سُنہرے پربت، نیلی جھیلیں

کتاب: سُنہرے پربت، نیلی جھیلیں
مُصّنف: میجر جواد شیراز
پبلشرز: فیروز سنز
تبصرہ : عارف خٹک

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ شمالی علاقہ جات کا سفرنامہ ہے، اور اسی خوش فہمی میں، میں نے پوری کتاب ہی پڑھ ڈالی۔ پوری کتاب میں جو میں ڈھونڈ رہا تھا، کہیں نظر نہیں آیا۔ جیسے عموماً سفرناموں میں ہم پڑھتے ہیں کہ،
”ہم تین مرد اور تین غیرملکی خواتین شدید برفباری میں ایک خیمہ ایستادہ کیے رات گزاری کر رہے تھے۔ سردی اتنی شدید کہ بس نہیں چل رہا تھا، کہ ایک دوسرے میں سمو کر سو جائیں۔ مگر سمونے پر ہم تین مردوں میں اختلاف تھا۔ ورنہ جُولی کی آنکھوں میں چڑھی خُماری میں سفر کی شُروعات میں ہی دیکھ چکا تھا۔ صبح مجھے اپنے وجود کے ساتھ ایک نسوانی لمس کا احساس ہوا، تو دیکھا جُولی مجھ سے چپک کر سو رہی ہے۔ میں پسینے میں شرابور اٹھ کر دیکھتا ہوں تو البانیہ کی مک بولی جو زرخیز جسم کی مالکن ہے، اپنے بستر پر نہیں تھی۔ میں گھبرا اُٹھتا ہوں، اور خیمے کا پردہ ہٹاکر مک بولی کو ڈھونڈتا ہوں تو میری رگوں میں خون جم جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر، کہ سامنے مک بولی کپڑوں سے بے نیاز سن باتھ لی رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔“

واللہ مجھے پوری کتاب میں ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ اگر نظر آیا تو بس اتنا کہ مُستنصر حسین تارڑ صاحب کو جہاں بھی بہتا چشمہ نظر آیا، اس نے مُسکرا کر گندا کردیا۔

یُوسفی صاحب کہتے ہیں کہ سفرناموں کے لکھاریوں کو ویزہ دینا ہی نہیں چاہیے کیونکہ یہ ہر جگہ ہمیں جلاتے ہیں۔

مُستنصر حسین تارڑ صاحب کا تبصرہ اس کتاب پر موجود ہے لیکن مُجھے یقین ہے کہ تارڑ صاحب نے یہ تبصرہ کتاب پڑھے بغیر ہی کیا ہے۔ اگر تبصرے کے بعد اُنھوں نے پڑھی بھی ہے تو یقیناً اُنھوں نے گھر کے دروازے پر تختی نصب کی ہوگی، انتباہ کے طور پر کہ،،،
Army and Maj. Jawad Sherazi are not allowed to enter

یہ بھی پڑھیں:   تبصرہ کتب: "الوصایا " از شیخ حمزہ محمد صالح عجاج –سہیل بشیرکار

پوری کتاب میں مجھےمیجر صاحب سے صرف ایک بات پر شدید اختلاف ہے کہ اُنھوں نے میرے ذاتی دوست عبدہُ کو اتنا شریف ثابت کیا ہے کہ مجھے تو گولی ماریں، خود عبدہُ بھی مُتفق نہیں ہوگا کیونکہ میں نے خود عبدہُ کے سفرناموں میں ننگی لڑکیاں نہاتے دیکھی ہیں۔

پوری ٹیم کو جس تکلیف کا سامنا آٹھ سیٹرز گاڑی میں ہوا جو اُصولاً تو چار بندوں کے لیے ہی کمپنی نے بنائی تھی مگر کشمیریوں نے اسے آٹھ سیٹرز بنا ڈالا تھا۔ اس آٹھ سیٹرز کو پڑھ کر مجھے کراچی میں ایک لفٹ پر لکھی ہوئی عبارت یاد آگئی کہ
”خواتین کا احترام کریں“
اور اس کے نیچے لکھا تھا کہ،
”پانچ بندوں سے زیادہ نہ چڑھیں۔“

کرنل شفیق کے بعد اُردو میں سادہ اور برجستہ طنزومزاح کسی فوجی کا تو کم از کم نہیں پڑھا، مگر میجر جواد کی بےساختگی نے کچھ مقامات پہ قہقہہ لگانے پر مجبور کر ہی ڈالا۔

کتاب کا سائز بہت چھوٹا ہے۔ شاید مصنف اس سے اپنے سفری اخراجات پورے کرنا چاہ رہے ہوں۔ اگر میں یہ کتاب تحریر کرتا تو کم از کم چودہ سو صفحے ضرور ہوتے۔ اب پلیز یہ مت کہنا، کہ پشتونوں کو کتابیں بھی موٹی ہی چاہیے ہوتی ہیں۔

ٹیمپو بہت تیز ہے، اتنا تیز کہ ابھی ہم دیوسائی کے مزے لے ہی رہے ہیں کہ اچانک دومیل دُور پھینک دیتا ہے۔ ہم سانسیں بحال کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ تاؤ بٹ پھینک دیتا ہے۔ اور ایک ہی سانس میں پھر مُظفرآباد سے لاہور بھی پُہنچا دیتا ہے۔ آج پتہ چلا کہ تارڑ صاحب کا آج کل سانس کیوں پُھول رہا ہے، اور سفرنامے لکھنا کیوں بند کردیے ہیں۔

کتاب عام ڈگر سے بہت مختلف ہے، لہذا میں نے بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ہی پڑھ لی۔ پوری کتاب سہ نشستی پڑھ ڈالی، اور کموڈ پر بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا کہ اس سیزن میں ان شاءاللہ میں بھی شمالی علاقہ جات کی سیر کو بیگم کے ساتھ نکلوں گا، کیونکہ کموڈ پر بیٹھ کر بس ایسا ہی تبصرہ اور فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

Comments

عارف خٹک

عارف خٹک

ایک ایسا انسان جو خون سے آلودہ وجود سمیت ہنسنا چاہتا ہے اور رو پڑتا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں