قرآن کب اپنی محبت کے موتی نچھاور کرے گا؟ زبیر منصوری

قرآن کب اپنی محبت کے موتی نچھاور کرے گا؟؟

1) صحابہ کی طرح اسے پہلے جذب کر یں پھر آگے بڑھیں.

2) جلدی جلدی پڑھنا چھوڑ دیں.
پورے رمضان میں پانچ چھ قرآنی اصطلاحات منتخب کریں اور ان کا فہم حاصل کریں، انہیں جذب کریں
اس کے علاوہ سکون سے جتنا قرآن سننا یا پڑھنا ممکن ہے، ضرور پڑھیں اور سنیں.

3) جو اصطلاحات منتخب کی ہیں، ان کو مختلف تفاسیر سے پڑھیں اور سمجھیں.
ان کا پس منظر اور شان نزول جانیں.

4) سیرت سے اس سے متعلقہ مثالیں حاصل کریں.

5) ان پر ”علم“ نہیں ”احساس“ کا چشمہ لگا کر غور کریں.

6) اپنی زندگی سے ان کے تعلق اور نسبت پر غور کریں.

7) اپنی زندگی سے اس کی ہم آہنگی اور اپنےتضاد کو تلاش کریں.

8) سوچیں کہ اگر میں اس کو زندگی میں لےآؤں تو کیا کیا فائدے اور ایسا نہ کرنے سے کیا کیا نقصانات ہوں گے؟ اور کیا کیا ہو چکے ہیں؟

9) جب تک اس ایک اصطلاح کی کافی گہرائی کو جذب نہ کر لیں اور وہ بات آپ کے دن بھر کی مصروفیات میں آپ کے خیالوں اور جذبوں پر طاری نہ ہو جائے، آگے نہ بڑھیں.

10) جو پڑھ کر یا محسوس کر کے جمع کر پائیں، اسے کہیں لکھ لیں.

11) ممکن ہو تو زیر غور اصطلاح کا بڑا اور خوبصورت کلر فل پرنٹ لے کر گھر میں بیڈ کے سامنے اور آفس میں ایسے لگا لیں کہ نظر پڑتی رہے.

12) ممکن ہو تو دوستوں کا ایک سرکل بنا کر اسے علمیت جھاڑنے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ڈسکس کریں.

13) اسٹوری ٹیلنگ یا مؤثر انداز بیان رکھنے والا کوئی دوست وہ بیاں کرے، محسوس کروائے اور اسے سنیں.

14) پڑھتے، سنتے وقت توجہ سے یہ فلٹر لگا لیں کہ میں یہ بس اپنی ذات کے لیے صرف اور صرف اپنے لیے کر رہا ہوں بس.

یہ بھی پڑھیں:   محنت اور محبت ضائع نہیں ہوتی - فیاض راجہ

15) ایک اصطلاح کو قرآن نے کتنی جگہ پر کس کس مفہوم میں استعمال کیا ہے، اسے تلاش کریں اور سمجھیں.

16) یہ سارے کام سکوون سے اطمینان کے ساتھ کریں.

ہرگز جلدی نہ کریں. اللہ ہم سے گنتی کا حساب لینے نہیں جا رہا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے پیار بھرے لفظوں میں چھپی چاشنی کو ہم محسوس کریں اور محبت سے اس کی محبت کا جواب دیں۔

مدراس میں اگر قرآن ان طالب علمانہ گزارشات کی روشنی میں پڑھایا جانے لگے اور اسے ناظرہ ،تجوید ،ترجمہ، تفسیر سے آگے بڑھ کر محسوس کروانے کی کوشش بھی کی جانے لگے اور اس کے لیے سوچنے کو مہمیز دی جائے اور پھر قرآنی کونسپٹس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ”قرآن بیسڈ اسکلز ڈیولپمنٹ“ کا کام کیا جائے تو شاید قرآن اپنے محبت کے سمندروں سے چند قطرے عنایت کر دے.
ہمیں شرابور کرنے کے لیے وہی کافی ہوں گے۔

خبردار! ہوشیار!
یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ اللہ سب غیرت مندوں سے بڑا غیرت مند ہے، وہ اپنی اور اپنے کلام کی محبت اسی دل کو عطا کرتا ہے جو
خلوص کے ساتھ اس کاطلب گار بنا رہتا ہے،
اس کا فقیر بنا رہتا ہے،
مانگتا رہتا ہے،
دروازہ کھٹکھٹاتا ہے،
التجائیں کرتا رہتا ہے کہ
اے اللہ اگر تو اپنی محبت سے سرفراز نہیں کرے گا تو پھر دوسرا دروازہ بتا جہاں جا کر بھیک مانگوں؟ جو تیرے سوا مجھے دے سکتا ہے؟

یہ بہرحال پارٹ ٹائم، عارضی، وقتی نوعیت کا کام نہیں۔ پوری توجہ اور مسلسل رابطہ مانگنے والی چیز ہے۔
کوئی ہے جو اللہ کی انمول محبت کے لیے بے قرار اور یہ ریاضت کرنے کو تیار ہو؟
اللہ بھی اسے اپنی محبت بھری آغوش میں لینے کو تیار، منتظر اور بے قرار ہے۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!