضیلت بیان کی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا، ’’جب رمضان المبارک آتا ہے، جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے بند کر دیے جاتے ہیں، شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

رمضان المبارک کے حوالے سے بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ رمضان المبارک اور روزے کی فضیلت حدیث مبارکہ کے ان الفاظ سے بخوبی واضح ہو رہی ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
’’ہر چیز کا ایک دروازہ ہے اور عبادت کا دروازہ روزہ ہے۔‘‘
’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں ایک کا نام ’باب الریان‘ ہے اور اس میں سے روزے داروں کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
’’بنی آدم کے اعمال براہ کرم و بندہ نوازی بڑھائے جاتے ہیں، ایک نیکی دو گنا سے سات سو گنا تک سوائے روزے کے۔ پروردگار عالم فرماتا ہے کہ روزے کا اجر و ثواب بے انداز و بے حساب ہے کیونکہ وہ خاص میرے لیے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ بندہ میرے لیے اپنی خواہشات و خواراک کو ترک کرتا ہے۔‘‘

ان احادیث کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں فضل و رحمت کھول دیے جاتے ہیں۔ طلب کرنے والے کے لیے کوئی در بند نہیں ہوتا۔ جس طرح موسمِ ربیع میں ہر طرف بہار چھا جاتی ہے، ہوائیں نکھر جاتی ہیں، ٹھنڈی ہوا چل پڑتی ہے، اسی طرح مؤمنوں کے دل کھول دیے جاتے ہیں۔ جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آتا ہے، فضائیں معطر ہو جاتی ہیں، دل ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، فرش سے عرش تک رحمت ہی رحمت چھا جاتی ہے۔ ہر سو نورانیت کی ایک چادر تن جاتی ہے۔ لیکن رمضان المبارک کی یہ فضیلت بھی ان ہی کے لیے ہے جو ماہ صیام کا احترام کریں۔ کامل روزے کی ادائیگی کریں۔ مکمل طور پر اس کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے، فرض جانتے ہوئے، نور مانتے ہوئے روزہ مکمل کریں۔

روزہ کیا ہے؟
روزے سے مراد یہ ہے کہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانا پینا اور نفسانی خواہشات کو ترک کر دیا جائے۔ روزہ درحقیقت کھانے پینے سے رکنا ہی نہیں بلکہ اپنے آپ کو ہر گناہ، لغو و بے ہودہ مشغلہ سے روکنا ہے۔ روزے دار کا ہر ہر عضو صائم ہوتا ہے۔ کان لغو بات نہ سنے، ممنوعہ راگ، گانے باجے، فلموں، ڈراموں سے بچے۔ زبان گالم گلوچ، جھوٹے قصے، غیبت سے اجتناب کرے۔ ہاتھ گناہ و بے حیائی سے بچے، ٹانگ گناہوں اور بے حیائی و لغو رستہ پر نہ چلے، الغرض تمام فجور سے کنار کر کے یاد الٰہی میں مصروف ذکر الٰہی میں تلاوت قرآن پاک کے کلماتِ خیر سے اپنے آپ کو روشن رکھے۔ تب ہی روزے کا اصل مقصد حاصل کر سکے گا۔
بخاری شریف میں اسی ضمن میں یہ ارشاد ہے: ’’جس نے لغو و باطل بات ، بے ہودہ عمل ترک نہ کیا للہ تعالیٰ کو اس کا خوردو نوش چھوڑنا درکار نہیں۔‘‘
یہ حدیث ان لوگوں کے لیے ہے جو صرف کھانا پینا ترک کر لیتے ہیں باقی کچھ نہیں کرتے۔

روزہ اور اس کے مسائل
* رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہیں، اس کا منکر کافر ہے۔
* مجنون اور نابالغ پر فرض نہیں۔
* مریض شدید اور مسافر پر فی الحال ادا واجب نہیں۔
* مسواک کرنا جائز ہے۔ ( Toothpaste استعمال کرنا جائز نہیں) سرمہ لگانا، عطر لگانا جائز ہے۔
* درد و تکلیف کی صورت میں بام لگانا جائز ہے۔
* کسی شے کا چکھنا اور چبانا بلا عذر مکروہ ہے۔ ( بد مزاج شوہر کے لیے عورت کو کھانا چکھنے کی رخصت ہے)
* کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے مبالغہ کرنا مکروہ ہے۔
*مسافر کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
* کسی نے جان بوجھ کر قصداً روزہ توڑا تو اس کا کفارہ مسلسل ساٹھ (60) روزے رکھنا ہے، ایک روزہ اس کی قضا ساٹھ (60) روزے، کل اکسٹھ (61) رکھے جائیں گے۔
* ایسی بیماری جس میں روزہ توڑنا ضروری ہے تو ایسی صورت میں صحت یاب ہونے کے بعد صرف قضا کیا جائے گا۔
* حالت روزے میں انجکشن لگانے پر دو رائے ہیں؛ بطور دوا لگایا جا سکتا ہے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بطور خوراک استعمال کیا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ علمائے کرام کا اس میں اختلاف ہے، لہذا نہ لگوایا جائے تو بہتر ہے۔
* اگر انسان اتنا بیمار ہو کہ روزہ نہ رکھ سکے تو اتنے روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے جتنے روزے نہیں رکھے ہیں۔
* ذیابیطس میں مبتلا مریض کو اگر بھوکا رہنے سے ذیابیطس بڑھ جانے اور جان کو ضرر پہنچنے کا خدشہ ہو تو اس صورت میں بھی فدیہ دے گا اور صحت یابی کے بعد قضا روزے رکھے گا.
* فدیہ کی رقم علمائے کرام نے صدقہ فطر کے مساوی بیان فرمائی ہے
* زکوٰۃ و صدقہ فطر کی ادائیگی بھی لازم طور پر کی جائے۔ زکوٰۃ مال کا میل ہے اور مال کو جلد از جلد صاف کر لینا چاہیے اور صدقہ فطر واجب ہے، لہذا اس کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔

معتبر روایات کے مطابق ماہ رمضان میں خصوصی رحمتیں بارگاہ خدا وندی سے نازل ہوتی ہیں۔

* رزق کی فروانی
* مال کی زیادتی
* سحری و افطاری کے کھانے کا اجرو ثواب
* دعائے ملائکہ حاصل ہوتی ہے
* باب رحمت کھول دیے جاتے ہیں
* باب نار بند کر دیے جاتے ہیں
* دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔
* جنت کو سجایا جاتا ہے۔
* دوزخیوں کو رہائی ملتی ہے۔
* خوشنودی و رضائے الٰہی حاصل ہوتی ہے۔
* فرض کا بدلہ ستر گناہ ملتا ہے۔