چیمپئنز ٹرافی؛ پاکستانی ٹیم کا کمبی نیشن اور امکانات - محسن حدید

گذشتہ جمعے کو بی بی سی کی ایک سٹوری نظر سے گزری جس میں یونس خان کے انٹرویو کے حوالے سے ایک فقرہ درج تھا کہ پاکستان چمپیئنز ٹرافی کاکوارٹر فائنل تو کھیل ہی جائے گا. چمپئینز ٹرافی سپر ایٹ ٹورنامنٹ ہے، ظاہر ہے اس میں کوارٹر فائنل کا آپشن ہی نہیں ہو سکتا، سو یونس خان کی زبان پھسل گئی ہوگی اور سٹوری بغیر توجہ کے ویسے ہی آن لائن چلی گئی ہوگی لیکن اس دوران پہلے عمر اکمل کے فٹنس ٹیسٹ معاملے کو لے کر جو ہوا، وہ یہی بتاتا ہے کہ ہم جہاں پہنچ سکتے تھے وہاں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں. یہاں تک ہم کیسے پہنچے؟ یہ بھی کافی مضحکہ خیز داستان ہے. ویسٹ انڈیز ہم سے زیادہ نکما تھا سو ہم ٹاپ 8 میں کوالیفائی کر گئے. مزے کی بات یہ ہے کہ ورلڈکپ میں ڈائریکٹ کوالیفکیشن کے لیے بھی ہمیں ویسٹ انڈیز کی مدد درکار ہے جو وہ بخوبی فراہم کر رہے ہیں. یہاں تک پہنچ جانے کے بعد بھی جس طرح کی ہماری تیاری ہے، بظاہر یہ ہمارا پہلا اور آخری راؤنڈ ثابت ہوگا. خود سوچیں کہ جس ٹیم کو ٹورنامنٹ شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے تک یہ ہی نہیں پتا کہ چھٹے نمبر پر اس کے پاس عمر اکمل کا متبادل کون ہوگا؟ اس ٹیم کی تیاری کتنی اچھی ہو سکتی ہے. عمر اکمل کی فٹنس کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، ڈسپلن اور فٹنس کے یہ معاملات اتنی بار پاکستان کرکٹ کو مشکل میں ڈال چکے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے. آخر کوئی پروفیشنل کھلاڑی اتنا لاپرواہ کیسے ہو سکتا ہے.

ہمارے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لیٹ آرڈر میں کوئی ہارڈ ہٹر تیار نہیں کر سکے بلکہ کسی بھی پوزیشن کے لیے ہمارے پاس کوئی متبادل دستیاب نہیں. عامر یامین ایک دو سال سے مسلسل ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، انہیں ٹیم میں شامل نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ بھی موجود نہیں لیکن اب چمپیئنز ٹرافی کے لیے اچانک ایک بالکل نئے اور ناتجربہ کار لڑکے فہیم اشرف کو شامل کر لیا گیا ہے. انہیں ویسٹ انڈیز بھی لے کر گئے تھے لیکن وہاں بھی ان کے حصے میں کوئی میچ نہیں آیا. اب ایک بڑے ٹورنامنٹ میں جہاں ہر میچ اہم ہے، انہیں کھلانے کا کیا ممکنہ نتیجہ نکل سکتا ہے، ہم سب جانتے ہیں. شاداب خان ڈومیسٹک میں اچھی ہٹنگ کرتے تھے، انہیں بھی آزمانے کی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ ایک مہینہ پہلے تک جو ہمارا سب سے بہترین مستقبل کا کھلاڑی کہا جا رہا تھا، اس کے سر پر اخراج کی تلوار لٹکتی رہی. اور میڈیا میں یہ خبر زور و شور سے گردش کرتی رہی کہ پاکستان ٹیم میں شاداب کی جگہ محمد عباس کو شامل کیا جا سکتا ہے.

ٹیم کے پاس 5 فاسٹ باؤلنگ آپشن تو پہلے ہی موجود ہیں، ویسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ محمد حفیظ، شعیب ملک اور عماد وسیم کے ہوتے ہوئے کیا شاداب کو کھلایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ یہ انگلش پچز ویسٹ انڈیز اور یو اے ای سے بالکل مختلف ہیں. اب تک شاداب کی ساری اچھی پرفارمنسز انہی میدانوں میں آئی ہیں. اگر عماد یا شاداب میں سے کوئی ایک کھلاڑی چننا پڑا تو یقیننا قرعہ عماد کے نام نکلے گا کیونکہ وہ اچھے بلے باز بھی ہیں اور باؤلنگ میں رنز روکنے کے بھی ماہر ہیں. اس سے پہلے بھی انگلش کنڈیشنز میں اچھی پرفارمنس دے چکے ہیں بلکہ وہ برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے ہیں، سو انگلش اور ویلز کنڈٰشنز کو بخوبی سمجھتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   افغان پاکستانیوں کو کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

ٹیم میں ایک افراتفری کا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے. پہلی بار ایسا دیکھنے میں آ رہا ہے کہ سوائے ون ڈاؤن پوزیشن کے ہر نمبر پر غیر یقینی صورت حال ہے، کمبی نیشن کیا ہو سکتا ہے، اس پر ابھی بھی زوروشور سے بحث جاری ہے. کپتان سرفراز کا یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ ہے، انہیں جب ذمہ داریاں ملیں تو وہ کافی چوکس نظر آئے تھے، لیکن اب لگتا ہے کہ وہ کپتانی انجوائے نہیں کر پا رہے، کپتانی پہ توجہ کم دے رہے ہیں اور شور زیادہ مچا رہے ہیں. سب سے زیادہ مصیبت ان کی بری کیپنگ نے بنا دی ہے، اوپر سے بیٹنگ آرڈر میں وہ چھٹے نمبر پر آرہے ہیں لیکن ان کی بیٹنگ صلاحیت اس نمبر سے انصاف نہیں کر پا رہی. ان سے بڑے شاٹ نہیں لگ پاتے جس وجہ سے ہر کوئی انہیں اوپر بیٹنگ کرنے کا مشورہ دے رہا ہے. عمر اکمل کے جانے بعد حارث سہیل کے زیادہ چانسز لگ رہے ہیں، حارث بھی قطعا ایسے بلے باز نہیں جو نمبر 6 پر بیٹنگ کر سکیں. شعیب ملک نمبر 5 پر اچھی بلے بازی کر رہے ہیں اور اس بیٹنگ لائن میں سب سے اہم مہرہ بھی وہی ہیں. انہیں اس سے نیچے بھیج کر آپ بہت دیر کر دیں گے. لگتا ہے کہ فخر زمان کو ایک بار پھر قربانی دینا ہوگی. ٹی 20 سیریز میں بھی ان کے ساتھ یہی ہوا تھا. احمد شہزاد، محمد حفیظ اور اظہرعلی کے ہوتے ہوئے اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ انہیں بطور اوپنر آزمایا جائے. ویسے بھی ڈومیسٹک میں اپنی لیگ سائیڈ پر سلاگ کرنے کی خوبی کی وجہ سے فخر زمان پر مینیجمنٹ کا دھیان جا سکتا ہے کہ انہیں عمر اکمل والی ذمہ داری دی جائے. یہ ایک امکان ہو سکتا ہے اور اگر یہ کلک کر گیا تو پاکستان کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ایک سپیشلسٹ اوپننگ بلے باز کو بطور ہارڈ ہٹر آزمانے کا فیصلہ بہرحال ایک جوئے سے کم نہیں ہوگا، مگر ایسا جوا کھیلا جا سکتا ہے کیونکہ نمبر 6 پر بیٹنگ کرنے والے سرفراز سے بہرحال یہ بہتر فیصلہ ہوسکتا ہے. محمد حفیظ اگر دلیری کا مظاہرہ کریں تو وہ بھی نمبر 6 پر سرفراز احمد یا حارث سہیل سے اچھا آپشن ہو سکتے ہیں. یہ البتہ مشکل امر ہے کہ ایک انڈر پریشر محمد حفیظ ایسا کرے گا.

مصیبت یہ ہے کہ جوڑ توڑ کرکے ایک بیٹنگ آرڈر بن بھی جائے تو وہ 300 سے زیادہ رنز والا نہیں بن پائے گا، اور آج کل جس طرح کی کرکٹ ہو رہی ہے، وہاں 300 سے کم کا سکور ناقابل دفاع ہے. اب ہماری باؤلنگ بھی وہ نہیں رہی بلکہ اگر کہا جائے کہ تاریخ میں اتنا کمزور باؤلنگ اٹیک پاکستان نے کبھی کسی بڑے ٹورنامنٹ میں نہیں بھیجا تو غلط نہ ہوگا. وہاب ریاض پچھلے سال کے تباہ کن دورہ انگلینڈ کو نہیں بھولے ہوں گے. اسی باؤلنگ اٹیک کو ون ڈے تاریخ کی سب سے بڑی دھلائی کا صدمہ جھیلنا پڑا تھا اور وہاب ریاض اس میچ میں سب سے زیادہ ٹارگٹ بنے تھے. اس سال ویسٹ انڈیز کی کمزور ترین بیٹنگ سائیڈ نے بھی ہمارے خلاف 300 سے زیادہ کا ہدف بہت آسانی سے بنا دیا تھا. حسن علی البتہ انگلینڈ کی کنڈیشن میں اچھا باؤلر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وہ براوو کی طرح دماغ لڑاتا ہے اور پاکستان میں ٹینس بال کرکٹ کی اندھا دھند مار کٹائی سے نبرد آزما ہونے کے تمام گر جانتا ہے، اسی وجہ سے محدود اوورز میں اس کی کارکردگی دن بدن نکھر رہی ہے. شاید ڈیتھ اوورز میں بھی وہی سب سے کارآمد ثابت ہوگا. ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگ میں جس طرح حسن علی ایک ڈیڈ پچ پر ٹائٹ باؤلنگ کر کے ویسٹ انڈیز پر دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، اس بات نے نوجوان کھلاڑی کی سیکھنے کی صلاحیتوں پر اعتماد بہت بڑھا دیا ہے، انہوں نے ٹیسٹ میچ میں گیند کو نارمل سوئنگ کے ساتھ ریورس بھی بڑی مہارت کے ساتھ کیا ہے، سو امید رکھنے میں حرج کوئی نہیں تاہم سفید گیند اور دونوں اینڈز سے نئی گیند کا استعمال ریورس میں کتنی مدد کرتا ہے، یہ قابل غور ہوگا. ٹیسٹ میں حسن علی نے بہت اچھے یارکرز بھی پھینکے، ایک اچھا یارکر آج کی کرکٹ میں بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنی کوئی دوسری ڈلیوری ہو سکتی ہے. بہت سال پہلے جنید خان کو لنکا شائر نے وسیم اکرم کے کہنے پر ٹیم میں شامل کیا تھا اور پھر دنیا نے ایک بہترین فاسٹ باؤلر دیکھا. گذشتہ دورہ انگلینڈ میں جنید خان نے یہ شکوہ کیا تھا کہ یو اے ای کی آسان پچز پر مجھے کھلاتے ہیں جبکہ انگلینڈ کی مددگار کنڈیشنز میں ٹیم سے نکال دیتے ہیں، اب انہیں موقع مل رہا ہے دیکھتے ہیں وہ ڈیلیور کر پاتے ہیں یا نہیں. عامر کے کیرئیر کا عروج انگلینڈ میں ہی نظر آیا تھا، کاش ان کے کیرئیر کی نئی اٹھان بھی یہیں سے شروع ہو سکے.

یہ بھی پڑھیں:   برطانیہ میں ٹیکس کے بدلے کیا ملتا ہے؟ فیصل تنولی

ایک چیز پاکستان کے حق میں جاتی ہے کہ ہم جب بھی انڈر ڈاگز کی حیثیت سے میدان میں اترے ہیں، اچھا کھیلے ہیں. ٹیکنیکل بنیادوں پر بات کی جائے تو بہت زیادہ پر امید ہونے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی، لیکن پاکستان ٹیم کے ساتھ ناقابل یقین ہونے کا جو تاثر جڑا ہے، یہ ایک امید قائم ضرور رکھتا ہے.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.