لٹریچر، سائنس اور بیٹے کی ذہانت - آفاق احمد

بیٹا! سائنس تومجھ سے پڑھتے رہتے ہو، لٹریچر کیسا جا رہا ہے۔ پروفیسرجارج مرے اپنے بیٹے سے پوچھ رہے تھے۔
ڈیڈی! لٹریچر کا کیا کہنا؛ شیکسپیئر، دانتے، ورڈزورتھ، شیلے، جان کیٹس، لارڈ بائرن، میں تو سحر زدہ ہوچکا ہوں، دن رات ایک عجیب سحر ہے جو مجھے اپنے حصار میں جکڑے رہتا ہے۔ ایلن نے اپنے والد کو جواب دیتے ہوئے کہا۔
شاباش! مجھے اپنے بیٹے سے یہی امید تھی۔ پروفیسر جارج مرے کا چہرہ اپنے بیٹے کی قابلیت دیکھ کر خوشی سے تمتما اُٹھا۔
اور ڈیڈی! لٹریچر کے پیچھے چلتا چلتا میں یونانی ادب تک بھی جا پہنچا ہوں۔ نابینا شاعر ہومر نے مجھے صدیوں بعد اپنے الفاظ کی قوت سے سرشار کردیا ہے۔ ایلن نے لطف لیتے ہوئے کہا۔
پروفیسر جارج مرے اپنے بیٹے ایلن کی شکل میں مستقبل کا ایک بہت بڑا انٹیلکچوئل دیکھ رہے تھے۔
بیٹا جو بھی کتابیں چاہیے ہوں، جتنی بھی مہنگی ہوں، جس مرضی علاقے سے منگوانی ہوں، بے فکر ہوکر بتانا۔ یہ ایسا پیکج تھا جو پروفیسر صاحب اپنے بیٹے کی ذہانت کو بھانپتے ہوئے دیتے رہتے تھے۔
جی ڈیڈی ضرور! کل ہی میری بارہ نئی کتابیں آچکی ہیں۔ ایلن نے جواب دیا۔
......................................

ویک اینڈ پر ایلن نے خاص طور پر ڈیڈی کو اپنے کمرے میں بلایا، وہ انھیں ایک سرپرائز دینا چاہ رہا تھا۔
کمرے کے درمیان میں ایک بڑا گتے کا ڈبہ پڑا تھا۔
ڈیڈی! کچھ دنوں سے میں ہومر، دانتے اور شیکسپیئر کوپڑھ رہا ہوں، آج کل سکول بھی بند ہے، دن رات میں پڑھتا ہوں، سوچتا ہوں اور سردُھنتا رہتا ہوں۔ ایلن جوش کے انداز میں باپ کو بتا رہا تھا۔
میں نے ہومر کی Odyssey، دانتے کی Divine Comedy اور شیکسپیئر کا Hamlet بطورِ خاص پڑھا ہے اور بار بار پڑھا ہے، ان تخلیقات کی عظمت سے میں متاثر ہو چکا، اب توخواب میں بھی یہی دیکھتا ہوں۔ ایلن جوش میں بولے جا رہا تھا اور پروفیسر جارج مرے اسے محبت سے دیکھے جارہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   خود ترسی کے نشے سے چھٹکارا کیسے؟ میاں جمشید

یہ دیکھیں ڈیڈی! میں نے اس ڈبے میں ان تینوں تخلیقات کا ہر لفظ ایک ایک پرچی پر لکھ کر ڈال دیا تھا، ڈیڈی! بہت ہی محنت لگی، چار دن سے لگا ہوا ہوں، نہ سونے کا پتہ اور نہ کھانے کا پتہ ہے۔ ایلن بولے جا رہا تھا۔
لیکن ایلن! آپ کرنا کیا چاہ رہے ہو؟ پروفیسر صاحب نے حیرت کے انداز میں پوچھا۔
ڈیڈی! کرنا یہ ہے کہ دس پرچیاں آپ نکالیں گے، دس میں، پھر دس آپ، پھر دس میں، اس طرح پانچ سو پرچیاں ہم نکالیں گے اور اس ترتیب سے میں اُن الفاظ کو لکھوں گا اور پھر ہومر، دانتے اور شیکسپیئر کی ادبی مہارت کی چاشنی سے ایسی تخلیق معرضِ وجود میں آئے گی جسے میں اپنے نام سے پبلش کرواؤں گا۔ایلن نے اپنا مُدعا بیان کیا۔
ارے ایلن! ایسے کیسے ممکن ہے؟ بھلا نظمیں، تحریریں، ڈرامے ایسے بھی وجود میں آتے ہیں؟ پروفیسر صاحب جو بیٹے کی ذہانت سے ازحد متاثر تھے، بیٹے کی بےربط بات سے بہت مایوس ہوچکے تھے۔
اچھا ڈیڈی! اس طرح ایک ادبی تخلیق وجود میں نہیں آسکتی؟ تو پھر آپ جو سائنس پڑھاتے ہوئے مجھے بتا رہے تھے کہ یہ کائنات از خود وجود میں آگئی اور پھر کائنات میں موجود زندگی بھی اتفاقیہ وجود میں آگئی لیکن وہ تو اس نظم، اس ادبی کاوش سے بہت بڑا کام ہے، وہ بھلا کیسے اتفاقیہ وجود میں آسکتی ہے۔ ایلن نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔

پروفیسر صاحب کا پوری زندگی کا تجربہ، محنت، ریاضت بیٹے کے آگے ناکام ہوچکی تھی، ان کی سب تھیوریز بیٹے کی ایک دلیل کے آگے سرنگوں ہوچکی تھیں۔
وہ خاموش کھڑے تھے، بیٹے کی ذہانت ان کے دماغ کی بند کھڑکیاں کھول چکی تھی۔