خواتین رمضان المبارک کیسے گزاریں؟ حنا تحسین طالب

اگر کوئی عزیز و محترم ہستی سال بعد ہمیں ملاقات کا شرف بخشے اور ملاقات بھی کچھ دن کی ہو تو ہماری کیفیت و تیاری دیدنی ہوگی. ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ تمام تیاریاں بروقت مکمل کر کے اس عزیز ہستی کا بھرپور استقبال کیا جائےہ ہمارے تمام ضروری کام مکمل ہوں تاکہ ہم ہر فکر سے بےنیاز ہو کر زیادہ سے زیادہ وقت اس کی رفاقت سے فیض حاصل کر کے لطف اندوز ہو سکیں. اور اگر وہ مہمان ہمارے لیے محبت و رحمت کے ساتھ بےانتہا قیمتی تحائف بھی ساتھ لا رہا ہو تو جوش مزید بڑھ جاتا ہے.

الحمدللہ ایسا ہی ایک عزیز مہمان ہمارے درمیان موجود ہے مگر اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب جلد از جلد وہ بہت سے دنیاوی امور جو ہماری ضرورت بھی ہیں، انھیں نمٹا لیں تاکہ اپنے دل و ذہن کو تمام فکرات سے آزاد کر کے رمضان کی برکتوں کے حصول کی جانب متوجہ ہو سکیں.

شاپنگ میں اس ماہ برکت کے لمحات ضائع مت کیجیے، نہیں کی تو ایک دن میں کرکے اس سے فارغ ہو جائیں. بازار تو ویسے بھی ناپسندیدہ مقامات میں سے ہے اور خصوصا خواتین اپنا بہت سا وقت خریداری میں برباد کر دیتی ہیں. ہاں! مکمل کوشش و تیاری کے باوجود کوئی ضرورت نکل آئے تو ایسا کرنے میں حرج نہیں، مگر ماہ رمضان کو ماہ خریداری سمجھ کر، اس کی عظیم الشان راتوں کو ایسے مشاغل میں گنوا دینا بہت بڑی بد نصیبی ہے.

اس ماہ کا ہر پل قیمتی ہے جس میں بے پناہ خیر تقسیم کی جاتی ہے تو پھر یہ بدنصیبی نہیں تو کیا ہے کہ ان لمحات کو بھرپور طور پر جینے کے بجائے محض گزارا جائے.
کبھی زیادہ وقت سو کر، کبھی گھر کو عید کے لیے سجاتے رہنے میں، کبھی رمضان ٹرانسمیشن، کبھی افطار پارٹی، کبھی عیدی کی تقریب، تو کبھی روزہ کشائی کے نام پر.

یہ بھی پڑھیں:   صرف خواتین کے لیے، تم عورت ہو - ہما فلک

صحابہ کرام اس ماہ میں اجنبی ہو جایا کرتے تھے، میل ملاقات نہایت کم کر دیتے، مگر ہمارے ہاں تو یہی ماہ تفریحات اور میل ملاقات کے لیے تقریبا وقف ہو جاتا ہے. کتنی ہی خواتین کو دیکھا جو مسجد میں باجماعت تروایح کے لیے آتی ہیں مگر ایسی ہی کسی غیر ضروری مصروفیت کے سبب کئی کئی دن غیر حاضری میں گزر جاتے ہیں.

پھر گھر کی صاف صفائی اگر نہیں ہوئی تو اسے ایک دو دن میں مکمل کرلیں تاکہ طہارت کے سبب رمضان کی عبادات میں خشوع و خضوع برقرار رہ سکے. اس ماہ میں گھر کی اور اپنی صفائی کا خاص اہتمام کریں تاکہ فرشتوں کو اذیت نہ ہو.

کوشش کریں کہ افطار کے لیے بہت اہتمام نہ کریں، جس کی وجہ سے افطار سے پہلے کے قیمتی لمحات ضائع ہو جاتے ہیں. اور اگر کسی سبب ایسا ممکن نہیں اور آپ افطار پر خوب اہتمام کرنے کے لیے مجبور ہی ہیں تو کم از کم افطار سے دس پندرہ منٹ قبل ہی فارغ ہو جائیں تاکہ دعا و اذکار کے ذریعے ان لمحات سے، جن میں اللہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں، فائدہ اٹھا سکیں.

آج کل میں کچھ زیادہ دنوں کے لیے کھانے کی تیاری کر لیں مثلا مصالحے وغیرہ پیس کر رکھ لیں، کچھ چیزیں تیار کرکے فریز کر لیں، تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکیں، یہ سب تیاریاں دل کی تیاری کے لیے کرنی ہیں تاکہ دل فارغ ہو کر تیار ہو جائے.

رمضان المبارک میں اپنے دل کو تمام کدورتوں، فکرات اور سفلی خواہشات سے پاک کر کے اسے اللہ کی یاد کے لیے فارغ کر لیں. تیزی سے دوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان پر کوئی زائد بوجھ نہ ہو. یہ مہینہ دل کی اونچی اڑان کا ہے. اس سے قبل دل کو جتنا ان بوجھوں سے پاک کریں گے، اتنا ہی یہ دل بلند پرواز کرے گا، اتنی ہی روحانی ترقی ہوگی.

یہ بھی پڑھیں:   جنت کشمیر میں خواتین سے دست درازیاں - قادر خان یوسف زئی

رمضان المبارک کی خصوصی عبادات کے لیے پلاننگ نہیں کی تو کر لیں مثلا قرآن و حدیث سیکھنے سکھانے میں کتنا اور کون سا وقت لگانا ہے. تراویح کس طرح بہتر پڑھ سکتے ہیں، اگر کسی قریبی مسجد میں خواتین کے لیے انتظام ہے تو بہتر ہے وہاں پڑھ لیں تاکہ کم از کم ایک بار رمضان میں مکمل قرآن سن لیں.

پھر دعوت کے لیے کچھ وقت نکالیں خواہ طریقہ کوئی بھی ہو. لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قرآن سے جوڑنے کی کوشش کریں.
جتنی ہماری وسعت ہے، اتنے کے ہی ہم مکلف ہیں، کسی کو ایک آیت کا مفہوم ہی معلوم ہو تو وہ ہی پہنچا دیں.
ٹیلی فون کے ذریعے، لکھ کر یا بول کر، جیسے بھی ممکن ہو، دوسروں کو بھی اس خیر میں شریک کریں.

سحری کے لیے کوشش کریں کہ جلد جاگیں تاکہ دس پندرہ منٹ دعا اور اللہ کے حضور آہ و زاری کے لیے باآسانی مل جائیں کیونکہ اس وقت اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں.

اور ایک اہم بات کہ کچھ لمحات کے لیے فارغ ہو کر، سب سے کٹ کر تنہائی میں، اللہ کے حضور آہ و زاری کریں، اللہ سے دعا کریں کہ رمضان اس طریقے سے گزرے جیسے اللہ کو پسند ہے، اور تقوی (اللہ کا شعوری احساس) جس کا حصول ہی روزوں کا اصل مقصد ہے، وہ تقوی حاصل ہو جائے.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.