ایران و سعودی عرب، پاکستان کیا کرے؟ پروفیسر جمیل چودھری

ملت اسلامیہ کے اہم مراکز کی باہمی کشاکش کو دیکھیں تو پاکستان کی پوزیشن بہت نازک نظر آتی ہے۔ ہمارے ایک سینئر صحافی ووست نے اسے پل صراط پر چلنے سے تشبیہ دی ہے۔ اختلافات دوسروں کے ہوئے اور مسائل ہمارے لئے پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک ایسا مسلم پڑوسی جو مشکل وقت میں کام آتا رہا ہے اور دوسرا ایسا جہاں جانے کو دل ہروقت بے قرار رہتا ہے۔ پاکستان اب کس کا ساتھ دے اور کس کا نہ دے؟ مسٔلہ لاینحل سا لگتا ہے۔ نواز شریف کو ریاض میں تقریر کے لئے نہ بلا کرتو سعودی عرب والوں نے بہت ہی اچھا کیا اور کئی دیگر اہم مواقع پر نہ شامل ہوکر بھی بہت کچھ کہہ دیاگیا۔ خاموشی بھی ایک زبان ہے جس سے بہت واضح پیغامات دیئے جاتے ہیں۔ اگرچہ میڈیاوالوں نے نوازشریف صاحب کی ریاض میں بے توقیری کا بہت شورمچایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لئے مستقبل کی راہ تلاش کرنا آسان ہوگیا۔ اگر ریاض میں ایران پر گولہ باری ہوئی تو سعودی عرب اور امریکہ نے کی، کچھ اور مسلم ممالک نے بھی ان دونوں کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اب پاکستان کو آئندہ کے لئے سوچ سمجھ کر صرف اور صرف اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔

پاکستان دونوں طرف سے مخالفین میں گھرا ہوا ہے۔ بھارتی دشمنی تو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ لیکن افغانستان کی پائیدار دشمنی پر غور کرنے کے بعد بھی کچھ پلے نہیں پڑتا۔ افغانستان کی دشمنی بھی اب بڑھتے بڑھتے بھارت کے معیار کے قریب آتی دکھائی دیتی ہے۔ افغانستان میں امن بھی دور دور دکھائی نہیں دیتا۔ ایسی صورت حال میں ہمیں ایران کے ساتھ موجودہ ورکنگ ریلیشن شپ سے آہستہ آہستہ آگے بڑھنا چاہیے۔

پاک-ایران باہمی تجارت2011ء میں3بلین ڈالرز سالانہ ہوگئی تھی لیکن اب یہ گھٹتے گھٹتے ایک بلین سے بھی کم ہوچکی ہے۔ باسمتی چاول اور آم ایران کی شدید ضرورت میں آتے ہیں۔ ان کی برآمدات سے تجارت کو3 بلین ڈالر سالانہ تک لے آنا چاہیے۔ ضروریات زندگی کی تجارت عالمی پابندیوں میں نہیں آتی۔ چھ بڑوں کی طرف سے ایران کے لئے جو نرمیاں کی گئی تھیں وہ دور ابھی جاری ہے۔ ثقافتی وفود کا آنا جانا بھی بڑھنا چاہیے۔ حسن روحانی کے دوبارہ صدر بننے سے ایران 6 بڑوں سے بات چیت کا آغاز دوبارہ ضرور کرے گا۔ پابندیوں میں نرمی کا دورانیہ بڑھنے کا امکان ہے۔

اس لیے ایرانی اور پاکستانی حکمرانوں کو ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا پہلے سے زیادہ کرنا ضروری ہے۔ حسن روحانی الیکشن سے پہلے پاکستان آئے تھے۔ وزیر خارجہ ایران نے بھی پاکستان کا دورہ چند ماہ پہلے کیا تھا۔ ایسے ہی اب جناب سرتاج عزیز اور نواز شریف کو ایران کا وزٹ کرنا چاہیے۔ 4پڑوسیوں کے ہوتے ہوئے ہمارے تعلقات کم ازکم 2سے بہتر ہونا ضروری ہیں۔ پاکستان سے اچھے پڑوسیوں جیسے تعلقات رکھنا ایران کی بھی ضرورت ہے۔ تنہائی کاشکار ہونا اس کے لئے کسی صورت میں فائدہ مند نہ ہوگا۔

سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات کئی اقسام کے ہیں۔ یہ پہلے ہی برادرانہ نوعیت کے ہیں اور ان میں کمی آنے کا کوئی امکان نہ ہے۔ ایران سے تعلقات رکھنے کو سعودی عرب ہماری ضرورت سمجھتا ہے۔ اسے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ آیئے ہم اس گھمبیر اور مشکل صورت حال میں سے دونوں کو نکالنے کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیاکچھ کرسکتا ہے؟

ایران اور سعودی عرب دونوں سے تعلقات رکھنے اور دوستی نبھانے کی جیسی ضرورت پاکستان کی ہے کسی اور ملک کی نہیں ہے۔ پاکستان اس سے پہلے بھی دونوں کو قریب لانے کی کوشش کرچکا ہے۔ یہ کام اب زیادہ توجہ اور عقل وہوش سے کرنے کا وقت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو ریاض میں بیانات دیکر اور آگ بھڑکا کر چلے گئے، اب آگ بجھانا پاکستان کے ذمہ آگیا ہے۔ کیا کیا جائے، دفتر خارجہ کے ماہرین آجکل ضرور کوئی خاکہ تیار کر رہے ہوں گے، ساتھ ہی پاکستانی، سعودی و ایرانی دانشوروں کو بھی آگے آنا چاہیے اور کچھ قابل عمل تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

سرتاج عزیز اور ان کے ساتھی سب سے پہلے3 جنوری2016ء سے پہلے والی صورت حال بحال کرائیں۔ یہی تاریخ تھی جب سعودی-ایران سفارتی تعلقات منقطع ہوئے۔ سعودی عرب نے نمر النمر نامی ایک شیعہ عالم دین کو ساتھیوں سمیت پھانسی چڑھا دیا تھا جس پر ایران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ اس عمل کو حسن روحانی اور دوسرے ایرانی لیڈروں نے بہت برا کہاتھا۔ سعودی عرب نے اپنے سفیر اور عملے کو واپس بلا لیاتھا۔ اب پاکستان کو ایران و سعودی عرب کے دوروں میں سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوشش کرنی چاہیے۔

حج ایک دینی فریضہ ہے جو صرف مکہ مکرمہ میں ادا ہوتا ہے۔ سعودی عرب کو چاہیے کہ اپنے تمام تحفظات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک متعین تعداد میں ایرانیوں کو اسی سال حج کے لئے آنے کی دعوت دی جائے۔ ابھی حج میں تقریباً3ماہ کا عرصہ ہے۔ پاکستان سعودی عرب سے یہ کہے کہ ایرانی حاجیوں پر پابندی ختم کردی جائے۔ برف پگھلنے میں وقت تو لگتا ہے۔ اگر پاکستان کی وزارت خارجہ یہ دو کام کروانے میں کامیاب ہوجائے تو آئندہ کے لئے راستہ نکالا جاسکتا ہے۔

پاکستان ایسے کاموں کے لئے ترکی سے بھی کام لے سکتا ہے، اس کی بھی ایران سے سرحدیں ملتی ہیں۔ تجارت بھی دونوں ممالک کی آپس میں کافی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے مذہبی خیالات جو ہیں وہ تو جوں کے توں ہی رہیں گے۔ اس کے پیچھے صدیوں کی تاریخ اور اختلافات ہیں لیکن دونوں ملکوں کو ریاستی سطح پر اپنے تعلقات میں بہتری پیداکرنا ضروری ہے اور اسی میں پاکستان کا رول اہم بنتا ہے۔ پاکستان کو پھونک پھونک کرقدم رکھنا ہوگا تاکہ اس کی وجہ سے حالات مزید نہ خراب ہوجائیں۔ اگر سفارتی تعلقات بحال ہوجاتے ہیں اور ایرانی حجاج اپنا فریضہ ادا کرلیتے ہیں تو اس کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کا انتظام کیاجائے اور اس ملاقات کا پاکستان میں انتظام ہی ممکن ہوسکتا ہے۔

ایران اور سعودی عرب میں2۔ اختلافات ایسے ہیں جن پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنے اور اس کے لئے پہلے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے ہاں تیل وگیس کے بڑے ذخائر ہیں۔ عالمی سطح کی قیمتیں مقررکرتے وقت دونوں کی پالیسیاں مختلف ہوتی ہیں۔ سعودی عرب تیل کی قیمتوں کو کم کرکے اپنے لئے عالمی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہےاور اس کے برعکس ایران تیل وگیس کی قیمتوں کو بلند رکھ کر اپنی آمدنی میں اضافے کا خواہش مند رہتا ہے۔

ایران پر ابھی بھی ایک خاص مقدار سے زیادہ تیل فروخت کرنے پر پابندی ہیں۔ کم مقدار کا تیل جب زیادہ نرخوں پر بکے گا تو آمدنی ہوگی۔ اور ایرانی اخراجات اچھے انداز سے پورے ہوسکیں گے۔ سعودی عرب اس پالیسی کو نہیں مانتا۔ یہ ایک بڑا نقطہ ہے جہاں پاکستان کو دونوں کو قریب لانے کی کوشش کرنی ہے۔ مذاکرات کی میز پر دنیا کے بڑے بڑے جھگڑے ختم ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں کا مسٔلہ بھی انسانیت کی فلاح کو سامنے رکھ کرحل کیاجاسکتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوسرا بڑا اختلاف اپنے قریبی علاقوں میں اثرورسوخ بڑھانے کا ہے۔ دونوں اپنے کو علاقے کا چودھری ثابت کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ خلیج فارس میں اثر ورسوخ، شام میں بشار الاسد کی ایرانی حمایت اور یمن میں پہلے حوثیوں کی ایرانی حمایت اور پھر سعودی عرب کا توپ خانے اور فضائیہ سے سنی قبائل کی حمایت۔ پاکستان تو تن تنہا ان علاقوں میں کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ یہاں دونوں فریقوں کے مذہبی، نسلی اور علاقائی مفادات ہیں۔ بلکہ کئی مسلم ملک مل کر ہی ان علاقائی جھگڑوں کے بارے میں کوئی لائحہ عمل بناکر دونوں فریقوں کو دے سکتے ہیں۔

او آئی سی کا اجلاس اس کا کوئی حل تجویز کرسکتا ہے۔ پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کو روس اور امریکہ کے بغیر ایسے مسائل کاحل ڈھونڈنا چاہیے۔ شام، یمن اور خلیج فارس میں سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے مفادات کے لئے کافی کچھ کرچکے ہیں۔ کئی بڑے مسلم ملک ملکر ان دونوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور حالات کو مزید بگڑنے سے بچاسکتے ہیں۔ یمن میں ابھی نہ عملاً روس موجود ہے نہ امریکہ، اس پر پہلے توجہ دینی چاہیے۔ یہاں2سال سے جاری جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوااور نہ آئندہ کسی کو کچھ حاصل ہوگا۔ پاکستان اور ترکی کو مل کر اس ملک میں جنگ بندی کرانی چاہیے۔ جنگ بندی کے بعد یمن کے مسٔلہ پر دونوں یمنی گروہوں میں مذاکرات ہوں اور کوئی نہ کوئی حل نکالا جائے۔ اقوام متحدہ سے بھی یمن کے مسٔلہ پر مدد لی جاسکتی ہے۔

پاکستان ان اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے بات کو آہستہ آہستہ آگے بڑھا سکتا ہے اور دونوں کو قریب لانے میں پہل کرنا پاکستان کی ذمہ داری بھی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */