اخلاص اہم ہے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

روزہ پہلے رکھ لیا، بعد میں رکھ لیا، کیا کیوں کیسے؟ اس بحث میں سوائے مزید بحث اور تلخی کے کچھ نہیں رکھا۔

کسوٹی اخلاص ہے اور اس پر سب ہی (کم از کم روزہ رکھنے والوں کی حد تک) پورا اترتے ہیں۔ چنانچہ بھرپور امید اور دعا ہے کہ اللہ تعالی سب کے ساتھ عافیت والا معاملہ فرمائیں آمین۔

ایک دوسرے کو مورود الزام ٹھہرانے سے کچھ حاصل نہیں۔ دعا اور خیرخواہی زیادہ بہتر راستہ ہے۔

البتہ ایک بات ایسی ہے جس پر کسی وقت، خوشگوار موڈ میں، غور کرنا چاہیے، شاید ہم مزید بہتری کی طرف بڑھ سکیں۔

نظم اجتماعی کے تحت اس سے زیادہ حساس موضوعات پر اگر ہم اپنے انفرادی و مسلکی تحفظات کے باوجود باتیں قبول ہوتی ہیں تو یہاں کیا مسئلہ ہے۔

مندرجہ بالا کے لیے ہم اس دلیل کی پیروی کرتے ہیں کہ حکومت کے پاس قوت نافذہ، تسلیم شدہ حیثیت اور صاحبان علم و فن تک رسائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے وہ اجتماعی فیصلہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان کے پاس محکمہ موسمیات اور سیٹیلائٹ ڈیٹا کے حوالہ سے یہ معلومات ہوتی ہیں کہ چاند کے نظر آنے کا امکان کیا ہے۔ پھر بھی اتمام حجت کے لیے بصری رؤیت کے لیے بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر فیصلہ نفی میں ہے تو اس صورت رؤیت کا اعلان کچھ نامناسب بات نہیں؟

سب کو معلوم ہے کہ چاند کے نظر آ جانے کا کوئی امکان نہیں اور یہ کسی کا واہمہ تو ہو سکتا ہے حقیقت نہیں، خواہ کتنی ہی شہادتیں آ جائیں۔

اگر رمضان کا آغاز کرنا ہی ہے تو کہہ دیجیے کہ ہمیں تو حجاز کے ساتھ کرنا ہے۔ بس بات ختم ہوئی۔ کسی کو اعتراض کا حق نہیں۔ سائنسی علم کے مطابق جو چاند نظر نہیں آ سکتا، اسے دیکھ لینے کے دعوی سے بھی بچت ہو جائے گی اور ایک معقول جواز اس کام کا بھی مل جائے گا جو کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یومِ عرفہ کا روزہ کب ہوگا؟ - محمد رضی الاسلام ندوی

آخری بات یہ کہ اول تو کوشش کریں کہ متفقہ طور ہی روزہ و عید کے معاملات نمٹائے جا سکیں۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو پائے تب ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس میں ادنی ترین یہ ہے کہ کسی شخصیت یا شخصیات کی تضحیک یا اہانت کی کوئی صورت پیدا نہ ہونے دی جائے اور نہ ہی اس بات کو بہت زیادہ اچھالنے کی ضرورت ہے۔ بردباری سو مرہموں کا ایک مرہم اور شافی تریاق ہے۔

اللہ تعالی پاکستان اور پاکستانیوں پر اپنی رحمتوں کا سلسلہ دراز رکھیں۔ آمین۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں