رمضان اور روزہ - رضوان اللہ پشاوری

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص (قصداً) بلا کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کے روزہ کو افطار کر دے تو غیر رمضان کے چاہے تمام عمر کے روزے رکھے اس کا بدل نہیں ہو سکتا۔(رواہ احمد و ترمذی و ابو داؤد)

روزہ خدا تعالیٰ کا وہ بابرکت فریضہ ہے جس کو حق تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن حق تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے۔ چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے "اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَناَ اَجْزِیْ بِہ" روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ نماز و روزہ سب عبادات اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں اسی کو راضی اور خوش کرنے کے لیے سب عبادات کی جاتی ہیں۔ مگر روزہ ایک عجیب خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے وہ ریا اور دکھلاوے سے بالکل دور، چشم اغیار (غیروں کی نظر سے ) پوشیدہ، سراپا اخلاص اور بندہ و معبود کے درمیان ایک راز ہے حتیٰ کہ اس کا علم بھی صحیح طور پر بجز روزہ دار کے اور اس ذات اقدس کے، جس کے لیے یہ روزہ رکھا گیا ہے دوسرے شخص کو نہیں ہوتا کیونکہ روزہ کی کوئی ظاہری صورت اور محسوس ہیئت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے دیکھنے والوں کو اس کا ادراک اور علم ہو سکے۔ بخلاف دوسری عبادت کے کہ ان کی ایک ظاہری صورت بھی ہوتی ہے جس کے دیکھنے والے پرعبادت کا اظہار ہوتا ہے۔ جب روزہ ایک راز ہوتا ہے روزہ دار اور اس کے درمیان میں تو پھر اس کے بدلہ اور ثواب دینے میں بھی یہی مناسب تھا کہ خصوصی اور رازدارانہ طریقہ اختیار کیا جاتا جس کی اطلاع فرشتوں کو بھی نہ دی جاتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ براہ راست بغیر کسی واسطہ کے روزہ دار کو اس کا بدلہ عطا فرما دیں گے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے روزہ اور اس کے اجر و ثواب کو ’’الصوم لی وانا اجزی بہ‘‘ میں اپنی طرف منسوب فرما کر اس کی شرافت و عظمت کو بڑھا دیا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی مختلف احادیث میں بکثرت مخصوص فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں۔

ایک دن کے روزے کا ثواب:

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس شخص نے ایک دن کا روزہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے رکھا‘ اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے اس قدر دور رکھیں گے کہ جس قدرکوا اپنی ابتدا عمر میں بوڑھا ہو کر مرنے تک اڑان میں مسافت طے کرتا ہے۔ (کوے کی عمر طویل ہوتی ہے، کہا گیا ہے کہ ہزار برس کی ہوتی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کس قدر طویل مسافت وہ پوری عمر میں قطع کر لیتا ہو گا)اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھے ‘ اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے حکم کا امتثال (حکم کی اتباع) کرتے ہوئے ‘ اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

شیطان کے حملوں سے بچنے کی ڈھال:

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ’’ اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ‘‘ روزہ دار کے لیے روزہ سپر اور ڈھال ہے یعنی روزہ دار روزہ کی وجہ سے دنیا میں شیطان کے شر سے بچتا اور اس کے حملوں کو روکتا ہے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے۔

روزہ دار کی نیند اور خاموشی:

بیہقی نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ روزہ دار کی نیند عبادت ہے اور اس کے خاموش رہنے میں بھی اس کو تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے ہر عمل کا ثواب بڑھایا جاتا ہے اور اس کی دعا مقبول ہوتی اور اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (مظاہرحق)

روزہ دارکے منہ کی بو:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پسندیدہ ہے گویا روزہ دار اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو جاتاہے کہ اس کی خلوف (منہ کی بو) بھی اللہ تعالیٰ کو پسند اور خوشگوار ہوتی ہے۔

خلوف کا مفہوم:

خلوف جس کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے وہ معدہ کے خالی ہونے سے پیدا ہوتی ہے تو جب تک معدہ خالی رہے گا‘ یہ خلوف بھی رہے گی‘ اس لیے عوام کا یہ خیال قابل اصلاح ہے کہ وہ روزہ کے اندر مسواک کو منع سمجھتے ہیں۔ اور بعض اہل علم بھی اس بنا پر کہ منہ کی بو مسواک سے زائل ہو جاتی ہے روزہ کی حالت میں مسواک کے جواز میں تردد کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں۔ مسواک سے صرف دانت صاف ہو جاتے ہیں اور منہ کی بدبو دور ہو جاتی ہے معدہ میں اس سے کوئی چیز نہیں پہنچتی اس لیے مسواک کے بعد بھی خلوف باقی رہتی ہے جس کا اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسند ہونا حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا مسواک روزہ کی حالت میں بھی ہر نماز کے وقت سنت ہے۔ ظہر و عصر میں بھی مسواک کرنی چاہئے۔

ماہ رمضان کی عبادت کا اثر تمام سال رہتا ہے:

حضرت حکیم الامت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ عبادت کا اثر اس کے بعد گیارہ مہینے تک رہتا ہے جو کوئی اس میں کوئی نیکی بہ تکلف کر لیتا ہے اس کے بعد اس پر بآسانی قادر ہو جاتا ہے اور جو کوئی کسی گناہ سے اس میں اجتناب کر لے تمام سال بآسانی احتیاط ہو سکتی ہے اور اس مہینہ میں معصیت و گناہ سے اجتناب کرنا کچھ مشکل نہیں کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں پس جب شیاطین قید ہو گئے تو معاصی آپ ہی کم ہو جائیں گے محرک کے قید ہو جانے کی وجہ سے ‘ اور یہ لازم نہیں آتا کہ معاصی بالکل ختم ہی ہو جائیں۔ کیونکہ دوسرا محرک یعنی نفس تو باقی ہے اس مہینہ میں وہ معصیت کرائے گا مگر ہاں کم اثر ہو گا کیونکہ ایک محرک رہ گیا اس میں ایک مہینہ کی مشقت گوارا کر لی جائے کوئی بات نہیں۔ غرض اس میں ہرعضو کو گناہ سے بچایا جائے۔

انسان کے لیے روزہ مقرر ہونے کے وجوہ:

فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی عقل کو اس کے نفس پر غلبہ اور تسلط دائمی حاصل رہے مگر بباعث بشریت (انسان ہونے کی وجہ سے ) بسا اوقات اس کا نفس اس کی عقل پر غالب آتا ہے۔ لہٰذا تہذیب و تزکیہ نفس کیلئے اسلام نے روزہ کو اصول میں سے ٹھہرایا ہے۔

٭روزہ سے انسان کی عقل کو نفس پر پورا پورا تسلط و غلبہ حاصل ہوجاتا ہے۔
٭روزہ سے خشیت اور تقویٰ کی صفت انسان میں پیدا ہو جاتی ہے چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ روزہ تم پر اس لیے مقرر ہوا کہ تم متقی بن جاؤ۔
٭روزہ رکھنے سے انسان کو اپنی عاجز و مسکنت اور خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کی قدرت پر نظر پڑتی ہے۔
٭روزہ سے چشم بصیرت کھلتی ہے۔
٭دور اندیشی کا خیال ترقی کرتا ہے۔
٭کشف حقائق الاشیاء ہوتا ہے۔ (یعنی چیزوں کی حقیقتیں کھلتی ہیں )
٭درندگی و بہیمیت سے دوری ہوتی ہے۔
٭ملائکہ الٰہی سے قرب حاصل ہوتا ہے۔
٭خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا موقع ملتا ہے۔
٭انسانی ہمدردی کا دل میں ابھار پیدا ہوتا ہے۔

ماہ رمضان میں روزہ فرض ہونے کی وجہ:

ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کی وجہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمائی ہے :شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزْلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُیعنی ماہ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔ لہٰذا یہ مہینہ برکات الٰہیہ کے نزول کا موجب (سبب) ہے اس لیے اس میں روزہ رکھنے سے اصل غرض جو لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں مذکور ہے بوجہ اکمل (کامل طریقے سے )حاصل ہو جاتی ہے۔

رات کو روزہ مقرر نہ ہونے کی وجہ:

چونکہ رات کا وقت بالطبع ترک شہوات و لذات (طبعی طور پر سہولتوں اور لذتوں کو چھوڑنے )کا ہے لہٰذا اگر رات کا وقت روزہ کے لیے قرار دیا جاتا تو عبادت کو عادت سے اور حکم شرع کے مقتضائے طبع سے امتیاز (فرق) نہ ہوتا۔ اسی واسطے نماز تہجد، وقت تلاوت اور مناجات شب کو قرار دیا گیا۔

سال میں ایک دفعہ روزوں کے فرض ہونے کی وجہ:

چونکہ روزہ کی روزانہ پابندی ہمیشہ کے لیے تمام لوگوں سے باوجود تدابیر ضروریہ اور اشتغال باہل و اموال (اپنے اہل و عیال اور مال میں مشغول ہونے کی وجہ سے )ممکن نہ تھی۔ لہٰذا یہ ضروری ہوا کہ کچھ زمانہ کے بعد ہر مرتبہ ایک مقدار معین کا اہتمام و التزام کیا جائے جس سے قوت ملکی کا ظہور ہو جائے اور اس سے پیشتر جو اس میں کمی ہوئی ہے اس سے اس کا تدارک ہو جائے اور اس کا حال اس گھوڑے کا سا ہو جائے جس کی پچھاڑی اگاڑی میخ سے بندھی ہوتی ہے اور وہ دو چار بار ادھر ادھر لاتیں چلا کر اپنے اصلی تھان پر آ کھڑا ہوتا ہے۔

مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کا ایک وقت میں کسی ایک چیز کی پابندی کرنے سے ایک دوسرے کو اس کام میں مدد ملے گی آسانی ہو گی اور کام کرنے کی ہمت پیدا ہو گی۔

ایک کام کو ایک ہی وقت میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا بالاتفاق مل کر کرنا ان کیلئے باعث نزول رحمت الٰہی اور ان میں صورت اتفاق و اتحاد کے لیے مفید ہے یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے خدا تعالیٰ نے روزوں کا ایک ہی مہینہ معین و مشخص کیا ہے پس جو شخص اس نظام الٰہی کو بغیر عذر کے توڑتا ہے اس پر بجائے رحمت کے لعنت کا نزول ہوتا ہے۔