1640 ارب روپے کا کڑوا سچ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

کیا کہا جناب پاور سیکٹر کے 393 ارب واجب الادا ہیں؟ ٹھیک ہے، ادا ہو جائیں گے۔ اب آپ لوڈشیڈنگ سے پاک روزوشب کا لطف لیجیے. ریلوے ، اسٹیل ملز اور پی آئی اے کے 705 ارب کے نقصانات ہیں، یہ پورے کردیے جائیں تو ان اداروں کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جانے کے امکانات روشن ہیں. ٹھیک ہے، یہ بھی ہو جائے گا۔ اور بتائیے کیا کرنا ہے۔ کیا پاکستان کے ہر ضلع میں ایک شاندار ہسپتال اسکول اور یونیورسٹی بھی بنا دی جائے؟ اور پینے کا صاف پانی بھی سب کو ان کی دہلیز پر مہیا ہو؟ سب ہو جائے گا۔ فنڈز ابھی اور بھی ہیں۔ کسی اور سہولت کی ضرورت ہو تو بلاجھجھک بتائیں۔ یہ سب وعدے پورے ہو جائیں گے، اس سال۔

آپ بے یقینی کا شکار نہ ہوں۔ یہ جھوٹ یا شعبدہ بازی نہیں، ہے.

حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام اخراجات، کُل ملا کر بھی اس رقم سے کم ہیں جو ہم اس سال صرف قرضوں کی واپسی (240 ارب) اور ماضی میں لیے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی (1400 ارب) کی مد میں ادا کریں گے. ہماری ضروریات کے لیے ہمارے پاس پیسا موجود ہوتا تو ہے لیکن ہم اپنی قوم کی تعلیم و صحت، اپنے بچوں کے مستقبل بلکہ ان کے منہ کا نوالہ تک چھین کر یہ رقم عالمی ساہوکاروں کی کبھی نہ بھر سکنے والی جیب میں ڈال آتے ہیں. اس بندوبست کو ہمارے محترم وزیر خزانہ معیشت کی کامیابی سے تعبیر کرتے ہیں۔ سچ ہے، انسان میں سے حیا ختم ہو جائے تو جو جی چاہے سو کہے، کرے۔ وزیر خزانہ پر ہی کیا موقوف ہے،۔ ہمارے میڈیا کو بھی کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتا. وہ یہ ہیڈلائن بنانا کبھی نہیں بھولتا کہ دفاع کو کتنی رقم دی گئی حالانکہ دفاع تو پھر سات آٹھ لاکھ پاکستانی خاندانوں کے روزگار کا وسیلہ ہے. یہ ”ڈیبٹ سروسنگ“ کیا ہے؟ کبھی کسی نے یہ بھی کہا کہ اس بھنور کا بھی کچھ کریں جس میں ہم ڈوبتے ہی چلے جا رہے ہیں. جو اس قوم کا حال تباہ کر ہا ہے اور مستقبل مخدوش. قرضوں کا یہ چکر بالآخر ملکی خودمختاری، معیشت، سماج، دفاع سبھی کو ملیامیٹ کر دے گا. اور وہ دانشور دوست جنہیں چین کی سرمایہ کاری میں دور سے ہی ایسٹ اینڈیا کمپنی کے سائے دکھائی دینے لگتے ہیں، انہیں قرضوں کے حجم اور معیشت پر اس کے سنگین خطرات نظر نہیں آتے؟ اس وقت بجٹ کا ایک تہائی صرف اِس مد میں جا رہا ہے اور یہ ایسا ہی ہے کہ آپ پیاس سے جاں بلب اپنے جوان بیٹے کو ایک گھونٹ پانی دینے کے بجائے بھرا مٹکا توڑ کر پانی بہا دیں۔ یا کسی درد سے بلکتے کی دوا اس کی نگاہوں کے سامنے نالی میں بہا دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نئی مردم شماری کے نتائج اور چند پرانی بحثیں - محمد زاہد صدیق مغل

ڈیبٹ سروسنگ پر نظر ثانی کرنا ہوگی. اس کے علاوہ چارہ نہیں. بعض حلقے ”ڈیفالٹ“ کے حوالہ سے سنگین نتائج کی بابت خبردار کرتے بظر آتے ہیں۔ یعنی اس صورت اگر ہم سود کی ادائیگی سے انکار کر دیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم بالکل مُکر ہی جائیں لیکن قرض واپسی کی بالائی حد پر کچھ روک لگانا ہوگی۔ کم از کم اتنا کہ ہمیں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے آئندہ قرض نہ لینا پڑے۔ اس کے علاوہ رقم کی ادائیگی جاری رکھی جائے اور جیسے جیسے محصولات میں بہتری آتی جائے، اس سے پرانے قرضہ جات اور ان کے سود چکتا کیے جائیں۔ اس میں بھی ترتیب یہ ہو کہ اصل پہلے اور سود بعد میں۔ اس دوران سود کی رقم منجمد رکھی جائے۔ اگر یہ بات ہونا بعید از امکان نظر آتا ہے تو خود بخود دیفالٹ بھی کچھ زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔ پھر تو سبھی کچھ جامد ہوگا۔ کچھ سوچنا ہوگا ، آؤٹ آف دا باکس۔ ورنہ ہر سال یہ اور اس ے بھی زیادہ کثیر رقم ہمارے ہاتھ سے نکلتی رہے گی۔

یہ سلسلہ رکنے میں ہی نہیں آرہا۔ پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کی بجٹ 18-2017 پر جاری رپورٹ میں اس خطرناک رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان پر مجموعی قرضہ جات (اندرونی و بیرونی) کا حجم گذشتہ سال کے 19678 ارب سے بڑھ کر امسال 20872 ارب ہو چکا ہے۔ یعنی ایک سال میں 06۔6 فی صد زائد۔ ہر سال اس کا اثر مرکب ہو کر مرتب ہوتا ہے اور یوں قابل ادا اصل اور سود دونوں میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ 6 فیصد اضافہ پوری رقم کو دوگنا کرنے میں 16 سال کا عرصہ نہیں لے گا بلکہ بہت پہلے یہ ڈبل تک جا پہنچے گا۔ اس لیے اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ دوسری جانب یہ خسارہ ہر سال مزید قرض کی ضرورت کو جنم دے گا اور یوں یہ منفی سائیکل آپ سے آپ منفی تر ہوتا رہے گا۔

بعض دوست اس موقع پر ہمیں ہماری بین الاقوامی ”ذمہ داریاں“ یاد دلاتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اتنی تکلیف ہے تو قرض نہیں لینا تھا۔ بالکل درست، یہ امر ہمارا اصل مسئلہ ہونا چاہیے کہ یہ قرض لیا ہی کیوں گیا تھا؟ قوم کو اس کا کیا فائدہ ہوا کہ اب اس کا تاوان اس کے کاندھوں پر ہے۔ کسی کے فلیٹ لندن میں بن گئے تو کسی کے دبئی اور فرانس۔ کوئی سپین میں جائدادوں کا مالک بن گیا اور کوئی ملائیشیا اور آسٹریلیا میں۔ پاکستان یا پاکستانیوں کا اس سب سے کیا لینا دینا؟

لیکن ٹھہریے۔ یہ پاکستانی بھی اتنے سادہ نہیں۔ آوے جاوے کے نعرے لگا کر غازی اور شہید یہی بناتے رہے ہیں. ان کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا جو انہیں اس جال میں پھنسا کر خود آج پھر نجات دہندہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک بار کسی دوست نے کہا ہمارے لوگ بھی کمال کرتے ہیں، ان سے مرادیں مانگنے جاتے ہیں جو ان سے بھی بڑے فقیر ہیں، اِن کی جیب کا روپیہ دو روپیہ بھی نذر نیاز کے نام ہتھیا لیتے ہیں. وہی حال ہمارے مہربان لیڈر حضرات کا ہے۔ جو ہمیں 1640 کروڑ سالانہ قرض ادائیگی تک لے آئے انہی سے ہم خوشحالی کی امیدیں رکھتے ہیں۔ اور وہ بھی انکار نہیں کرتے، اسی فارمولے کو نیا رنگ روغن کر کے پھر چلا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ کو سیریس لینے کی ضرورت ہے - محمد عامر خاکوانی

یاد رہے۔ قرضوں میں ڈوب جانے والا کتنا بھی کما لے اس کے ہاس کبھی بھی اتنا نہیں ہوگا کہ وہ خوشحال ہو سکے.

قرضوں پر انحصار دو مہلک رجحانات پیدا کرتا ہے۔ فضول خرچی اور خرد برد۔ اس وقت دنیا میں سب سے اہم معاشی پریکٹس ”معاشی ڈسپلن“ ہے۔ درست جگہ پر درست اندازہ سے بالکل ٹھیک ٹھیک خرچ۔ یہ تب ہو سکتا ہے جب وسائل کی پیداوار پر صرف ہونے والی قومی محنت سے آپ گزرے ہوں اور اس کی اہمیت کا کماحقہ اندازہ رکھتے ہوں۔ قرض میں بظاہر آسانی سے دستیاب رقوم آپ میں وہ حساسیت پیدا نہیں کر پاتیں۔ آپ دیکھ لیجیے کیسے ہمارے پراجیکٹس التوا کا شکار ہوتے ہیں اور کس تیزی سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. معاشی ڈسپلن کی. موجودگی میں ایسا سوچنا بھی محال ہے، جہاں کوشش یہ ہوتی ہے کہ معینہ مدت سے بھی قبل کام مکمل کر کے مختص شدہ رقم میں بھی بچت کی جا سکے.

اس کو سمجھنے کے لیے کبھی دیکھیے کہ لاکھوں ڈالر کی لاٹری جیتنے والے کس طرح کوڑی کوڑی کو محتاج ہو جاتے ہیں اور قلیل سرمایہ سے کاروبار کرنے والے کیونکر کروڑ پتی ہو جاتے ہیں۔ فضول خرچی اور خرد برد کی ذہنیت معاشرے میں شدید معاشی تفریق کا باعث بنتی ہے جہاں چند افراد تو امیر ہو جاتے ہیں لیکن اس سے ”سریع امارت“ کا ایک چلن شروع ہو جاتا ہے جو محنت کے بجائے سٹے بازی کی معیشت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے جہاں لوگ فوراً امیر ہونا چاہتے ہیں اور اس کے لیے درست اور غلط کوئی معنی نہیں رکھتے. اس سے قانون شکنی، اخلاقی گراوٹ اور دہشت گردی تک کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں.

ہمارے لیڈران باقی تو جس قدر بھی سچ بولتے ہوں لیکن جب عمران خان کہے کہ ن لیگ والے کرپٹ ہیں سب لوٹ کر لے گئے، اور ن لیگ والے یہی بات زرداری صاحب کے متعلق کہہ رہے ہوں اور یہ دونوں مل کر یہی الزام فوجی حکمرانوں پر لگا رہے ہوں تو سب کو غور سے سنیے، اور ان کی بات مان جائیے یہ سب ہی سچ بول رہے ہوتے ہیں، 1640 ارب روپے کا کڑوا سچ.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں