وفاقی بجٹ، فاٹا کا حصہ اور ن لیگ - ارشد علی خان

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال 2017،18 کے لیے47 کھرب اور 50 ارب کا وفاقی بجٹ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں پیش کیا جس میں دفاع کے لیے 920 ارب، ترقیاتی اخراجات کے 1001 ارب، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 121 ارب، تعلیم کے لیے 37.6 ارب جبکہ صحت کے لیے 12ارب 84 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مسلم لیگ کے جینئس وزیرخزانہ کے پیش کردہ بجٹ پر تبصرے، تجزیے اور ماہرین کی آرا کا سلسلہ جاری ہے، بعض ماہرین معاشیات نے اسے بس الفاظ اور ہندسوں کے ہیر پھیر سے تعبیر کیا ہے۔ (بجٹ میں مختلف مدات کے لئے رکھی گئی رقوم سے مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیحات کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے جس میں تعلیم، صحت اور فاٹا سب سے آخر میں نظر آتے ہیں)۔

مسلم لیگ ن کے بعض دوست تاویل پیش کر رہے ہیں کہ چونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم ایک صوبائی سبجیکٹ ہے، اس لیے چار ہزار آٹھ سو ارب کے وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے 37.6 ارب کی رقم برائے نام رکھی گئی ہے۔ چلیں ان کی یہ بات تو مان لیتے ہیں تاہم وہ فاٹا کے لیے محض27 ارب کی برائے نام رقم رکھنے کی کیا وجہ بتائیں گے۔ وفاقی بجٹ میں قبائلی علاقوں کے لیے محض 27 ارب کی رقم دہشت گردی سے تباہ حال فاٹا کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے. (فاٹا اصلاحات میں تاخیر کرکے مسلم لیگ ن ایک ایسے بھیانک جرم کی مرتکب ہو رہی ہے جس کا خمیازہ پارٹی کو مستقبل میں بھگتنا پڑے گا)۔

اگر ہم فاٹا اور کشمیر گلگت بلتستان کے لیے رکھی گئی رقم کا موازنہ کریں تو دہشت گردی سے تباہ حال فاٹا کے لیے 27 ارب جبکہ قدرے ترقی یافتہ (اور جہاں امن و امان کی صورتحال بھی قبائلی علاقہ جات سے ہزار درجہ بہتر ہے) کشمیر اور گلگت کے لیے 47 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ فاٹا جس نے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کیا، جہاں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنوں کی وجہ سے بھی علاقے میں تباہی ہوئی جبکہ دہشت گرد حملے تو ہوتے ہی تباہی کے لیے ہیں ۔فاٹا میں بسنے والے بدقسمت انسانوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے جبکہ گلگت و کشمیر کی آبادی ملا کر کل63 لاکھ بنتی ہے جبکہ ایک مخصوص فارمولے کے تحت کشمیر اور گلگت صوبائی حکومتوں کے لیے مختص کی گئی رقم سے بھی مستفید ہوں گے۔ اب ایک طرف تو دہشت گردی سے تباہ حال قبائلی علاقے اور دوسری جانب قدرے ترقی یافتہ کشمیر وگلگت کے علاقے، دونوں کے لیے رکھے گئے بجٹ سے بخوبی مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجیحات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الجھن بمقابلہ الجھن - خرم اقبال اعوان

فاٹا اصلاحات میں تاخیر کی وجہ تو اب بچوں کو بھی سمجھ آنے لگی ہے کیونکہ اگر فاٹا اصلاحات پر عمل ہوجاتا اور قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا جاتا تو وفاقی حکومت کو این ایف سی ایوارڈ میں تجویز کردہ تین فیصد فاٹا کو دینے پڑتے جو کم از کم بھی 100ارب کی خطیر رقم بنتی ہے. (مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی صاحب کو کم از کم اب تو مسلم لیگ ن کی چال بازیاں سمجھ جانی چاہییں کہ وہ ان دونوں پختون رہنماوں کا کندھا استعمال کر کے پختونوں کا حق دبا رہے ہیں جس کا الزام بھی مسلم لیگ ن کی قیادت پر نہیں آئے گا کیونکہ میڈیا میں اس پورے منظر نامے کو ایسے پیش کیا گیا ہے کہ تاخیر کی ذمہ داری براہ راست مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی پر عائد ہوتی ہے)۔

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے سرحدی اُمور و قبائلی علاقہ جات جناب عبد القادر بلوچ نے فرمایا کہ وفاقی بجٹ عوام دوست ہے جس میں فاٹا کو خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں نواز شریف ماڈل ٹاون کے لیے 5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر سیفران کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں سڑکوں کی حالت گزشتہ دور حکومت سے بہتر ہے اور غلنئی مومند گٹ روڈ کی تعمیر کے لیے بھی 6 سوملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔موصوف کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے بھی وفاقی حکومت سنجیدہ ہے. جناب کا یہ بیان فاٹا کے باسیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا نہیں تو اور کیا ہے؟

مسلم لیگ ن نے گزشتہ بجٹ میں بھی قبائلی علاقوں کو نظرانداز کیاتھا اور موجودہ بجٹ میں بھی وفاقی حکومت نے اپنی روش نہیں بدلی۔ گزشتہ بجٹ میں فاٹا کا کل بجٹ وومن سیکٹر کے ڈویلپمنٹ فنڈ کے برابر تھا۔ اسی طرح دیگر منصوبوں میں فاٹا کو بری طرح نظر انداز کیاگیا تھا۔ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کو وفاق کا نمائندہ ہونا چاہیے نہ کہ وہ پنجاب کی حکومت نظر آئے۔ وفاقی حکومت کو ملک کی تمام یونٹوں کو ایک جیسی توجہ دینی چاہیے کیونکہ کسی ایک یونٹ کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میں نکلتا ہے۔

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں