سراج الحق کا سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو اور حقیقت - سید معظم معین

گزشتہ دنوں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو دیکھا۔ سہیل وڑائچ میری نظر میں بہترین انٹرویو کرنے والوں میں سے ہیں۔ ان کے انٹرویو کا خاصا یہ ہے کہ وہ جن صاحب کا انٹرویو کرتے ہیں، ان کا اصل روپ اور طرز زندگی سامنے لاتے ہیں، دوران انٹرویو بعض دیگر صحافیوں اور اینکرز کی طرح اپنے الفاظ مدمقابل کے منہ میں ڈالنے کی بھونڈی کوشش نہیں کرتے، گو کہ اکثر جگہوں پر کریدنے اور گدگدانے والا معاملہ بھی نظر آتا ہے مگر اسی باعث مہمان شخصیت کی شخصیت کے اصل رنگ اور ڈھنگ ناظرین کے سامنے آتے ہیں۔

سراج الحق کے انٹرویو میں بھی یہی چیز سامنے آئی۔ سادہ ترین رہائش اور اپلوں سے ”مزین“ دیواروں والا روایتی پختون گھرانہ اور عام طرز زندگی۔ صاحب خانہ کی معصومیت عروج پر تب نظر آئی جب کوئلوں کے جلنے سے سیاہ ہوئی دیوار کے سامنے بیٹھ کر اپلوں کو بھی ایک ”بابرکت“ چیز کہتے پائے گئے۔

خیر در حقیقت امیر جماعت اسلامی کی ناکامی تو اسی بات سے عیاں ہے کہ دو بار ایک صوبے کے وزیر خزانہ اور سینئر وزیر رہنے کے باوجود وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی نہ بدل سکے، جیسا کہ بعض سوشل میڈیائی دانشور کہتے پائے گئے. ان کے نزدیک قومی خزانہ کی حفاظت عیب اور لوٹ مار کرکے بنگلے نہ بنانا ناکامی ہے. اور اس سوچ میں زیادہ اچنبھے کی بات بھی نہیں، جس ملک کے باشندوں نے اپنے یونین کونسل چیئرمین، یہاں تک کہ کونسلز بھی ایسی ”صلاحیتوں“ اور ”خوبیوں“ سے مالامال دیکھے ہوں، جو محض ایک الیکشن جیتنے کے بعد سائیکلوں سے اٹھ کر لینڈ کروزروں تک جا پہنچے اور سائیکلوں پر کپڑا بیچنے سے ٹیکسٹائل ملوں کے مالک تک بن گئے، وہاں دو دفعہ وزیرخزانہ رہنے والے سراج الحق آج بھی افغانستان کی سرحد کے قریب ایک گاؤں کے چھوٹے سے مکان کے مکین ہوں، تو حیرانی نہ ہو تو اور کیا ہو؟

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا بی بی سی کو دیا گیا مکمل انٹرویو (ترجمہ) - صوفی نعمان ریاض

اگر بین الاقوامی ادارے آپ کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں تو کیا ہوا، ہم تو صاحب اسلام آباد کے بڑے بڑے عالی شان محلوں، میلوں پر محیط فارم ہاؤسز اور اونچی اونچی عمارات والوں سے ہی متاثر ہوتے ہیں، آپ کہاں بیچ میں اپنا معمولی ڈیرہ لے کر آن پہنچے ہیں۔ یہی طور اطوار سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے بھی تھے، جب سہیل وڑائچ انٹرویو کرنے پہنچے تو وہ مولوی صاحب بھی منصورہ کے ایک دو کمروں کے کوارٹر سے برآمد ہوئے تھے۔ عجب لوگ ہیں رہنا دو کمروں کے کوارٹر میں یا اپلوں بھرے دیہاتی گھر میں اور بات کرنی پورے ملک کی حکمرانی کی۔ بھئی کوئی اپنا معیار زندگی بلند کرو، چلو بنی گالہ نہ سہی، بحریہ ٹاؤن کا محل نہ سہی، بڑا فارم ہاؤس نہ سہی کسی ڈیفنس وغیرہ میں ہی کوئی دو چار کنال کے بنگلے کھڑے کر لو تو ہم بھی کہیں کہ ہاں لیڈر نظر آتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم وہ قوم ہیں کہ خود خواہ دانے دانے کو محتاج رہیں، بغیر بجلی پانی کے گزارا کریں، دو کمروں کے گھر میں پندرہ افراد مقیم رہیں، مگر لیڈر ہمیں وہ پسند ہے جو عالی شان محلوں میں کتوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہو، اور جس کے کتوں کی خوراک کا بجٹ ہمارے پورے کنبے کے بجٹ سے زیادہ ہو۔ آپ کہتے ہیں کہ پچاس ساٹھ ہزار آپ کے پورے کنبہ کا ماہانہ خرچ ہے۔ اتنا تو ہمارے پسندیدہ لیڈروں کے کتوں کا بھی خرچہ نہیں ہے، جن چارپائیوں پر آپ آرام کرتے ہیں ان سے بہتر پر تو ہمارے لیڈروں کے پالتو جانور آرام کرتے ہیں۔

آپ کہتے ہیں کہ آپ کی پارٹی نے آپ کو گاڑی دے رکھی ہے اور پٹرول کا خرچہ بھی جماعت برداشت کرتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے! ہمارے لیڈر وہ ہیں جو پارٹیوں سے خرچہ لیتے نہیں دیتے ہیں۔ پوری پوری پارٹی کا خرچہ اور بجٹ ایک خاندان چلاتا ہے اور پھر ظاہر ہے اس کا ہی حق ہے کہ وہ جو چاہے فیصلے کرے۔ ہمارے لیڈر جہازوں اور ہیلی کاپٹروں میں ملک بھر کے دورے کرتے ہیں اور آپ معمولی گاڑیوں، وہ بھی جماعت کی دی گئی، پر قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ جس دن آپ کو تھکاوٹ نہ ہو، اس دن آپ سمجھتے ہیں کچھ نہیں کیا، یہی چیز آپ کو ہمارے لیڈروں سے الگ کرتی ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو آرام دہ کنٹینر یا کمرے میں بیٹھے اور کارکنوں کو استعمال کرے، جنرل خود مورچے پر نہیں جاتا بلکہ دفتر میں بیٹھتا ہے، خود تھکنا اور ہزاروں میل ماہانہ کا سفر کرنا ہمارے لیڈروں کے شایان شان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم جماعتِ اسلامی کی خواتین ہیں - نیر کاشف

آپ کوئلوں سے جلی سیاہ دیواروں والے گھر میں رہتے ہیں، معمولی طرز زندگی رکھتے ہیں، پارٹی کی دی گئی گاڑی استعمال کرتے ہیں، خود پوری دنیا میں بھاگ بھاگ کر ہلکان ہوتے ہیں، یقین رکھتے ہیں کہ یوتھ آپ کے ساتھ ہے۔ ان حیلوں اور یوتھ کی قوت سے آپ قوم کی قسمت بدلنے کا خواب دیکھتے ہیں، کیا یہ خواب حقیقت کا روپ دھار سکے گا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا سر دست ہم آپ کی ہمت اور سادگی کی داد دیتے ہیں!

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.