گلگت بلتستان اور سی پیک کے ثمرات - مولانا محمد جہان یعقوب

گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد آزاد ہوا اور غیرمشروط طور پر پاکستان میں شامل ہوگیا۔ یہاں روز اول سے علیحدگی پسند تحریکوں مثلا: بالاورستان نیشنل موومنٹ اور آزاد جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ وغیرہ کا وجود رہا۔ ان کے ہم خیالوں کی بھی کسی دور میں کمی نہیں رہی، اس کے باوجود یہاں کے باسیوں کی وفاداریاں پاکستان کے ساتھ رہیں۔ اس سرزمین کو ہر حکمران نے آئین سے محروم رکھا۔ اس کی حیثیت محض ایک ایسے بیٹے کی سی رہی جس سے فوائد تو سمیٹے جاتے رہے لیکن اس کے مستقبل کی بہتری کی طرف کوئی توجہ دینے کی زحمت نہیں کی گئی۔ قدرتی وسائل اور قدرتی حسن سے مالامال یہ خطہ ارضی ہمیشہ حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار رہا۔

یہاں کے لوگوں کا شمار خواندگی کے اعتبار سے سرفہرست ہونے کے باوجود یہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی اور نہ ہی ملازمتوں میں ان کو کوئی قابل ذکر نمائندگی دی گئی اور اکثر کلیدی عہدے پنجاب اورخیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والوں کے پاس رہے۔ ستم بالائے ستم خود یہاں کی اشرافیہ نے بھی اس خطے کی بہبود پر قابل ذکر توجہ نہیں دی۔ سیاسی حوالے سے بھی یہاں کے عوام کا شعور بیدار نہیں کیاگیا اور انھیں کبھی قوم قبیلے اور کبھی مذہب کی بنیاد پر لڑا کر طالع آزما اپنے مقاصد حاصل کرتے رہے۔

ایک طرف سے چین اور دوسری طرف سے بھارت کے زیرقبضہ کشمیر کے بارڈر سے ملا ہوا ہونے کی وجہ سے حساس دفاعی اہمیت اور شاہراہ ریشم کی وجہ سے تجارتی اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود اس خطے کو ماضی میں مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ آفرین ہے یہاں کے باسیوں کو کہ ان تمام تر محرومیوں کے باوجود کسی بیرونی جارح کے آلہ کار بنے اور نہ ہی کسی اندرونی علیحدگی پسند کے لیے کاندھا فراہم کیا۔ لیکن اس غیر مشروط وفاداری و حب الوطنی کا کیا یہی صلہ ہے کہ اس خطے کو مسلسل نظرانداز ہی کیا جاتا رہے؟ حال ہی میں دورہ چین کے لیے چاروں وزرائے اعلی کو ساتھ لے جانے اورگلگت بلتستان کے وزیراعلی کو نظرانداز کرنے سے تو یہی تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ نون لیگی حکومت بھی اس خطے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی۔ بھاشاڈیم کا منصوبہ بھی آگے بڑھنے کے بجائے رجعت قہقری کا شکار ہے۔ کیا اندرون خانہ سی پیک کے ثمرات سے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو محروم کرنا طے ہو چکا ہے؟ اگر ایسا ہوا تو یہ اس خطے ہی کے لیے نہیں وطن عزیز کے لیے بھی بڑا المیہ ہوگا، جس کا فائدہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق خطے کی علیحدگی پسند قوتوں اور بیرونی جارح دشمن کو ہو سکتا ہے۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.