رمضان المبارک میں کرنے کے 10 کام - فردوس جمال

مرحبا اے ماہ رمضان مرحبا !
اسلام کی عمارت جن پانچ بنیادوں پہ کھڑی ہے، ان میں سے ایک اہم بنیاد ماہ رمضان کے روزے ہیں. یوں تو اسلام کی تمام بنیادیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن آمد رمضان اس لیے بھی مسلمانان عالم کے لیے وجہ مسرت اور باعث خوشی ہوتی ہے کہ سال کے بارہ مہینوں میں یہ ایک مہینہ اپنی دامن میں رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کے بیش بہا تحفے، خزانے اور خزینے سمیٹے آتا ہے اور ہمیں یہ خصوصی موقع بخشتا ہے کہ ہم اپنے دامن کو گناہوں سے پاک کرکے نیکیوں سے بھر دیں.

ماہ رمضان ماہ فوزان ہے، یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے، جس طرح بہار کی آمد مرجھائے پھولوں میں زندگی دوڑا جاتی ہے، خزاں رسیدہ پودے اور درخت اپنا خشک پیرہن اتار کر سبزہ اوڑھ لیتے ہیں، جیسے پھل پھول شجر مسکرا اٹھتے ہیں، چہار سو فضا معطر ہوتی، بعینہ ماہ رمضان دل کی بنجر زمینوں کو سیراب کرتا ہے، بے عملی کے پیکر عصیاں انسان کی زندگی میں عمل اور نیکی کے گلاب اگاتا اور بھلائی کے شگوفے کھلاتا ہے. احساس ندامت کے آنسو و قیام لیل اور صیام نہار سے تقوی کے کھیت کھلیان آباد کرتا ہے. سال کے گیارہ ماہ دنیا کے میلوں جھمیلوں میں پڑ کر رب سے ٹوٹا تعلق پھر سے استوار ہوتا ہے. انسان پھر سے اپنے مقصد تخلیق سے جڑ جاتا ہے، اپنے خالق سے مناجات کرنے لگتا ہے، اپنی دعائے نیم شبی اور آہ صبح گاہی میں اپنے معبود حقیقی کو مناتا ہے. جی! تو وہی سعادت کی گھڑیاں سایہ فگن ہیں، دیکھنا کہیں ماہ رمضان یوں ہی تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہماری زندگیوں کے دریچوں سے گزر نہ جائے اور ہم غفلت میں سوئے پڑے رہیں. جاگیے اس ماہ کا شیڈول ترتیب دیجیے، مثلا ایسی چیزوں کو اپنی شیڈول میں شامل کیجیے.

1- روزانہ کی بنیاد پہ تلاوت قرآن مجید کا اہتمام، (ہوسکے تو ترجمہ اور مختصر تفسیر کے ساتھ ).
2 - پنجگانہ نمازوں میں پہلی صف میں حاضری.
3- نمازوں کے بعد کے مسنون اذکار کی پابندی.
4- مسجد یا انٹرنیٹ سے کسی بھی جید عالم دین کا گھنٹہ آدھ گھنٹے کا کسی بھی اسلامی ٹاپک پر لیکچر سننا.
5- حرمین شریفین کے کسی ایک امام کا انتخاب کرکے کم از کم آخری پارے کی تلاوت انٹرنیٹ سے سنیں اور اس کی روشنی میں نماز میں پڑھی جانے والی اپنی تلاوت اور سورتوں کی اصلاح کریں.
6- اپنے ایسے عزیز و اقارب جن سے کسی وجہ سے ناراضی ہے یا بوجوہ ان سے رابطہ نہیں ہے، ان سے رابطہ کریں، ان کی ناراضگی کو دور کریں.
7- قریبی کسی بھی ہسپتال کا چکر لگائیں اور مریضوں کا حال احوال پوچھیں، ان کی عیادت کریں .
8- ممکن ہو تو کوشش کریں کہ افطاری اپنی فیملی کے ساتھ مل کر ایک ہی دسترخوان پر کریں.
9- اپنے اڑوس پڑوس میں دیکھ لیں کہ کہیں کوئی غریب اور مسکین ایسا تو نہیں جسے افطاری اور سحری میسر نہیں، اس کی افطاری اور سحری کا مقدور بھر انتظام کریں.
10- وقت افطار کی گئی دعاؤں میں امت مسلمہ اور کشمیر و فلسطین کے مجبور و بے بس مسلمانوں کو ضرور یاد رکھیں، پاکستان کی سلامتی اور امن و آشتی کے لیے خصوصی دعا کریں.
(تلك عشرہ كاملہ)
(یہ چیزیں علی باب تمثیل ہیں)

Comments

فردوس جمال

فردوس جمال

فردوس جمال مدینہ منورہ میں مقیم اور مدینہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔ گلگت بلتستان ورلڈ فورم سعودی عرب کے صدر ہیں۔ معاشرتی، سیاسی اور دینی موضوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں