تصور ِعلم - مفتی شاکراللہ چترالی

کتنی ہی بدیہی حقیقتیں ایسی ہیں جن کو فہم و فراست کے علمبرداروں اور علم و تحقیق کے شناوروں نے ہی معمّہ بنا ڈالا۔ بس باتوں پر باتیں ہیں اور نکات پر نکات مگر الجھن ہے کہ بڑھتی چلی جارہی ہے سلجھن کوئی نہیں، سوالات ہی سوالات ہیں جواب کوئی نہیں. یہ سب کچھ علم و تحقیق کے عنوان سے ہی ہوتا رہا. ہنر آزمائی نے جب طول پکڑا تو اڑی ڈری قاضی جی کے سر پر پڑی، کے مصداق خود، علم، ہی دائرۂ ِتحقیق میں آگیا۔
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف ِدراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

گواہی الٹی ہوگئی، بحثوں پر بحثیں ایسی چلی کہ علم بچا نہ اس کی حقیقت۔ کسی نے علم کی پانچ تعریفیں کیں، تسلّی پھر بھی نہ ہوئی، آخرکار اجل البدیہات قرار دے کر ہاتھ ہی اٹھا لیا گیا بقول کسی کے علم کا یہ حال ہوا کہ ،
کب سے بارش کر رکھی تھی تم نے لاکھ سوالوں کی
خود پر ایک سوال ہوا توت باتیں کرنا بھول گئے

یہاں تک بات پھر بھی ٹھیک تھی، اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ، لیکن اعتدال کا دامن جب ہاتھ سے چھوٹا تو پگڑیاں اچھالنے تک معاملہ آگیا، ادھر مدّعیانِ فلسفہ و سائنس اٹھے اور مذہبی علوم کو اوہام اور ان کے متحمّلین کو نیم خواندہ بلکہ ان پڑھ قرار دیدیا، دوسری طرف مذہبی علوم کے سوا ہر شے کو کمائی کا ڈھنگ اور فن قراردے دیا گیا، اور وابستگانِ نفس کے پجاری اور شکم پرست قرار پائے، ویسے بھی اپنی عقل اور پرائی دولت بڑی معلوم ہوتی ہے۔

بات سے بات نکلتی گئی، یہاں تک کہ جب ترقّی نے رفتار پکڑی تو عمارت ہی دھڑام سے نیچے آگئی کہ علم کی بنیاد تشکیک پر پڑ گئی۔ پھر کیا کہنے کہ ایک تو تھا ہی دیوانہ اس پر آئی بہار، چنانچہ تحقیق کے نام پر ہر چیز کو قابلِ بحث اور قیل و قال کا موضوع بنا دیا گیا۔ نوبت بایں جا رسید، کہ آج کی اٹل حقیقت کو کل منہ چھپانے کو جگہ نہیں مل سکتی۔

انصاف کی بات یہ ہے کہ جب میرے رب کی اس کائنات کا ذرہ ذرہ حکمت و افادیت سے خالی نہیں تو اس کی اتاری ہوئی سب سے بڑی نعمت یعنی علم وحکمت کا ہر کنول اور تفکّر اور تدبر کا ہر نتیجہ کیوں کر بے کار و بے قیمت ہو سکتا ہے؟ اس کو وہم و ڈھنگ کہنے سے بڑی کوئی ناقدری نہیں ہو سکتی، ایسا حرماں نصیباں کو ہی زیبا ہے۔

بات صرف جائز مقام دینے اور کَل پرزوں کے جوڑ بٹھانے کی ہی ہے جس کے بغیر گاڑی چل نہیں سکتی، یہ زحمت جس لمحہ ہو جائے تو ہر شعبے میں انسانی ارتقاء کی رفتار پیمانوں ہی کی نہیں، اندازوں کی گرفت سے بھی نکل جائے گی، پھر راوی چین ہی چین لکھنے پر خود کو مجبور پائے گا ورنہ چنگیزیت کی یہ بدروح بستی بستی انسانیت کا پیچھا کرتی رہے گی۔

سائنس کی علمیت اور افادیت کا انکار ہر چند ممکن نہیں، سر چڑھ کر بولتے جادو کا سامنا کون کر سکتا ہے؟ سورج کو کیا چرغ دکھاؤ گے؟

مگر بایں ہمہ یہ بھی ایک نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ سائنس اپنی تمام تر کامرانیوں ، ہوش ربا رعنائیوں اور متنوّع خدمات کے باوجود آج تک تن پروری سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے، موضوع کے اعتبار سے اس سے آگے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کے لطیف جزء َروح کے لیے مشکلات ہی پیدا کر رہی ہے بلکہ خاکی کو نوری پر غلبہ دینے کی جنگ اسی کے سنگ ہو رہی ہے، شرارِ ابولہبی کو بجھانے کا نہیں بھڑکانے کا سامان یہیں سے مہیّا ہو رہا ہے، اور چراغِ مصطفوی کو تیل نہیں مل رہا ہے۔ انسانی ضروریات کا سامان بہم پہنچانا اور اس کی راحت و آرام کے اسباب مہیا کرنا بھی ایک بڑی نیکی ہے، کوئی جرمِ عظیم نہیں کہ بہترین انسان وہ ہے جو نفع رساں ہو۔ (الحدیث) مگر بات جب روح کو نظر انداز کرنے اور روحانی تقاضوں کو پامال کرنے کی آتی ہے تو پھر یہ قیمت بھاری ہے، ادا نہیں کی جاسکتی۔ بدقسمتی انسان کی یہ ہے کہ سائنس کی زمامِ ِاقتدار جن ہاتھوں میں ہے وہ نادانستگی میں نہیں بلکہ شعوری طور پر یہی چاہتے ہیں۔

قطع نظر ان سب باتوں کے یہ بھی امرِ مسلّم ہے کہ تن پروری درحقیقت عناصرِ اربعہ مٹی آگ پانی ہوا کی خدمت ہے اور ان خدمت کیا گل کھلاتی ہے؟ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے۔ مٹی کا وصفِ خاص قبض ہے، ہر چیز کو اپنے اندر لیتی ہے، بیج ڈال کر اگر پانی کا لشکر اور کھاد کی فوج نہ بھیجو تو کف ِافسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہی خصلت انسان میں بخل سے موسوم ہے، آگ کا خاصا تعلّی ہے، چولھے کو الٹا بھی کردو تب بھی آگ اوپر کو ہی جاتی ہے، انسان میں یہ خاصا تکبر سے معنون ہے۔ پانی کی طبیعت میں ہر نشیب کو بھرنا اور ہر سوراخ میں گھسنا ہے، ایسی طبیعت کا حامل انسان حریص کہلاتا ہے۔ ہوا کی فطرت بھرت ہے، ہر خلاء اس کی بدولت پر ہے، گویا اس کو انسانوں والی ہر جگہ اپنا بول بالا کرنے یا حبِّ شہرت کی بیماری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تن پروری سے انسانوں میں یہی خصلتیں پھل پھولیں گی۔ یہ سب انسان کی کمزوریاں اور احتیاجیاں ہیں: بخل میں انسان اپنے مال کی مٹھی میں بند ہے، حرص میں انسان دوسروں کے مال پر مرتا ہے، تکبر میں انسان کی عزت دوسروں کے پاس گروی ہوتی ہے، ایسی عزت کے خاک میں ملنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی اور شہرت بھی دوسروں کے واہ واہ کرنے کا نام ہے۔

مذہب کے پاس ان بیماریوں کا شافی علاج ہے اور ان کمزوریوں کا مداوا ہے۔ حکم ہوا کہ اس انداز سے صدقہ کرو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے، مطلب لوگوں کو تو دور کی بات خود کو بھی بڑائی کا احساس اور نیکی کا گھمنڈنہ ہو، صدقہ سے بخل کا کام تمام، حرص تو بہت پہلے درگور، دینے والا بھلا کیا طمع کرے گا؟ اخفاء سے تکبر کی جڑ کٹے گی، احساس تک نہ رہے، تب جا کر اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔ پہلی چار خصلتوں سے محرومیاں اور حق تلفیاں جنم لیں گی، نتیجتا لڑائیاں اور کدورتیں پیدا ہوں گی، پھر اطمینان اور سکون عنقاء صفت ہو جائیں گے۔ دوسری صفات ہمدردیوں اور الفتوں کو کھینچ لائیں گی، ثمرہ امن و آشتی اور سکون و سلامتی کی صورت میں ملے گا۔

جی ہاں! سائنس غلام یعنی جسم کو قوی کر کے بادشاہ یعنی روح کو اس کا غلام بنا دیتی ہے۔ ایسے میں انسان کا مقدر تباہی کے سوا اور ہو ہی کیا سکتا ہے؟ مذہب بادشاہ (یعنی روح) کو قوت بخش کر سلطنت کو استحکام دیتا ہے۔ سائنس سواری کو مضبوط کرتی ہے، مضبوط سواری کمزور سوار کو گرا دیتی ہے۔ مذہب سوار کومضبوط کرتا ہے حتیٰ کہ سواری سے بھی مستغنی کر دیتا ہے۔ سائنس انسان کو چیزوں اور آلات کا غلام بنا دیتی ہے۔ حالانکہ یہ قلب ِموضوع ہے، مذہب چیزوں اور آلات سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سائنس نفرت، قتل و غارت اور بربادی کی طرف لے جاتی ہے اور مذہب محبت، امن و سلامتی کا باعث ہے۔

معروف امریکی دانشور ہنری ڈیوڈ تھورو کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ ایسے کمالات دکھائیں گے کہ انسانی عقل حیران رہ جائے گی، یہ نت نئی ایجادات کریں گے، انسانی زندگی کی کایا پلٹ جائے گی۔ پھر یہ پیشن گوئی بھی کی کہ یہی ذہن انسانی ترقی کے کمالات دکھا کر انسان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔ انسان ذہن پر بھروسہ کر کے جتنا آگے جائے گا، اس کی روح اتنا ہی مرتی جائے گی۔ انسان پاگل وحشی اور درندہ بن جائے گا۔ وہ کرۂ ارض کی تباہی کا نقیب بن کر ابھرے گا، کیمیائی ہتھیار سازی، ایٹمی ٹیکنالوجی کی ایجاد اور شیطانی اختراع ہارپ، اور پھر جاپان، عراق، افغانستان اور پاکستان وغیرہ میں ان کے مہلک استعمال کے بعد اب یہ محض پیشن گوئی نہیں رہی، ایک تلخ حقیقت بن گئی۔

ہتھیار تو ہیں ہی ہتھیار، یہ جوبظاہر بے ضرر بلکہ مفیدایجادات، ریفریجریٹرز اور ائیرکنڈیشنز وغیرہ ہیں، ان میں ہم ایسی گیسیں استعمال کر رہے ہیں جو سیدھے جاکے اوزون تہہ کو نقصان پہنچاتی ہیں جس کے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ پھر اگر ہم ان کے ساتھ بعض غیرمصدقہ اطلاعات کو ملاتے ہیں کہ ایڈز اختراع ہے، اور بگ بینگ تجربات در پردہ مختلف سیاروں کی گردشوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہیں، وغیرہ، تو پھر یقیناََ وہی بات ہو جائے گی جو تھورو نے کہی ہے کہ انسان اپنے جیسے انسانوں سے یوں خوف کھائے گا جیسے سگ گزیدہ پانی میں اپنا عکس دیکھ کر پاگل ہوجاتا ہے اور انسان واپس فطرت کی سادہ زندگی کو ترسے گا.

یہاں تک بات یہ چل رہی تھی کہ علم کیا ہے؟ یا کون سا علم مفید تر ہے؟ اس عنوان کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ذریعہ ِعلم کون سا مستند ہے؟ عقل یا نقل؟ اور اس حوالے سے مذہب اور سائنس کی پوزیشن کیا ہے؟

بہرکیف یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس انسانی عقل کی پیداوار ہے اور حضرت ِانسان کا نتیجہ ِافکار، لیکن خود عقل کی اپنی کیفیت اور حالت کیا ہے؟ انسانی ذہن ہارڈوئیر کی مانند ہے، زیادہ سے زیادہ ونڈو انسٹال شدہ ہے مگر سافٹ وئیر یہی مبصرات، مسموعات، محسوسات وغیرہ ہیں، اور ان کی جزئی معلومات سے ماخوذ قواعد ِکلیہ، جن کا اختراع عقل کا خاصا ہے. ساتھ یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ان حواس کی قوت انتہائی محدود ہے۔ اور یہ قدم قدم پر دھوکا کھاتے ہیں، یوں عقل کا نور مستفاد ہے خانہ زاد نہیں اور ذرائع بھی مستند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو جس معاشرے میں پلتا بڑھتا ہے، اس کو وہیں کی باتیں معقول لگتی ہیں لیکن ذرا مختلف ماحول کا انسان ان معقولات کو پراگندہ خیالات سمجھتا ہے، یوں ڈیڑھ انچ کی مسجدیں ہزاروں میں ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس متشدد قسم کے (جیسا کہ امریکہ کے باسی امیش) مذہبی لوگ سائنسی مسلّمات کو دور ازکار سمجھتے ہیں، دوسری طرف سے بھی اسی قسم کا ردّ ِعمل دیکھنے میں آتا ہے، انسان بہت کم اس گرفت سے نکل پاتا ہے۔ اس سے آگے چلو تو ڈارون ازم کے ڈرامائی عروج و زوال سے کوئی اور کہانی برآمد ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

ایسی صورت ِحال میں عقل کو ہر معاملے میں اول و آخر قرار دینا خود خلاف ِعقل و سائنس عمل ہے۔ کچھ دنیوی امور تک تو بات سہی ہے مگر یہ اب تجرباتی حقیقت بن چکی ہے کہ نری عقل سے بامعنیٰ ترقی اور حیات ِطیّبہ نصیب ہو ہی نہیں سکتی۔ کیا یہ ایک مشاہداتی حقیقت نہیں ہے کہ یہ عقل پر مبنی سیاست انسان کو اس موڑ پر لے آئی ہے کہ انسانیت دم توڑتی معلوم ہوتی ہے۔ مانا کہ قتل و غارت گری اور ظلم وستم کی تاریخ بہت پرانی ہے، مگر سائنس، عقل و شعور اور نام نہاد مہذب و متمدن دور میں یہ گھناؤنے جرائم ختم نہیں ہوئے تو کم از کم کچھ کمی تو آجاتی مگر نہیں، اعداد و شمار کے مطابق کم و کیف ہر اعتبار سے ناقابلِ تصور حد تک اضافہ ہی مسلسل دیکھنے کو مل رہا ہے، انسان کش ہتھیار سازی عروج پر ہے اور ہزاروں کو مار کر لاکھوں کو ابھارنا ہرگز ترقی نہیں کہلاسکتی۔

انسان کچھ بھی ہو جائے بہرحال انسان ہی رہتا ہے، اس کے لیے نسلی تعصب، گروہی مفادات اور ذاتی تفوّق وغیرہ جیسے جذبات سے یکسر بالاتر ہو کر قانون ِسیاست اور نظام حکومت کی ترتیب و تشکیل تقریباََ ناممکن ہے. ایسی باتیں دیوانے کی بڑ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پھر جب بات ما وراءالطبعیات کی ہو یا مذہبی عقائد و مسائل کو پرکھنے کی تو اِس کی حیثیت اور افادیت اندھے کی لاٹھی سے بھی کم رہ جاتی ہے، کواکب کی شعائیں اور مرغ کی صدائیں کہنا بھی شاید مبالغہ ہی ہو۔ بتوں والی نسبت ہو یا دین و مروت کے خلاف سازش، موجودہ ڈھانچے اور عصری تاریخ کے اعتبار سے تو اس پر آخر الذکر تبصرہ زیادہ چسپاں نظر آتا ہے، آخر بات بھی کس کی ہے؟ لیکن ایسا ہے کیوں؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ
عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
رہبر ہو ظن و تخمین تو زبوں کارِ حیات

اس حوالے سے اگر کوئی رہنمائی عقل و سائنس سے مل سکتی تھی تو مغرب اس کا زیادہ حقدار تھا، بلکہ جن بنیادوں پر آج اس کی عمارت کھڑی ہے، اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ دانش ِحاضر حجاب اکبر است۔

انانیت اور تعصب کا پردہ نہ ہو تو انسانی دست و برد سے محفوظ، مذہب کا دامن ان تمام داغ دھبوں سے صاف نظر آتا ہے۔ مذہب فہم و فکر کی سوتوں کو خشک نہیں کرتا، انسان کو جمود کا شکار نہیں بناتا بلکہ مذہب عقل ِنارسا کو وہ رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ جس سے انسان کی خفتہ روحانی صلاحیتیں بیدار ہو کر حقیقی معنوں میں ارتقاء کی منزلوں کی طرف اس رفتار اور پرواز کو یوں بڑھا دیتی ہیں کہ فرشتے بھی تکنے لگتے ہیں، پھر بھی گریز دونوں سے ممکن نہیں بلکہ نقصان دہ ہے مگر فرق ِمراتب لازم ہے۔ ہمارے ہاں سائنس پرستی اور مذہب بیزار ی دلیل اور شعور پر مبنی نہیں ہے۔ یہاں چندھیاتی آنکھیں، للچاتی نظریں اور تقلید ِمحض ہے اور بس۔ یہاں ہر عقلی دلیل اور ہر علمی وار خطاجائے گا۔ لیکن خود مغرب کا تجربہ اس بارے میں کیا ہے؟ چلو اسی کو فیصل بناتے ہیں، یہ نہ سہی وہ سہی، یہاں ٹوائن بی اپنی ترقی پر نوحہ کناں نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب کی موت یقینی ہے، البتہ وہ اگر دو کام کر لے تو اسے بچایا جاسکتا ہے، ایک یہ کہ اِسے کسی نہ کسی طرح کی روحانیت ایجاد کرنا ہوگی اور دوسرے یہ کہ اسے ٹیکنالوجی کے عشق سے جان چھڑانی ہوگی۔ یہی پیشن گوئی علامہ اقبالؒ کرتے نظر آتے ہیں
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنےگا ناپائیدار ہوگا

یہی نصیحت الٰہ آبادی کی زبانی بھی ملاحظہ فرمائیں،
طلب کر دین سے اے محو نیچر جوش بامعنیٰ
صدائیں مرغ کی کار ِمؤذن کر نہیں سکتیں

کاش ہمیں اپنوں کی قدر ہوتی یا کم از کم غیروں سے عبرت حاصل کرنے کا سلیقہ آتا۔
یہ ساری بحث بنیادی طور پر جدیدیت (مارڈنزم) کے تناظر میں ہے، مابعد جدیدیت ( پوسٹ مارڈنزم) کے مقابلے اسلامی تصور علم پر پھر کبھی لکھا جائے گا. ان شاء اللہ