موسم کہانی - نورین تبسم

”ہر بات کہی نہیں جاسکتی، اَن کہی باتیں موسموں کی طرح ہوتی ہیں۔“

موسم سمجھائے نہیں جاتے ”بتِائے“ جاتے ہیں۔ موسم دِکھائی نہیں دیتے محسوس کیے جاتے ہیں، برداشت کیے جاتے ہیں، اور شُکر کا دامن تھام لیا جائے تو اپنے مالک کے لُطف و کرم کو کُھلی آنکھوں سے سمیٹا جا سکتا ہے۔

سال میں آنے والے موسموں کی طرح انسانوں کے اپنے اندر بھی موسم ہوتے ہیں۔ ہر انسان اپنی عمرکے ادوار میں اِن موسموں سے گُزرتا ہے، جن میں کوئی ردوبدل، کوئی ارتقاء نہیں ہوتا۔ فرق صرف ترتیب کا ہے، کسی پر کوئی موسم پہلے اُترتا ہے کسی پر بعد میں۔ درد آشنا وہی ہے جس پر وہ موسم گُزر چُکا ہو۔
جبر اور حبس کا موسم جس پرگزر چکا ہو وہی تپتے آسمان تلے دوسرے انسان کے کرب کو اسی طور محسوس کرسکتا ہے جیسے!
”ٹھنڈے کمروں کے مکیں
لُو دیتی گرم ہوا
کیا جانیں
دُور برگد کے نیچے بیٹھے
مسافر درد آشنا ہیں“

ایک موسم ہڈیوں میں اُترتی برفانی ٹھنڈک کا ہوتا ہے، جس میں اپنے آپ کو جتنا چاہو ڈھانپ لو، اپنے آس پاس لوگوں کا ہجوم بھی ہو لیکن اپنا دُکھ اپنی کپکپی کسی کے ساتھ بانٹی نہیں جاسکتی۔
”گرم کمروں میں
رہنے والے
مکمل انسان ہیں
سرد تنہائی اور اندھیرے سے نا آشنا
آگ تاپتا ہوا شخص
اُس کے پاس وہی جائےگا
جسے حرارت چاہیے.“

سو خوشی اور قرار کا موسم ویسے بھی بہار کےموسم کی طرح ہے، کوئی جانے نہ جانے ہر شے خود پکار اُٹھتی ہے۔ کوئی ساتھ ہو نہ ہو، انسان خود اپنی ذات میں انجمن بن جاتا ہے۔
ایک موسم خزاں کا ہوتا ہے۔ ایسی اُداسی ایسی ویرانی رگ و پے میں اُترتی ہے کہ انسان اپنے آپ سے فرار چاہتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے زندگی کے کینوس پر بکھرے رنگ وقت کی تپش سے گڈ مڈ ہو کر کبھی نہ مٹنے والے عجیب رنگ میں بدل گئے ہوں۔

ایک موسم برسات کا بھی ہے۔ جس میں انسان صبر و شُکر کی نرم پھوار میں یا پھر عنایات کی برستی بارش میں اپنے خالق کے لُطف و کرم کے نظارے دیکھتا ہے، اپنے خالق سے قریب ہوتا جاتا ہے۔ اپنی پور پور میں رچی پیاس بُجھاتا ہے۔ سیری کی کیفیت اُسے نیا جذبہ، نئی توانائی بخشتی ہے۔ پر یوں بھی ہوتا ہے وہ ابرِباراں، نعمتِ خداوندی دیکھتے ہی دیکھتے آفتِ آسمانی میں بدل جاتا ہے۔ آزمائش کی جھڑی رُکنے میں نہیں آتی اور نہ اپنے راستے میں آنے والی کسی شے کی پرواہ کرتی ہے۔ اس کا تباہ کُن اثر اس وقت سامنے آتا ہے جب یہ سیلاب سونامی میں بدل جاتا ہے۔ سیلاب آتے رہتے ہیں، انسان احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنے بچاؤ میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔ سیلاب سے درست طریقے سے نمٹا جائے تو پانی اُترنے کے بعد نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ بند بنا کر اُن کے بےمحابا پانی کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ مگر جب بند ہی ٹوٹ جائے تو سیلاب سونامی میں بدل جاتا ہے، جس کا نتیجہ صرف اور صرف تباہی و بربادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   "ایک تعلق جو ادھورا رہا تھا" - راحت نسیم روحی

یہ تمام موسم دُنیا کے ہر شخص کی زندگی میں اُترتے ہیں لیکن ماحول میں آنے والے موسموں کے برعکس ان کی ترتیب ہر انسان میں اُس کی قسمت، اس کی محنت کے حساب سے ہوتی ہے، کسی پر کوئی موسم پہلے آتا ہے کسی پر بعد میں، کوئی کس موسم کو کس طرح محسوس کرتا ہے، کس طرح برتتا ہے، یہ بھی اُس کا اپنا انداز ہے۔

کسی کے لیے پت جھڑ کا موسم زندگی کا اختتام ہے اور کسی کے لیے ایک نئی زندگی کی ابتدا کا پیغام۔
کسی کو معمولی بارش سیلابِ بلا لگتی ہے، اور کوئی آزمائشوں کی موسلادھار بارش میں صبر و قناعت کی چادر اُوڑھ کر خشک رہتا ہے۔
کوئی بہار کے موسم میں خوش ہوتا ہے، اور کوئی ایسا بدنصیب ہوتا ہے جسے بہار میں پھولوں کے کانٹے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی بہار کا موسم ایسے روگ لگا جاتا ہے کہ سالوں بیت جاتے ہیں، گھٹن کم نہیں ہوتی، سانس یوں رُک سا جاتا ہے کہ کسی پل قرار نہیں آتا۔ کبھی زندگی کی ڈھلتی شامیں جب خزاں کا سندیسہ سناتی ہیں تو گئے موسم میں سمٹی احساس کی خوشبو روح کو مہکا دیتی ہے۔

زندگی موسموں کےآنے جانے کا نام ہے اور موت انھی موسموں کے ٹھہر جانے سے وجود میں آتی ہے۔ زندگی موت کی یہ آنکھ مچولی ہم اپنے آس پاس مظاہرِ فطرت میں ہر آن دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی اپنے جسم و جاں میں اِن کا لمس محسوس کرتے ہیں تو کبھی بنا چکھے بنا دیکھے یوں اِس کا حصہ بن جاتے ہیں کہ سب جان کر بھی کچھ نہیں جان پاتے اور بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی سرسری گزر جاتے ہیں کہ ہماری عقل کی حد ہماری آنکھ کے دائرے سے باہر پرواز کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ خزاں ہو یا بہار، آنکھ کی چمک باقی رہے تو دیکھنے والی آنکھ ہر رنگ میں زندگی کے نقش تلاش کر لیتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   وقت کی اہمیت اور اس کا استعمال - مولانا عثمان الدین

”بدلتا موسم“
موسم بدلتا ہے تو ساتھی بھی بدل جاتے ہیں۔ نئے موسم کا نیا لباس اور نئی ضروریات تو ہوتی ہیں لیکن پُرانے موسم اپنی یادیں اس طور رگوں میں اُتار جاتے ہیں کہ حدّت میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ اور رویوں کی سردمہری میں اپنے وجود کا الاؤ سکون بخشتا ہے۔ کبھی برستی بارشوں میں سارے منظر اجنبی سے لگتے ہیں تو کبھی پت جھڑ کا موسم دل میں ارمانوں کی کونپلیں جگا دیتا ہے۔ چاہے جو بھی ہو ہمارے اندر کا موسم ہی وہ موسم ہے جو بدلتا ہے تو سب کُچھ بدل جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر کے موسم کو سمجھ جائیں اور اس کے لیے تیار بھی ہوں تو زندگی کا سفر سہل ہو جاتا ہے۔

حرفِ آخر
ان کہی باتیں موسم کی طرح ہوتی ہیں۔ موسم بدلتے جاتے ہیں، پھر کیا کہنا کیا روگ لگانا۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.