عمل کی بات رمضان کے ساتھ - نیر تاباں

الحمدللہ رمضان المبارک جاری ہے۔ کوشش رہے گی کہ روز ایک عمل کی بات آپ کے ساتھ شیئر کروں اور ہم سب مل کر شعوری طور پر اسے روز مرہ کے عمل میں شامل کریں۔ روز کے نئے عمل کے ساتھ ساتھ پچھلا والا بھی جاری رکھنا ہے، ان شاء اللہ!

ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش.
حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز میری امت کے لوگ ایسی حالت میں آئیں گے کہ وضو کے اثرات کی وجہ سے ان کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں چمکتے ہوں گے۔ تم میں سے جو شخص اس روشنی کو زیادہ بڑھا سکتا ہو تو اسے ضرور بڑھا لے۔ بخاری
وضو کی سنتیں:
1- بسم اللہ پڑھنا۔ ابو داؤد
2- مسواک کرنا۔ مسلم و ابو داؤد
3- انگلیوں میں خلال کرنا۔ ترمذی
4- ناک میں پانی زور سے چڑھانا۔ ترمذی
5- داڑھی کا خلال۔ ابو داؤد
6- وضو کر کے کلمہ شہادت پڑھنا۔
7- دعا مانگنا۔ ترمذی
8- تحیتہ الوضو پڑھنا۔ بخاری
9- گھر سے وضو کر ک نماز کے لیے جانا افضل ہے۔ بخاری
نوٹ۔ روزے کی حالت میں ناک میں پانی آہستگی سے چڑھائیں۔
ہم سب کا ٹارگٹ ہونا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ وقت باوضو رہیں۔ وضو سنت کی مطابق کریں اور پانی کم سے کم استعمال کریں۔ اور وضو کے بعد دو رکعت تحیتہ الوضو کا اہتمام کریں۔
..............................
چاشت کی نماز
چاشت کی نماز پڑھنی ہے جس کے کم از کم دو نفل پڑھ لیجیے۔ پانچ منٹ کے اندر اندر ان شاء اللہ پڑھی جائے گی۔ اس کے علاوہ تمام نمازوں کو ان کے اول وقت پر ادا کرنے کی پوری کوشش کرنی ہے۔
نماز اشراق
اشراق کی نماز کا وقت سورج نکل کر اونچا ھونے کے بعد سے لے کر چوتھائی دن تک ہے. جب فجر کی نماز پڑھ لیں تو نماز کی جگہ سے نہ اٹھیں. اسی جگہ بیٹھے بیٹھے کچھ پڑھتے رہیں. دنیا کی کوئی بات چیت نہ کریں نہ ہی کوئی دنیاوی کام. جب سورج نکل کر تقریبا پندرہ منٹ ہوجائیں تو دو رکعت یا چار رکعت نفل نماز اشراق کی نیت سے پڑھ لیں. اگر اس طرح ادا کی تو ایک حج اور عمرہ جتنا ثواب ملتا ہے لیکن اگر فجر کے بعد اٹھ کر دنیا کے دھندے میں لگ گئے اور پھر سورج اونچا ہونے پر اشراق کی نماز پڑھ لی تو بھی نماز درست ہے مگر ثواب کم ہوجائے گا. (بحوالہ ترمذی شریف)
نماز چاشت..
چاشت کی نماز کا وقت اشراق کی نماز کا وقت ختم ہونے سے لیکر نصف النہار تک ہے یعنی جب دھوپ کچھ تیز ہوجائے تو تب کم سے کم دو رکعت نفل نماز چاشت کی نیت سے پڑھ لیں. چار، آٹھ یا بارہ رکعتیں بھی پڑھی جاسکتی ھیں.. اس کا بہت ثواب ہے اور رفع افلاس کے لیے بھی یہ نماز بہت بابرکت ہے.
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ و بارک وسلم ہے کہ دو رکعت (نفل) چاشت کے وقت پڑھنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا اور چار رکعتیں پڑھنے والا عبادت گزاروں میں لکھا جاتا ہے، اور چھ رکعتیں پڑھنے والے سے دن بھر کی فکرات دور کر دی جاتی ہیں اور جو آٹھ رکعتیں پڑھے وہ پرہیزگاروں میں لکھا جاتا ہے اور بارہ رکعتیں پڑھنے والے کا جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے. (طبرانی)
...................................
ذکر الہی
زبان کو ذکرِ الہی سے تر رکھنا ہے۔ بدل بدل کر کبھی کوئی کلمہ، درود، آیت، دعا، بس شعوری کوشش کرنی ہے کہ زبان ذکر کرتی رہے۔ کسی محفل میں ہوں، یا فون کال پر تو 'لا الہ الا اللہ" پڑھتے رہیں کیونکہ اس سے ہونٹوں میں جنبش نہیں ہوتی تو بغیر کسی کو پتہ چلے آپ کلمہ کا ورد کرتے رہیں گے۔ یہاں یہ یاد دہانی کروا دوں کہ محفلیں، پارٹیز، اور فون کالز کی تعداد بھی کم رکھیں اور دورانیہ بھی محدود۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلّی اللہ علیہِ وسلّم نے فرمایا.. جس شخص کا آخری کلام لا الٰہ الا اللہ ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا. [ابوداؤد]

سوچنے کی بات ہے کہ اگر پوری عمر میوزک سن سن کے گزری تو آخری وقت پہ اچانک زبان سے کلمہ کیسے رواں ہوجائے گا. ابھی جب بقائمی ہوش و حواس اکثر بےخبری میں کسی گانے کی دھن گنگنا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے ہر بات پہ گالی دیتے ہیں. کسی سے ٹکر ہو جائے یا ہاتھ سے کچھ چھوٹ جائے، زبان سے ایک دم گالی نکلتی ہے۔ ابھی اپنی سوچوں اور بولنے پر اختیار ہونے کے باوجود اگر زبان سے اول فول کچھ بھی نکل جاتا ہے تو موت کی بےہوشیوں میں تو اختیار کہاں ہوگا؟

ایک ڈاکٹر کا بتایا ہوا قصہ بھی ذہن میں آ رہا ہے. اس شعبے میں کئی بار لوگوں کا آخری وقت ان کے سامنے آیا اور یہ کلمہ پڑھانے کی ترغیب دیتے تھے. ایک بار ایک جوان لڑکا حالتِ نزع میں تھا، وہ بار بار کلمہ پڑھتے رہے تاکہ لڑکے کو بھی شاید بحکم اللہ مرتے وقت نصیب ہو جائے لیکن اس کی زبان پر صرف اس لڑکی کا نام تھا جس کی محبت میں وہ گرفتار تھا..

اسی مد میں ایک بڑا پیارا واقعہ بھی ذکر کر دوں. ایک بزرگ خاتون سے ملاقات ہوئی جنہیں فالج ہو چکا تھا اور وہ ٹھیک سے بول نہیں پاتی تھیں ، نہ ہی ان کا کہا گھر والوں کے علاوہ کسی کو سمجھ آتا تھا لیکن کلمہ ان کی زبان سے نہایت آسانی اور روانی سے جاری ہوتا تھا۔ ساری عمر کی ریاضت ضائع کیسے جاتی؟

جب زبان اللہ کے ذکر میں مصروف ہوگی تو گالیاں جو روانی میں زبان سے نکل جاتی ہیں، ان پر کنٹرول کرنےمیں ان شاء اللہ آسانی رہے گی۔ اسی طرح گانے، کسی کی غیبت بھی۔۔ بس تہیہ کر لیں کہ یا تو زبان سے اچھا کچھ نکالنا ہے، یا خاموش رہنا ہے۔
.................................
معاملات پر توجہ
گرمی، پھر بھوک اور پیاس کی شدت۔ ذرا سی بات کسی کا موڈ خراب کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ طے کر لیں کہ کسی پر غصہ نہیں کرنا۔ آپ باس ہیں اور ماتحت پر غصہ کر دیا، ماتحت نے گھر آ کر بیوی پر اتار لیا، بیوی کا اور کسی پر بس نہ چلا تو بچوں پر چلانے لگی۔

آج جیسے ہی آپ کو لگے کہ غصہ آ رہا ہے تو تعوذ پڑھیں، شیطان کو بھگائیں، کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں، یا کچھ دیر کے لیے جائے وقوعہ سے ہٹ جائیں۔ ٹھنڈے پانی سے وضو کر لیں یا ویسے ہی منہ پر چھینٹے مار لیں۔ چند گہرے سانس لیں اور اپنے آپ کو ریلیکس کریں۔

فرض کریں کہ یہ سب احتیاطی تدابیر لینے سے پہلے ہی آپ پھٹ پڑے اور منہ سے اول فول بول دیا تو اپنے آپ کو یوں سزا دیں کہ جس کو ڈانٹا ہے، اس سے منہ سے بول کر معافی مانگیں۔ اس کو کہیں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، بات اتنی نہیں تھی کہ میں ایسے ری ایکٹ کرتا، پلیز مجھے معاف کر دیں۔ پلیز پلیز، میں نے آپ کی دل آزاری کی ہے، مجھے معاف کر دیں۔

بہت مشکل کام ہے یوں معافی مانگنا، اپنی میڈ سے، اپنی بیوی سے، اپنے بچوں کے سامنے یوں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔ لیکن جب معافی مانگنے کے کڑے مرحلے سے گزریں گے، انا کو ٹھیس لگے گی تو اگلی بار یاد رہے گا کہ غصہ کیسے کنٹرول کرنا ہے۔

یہاں اس کو آسان یوں بنا لیں کہ اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ اگلے آدھے گھنٹے میں کسی کے ساتھ کوئی تلخ کلامی نہیں کرنی۔ وہ آدھا گھنٹہ خیر سے گزر جائے تو اگلے آدھے گھنٹے کا خود سے وعدہ کریں۔ یونہی پورا دن کرتے رہیں۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com