امتحان اور کامیابی- جنید اعوان

کامیابی دراصل امتحان کے تمام پرچوں میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کا نام ہے۔ عبقری طالب علم سے لے کرنالائق طالب علم تک ہر ایک اس حقیقت سے آگا ہ ہے۔ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ امتحان کے ایک ہی پرچے کی تیاری میں سارا وقت صرف کر دینا بیوقوفی ہے۔ ایک مضمون پر مکمل عبور حاصل کر لینا اور دیگر مضامین یکسر نظر انداز کرنے کا نتیجہ عدم توازن اور ناکامی ہے۔ اس بارے میں ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق احتیاط کرتا ہے۔ ذہین طالب علم محنت کرتا ہے کہ تمام مضامین میں اعلیٰ نمبر حاصل کر کے ٹاپرز کی فہرست میں شامل ہو جائے۔ اوسط طالب علم کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ ہر مضمون میں اتنے نمبرتو ضرور حاصل کر لے کہ ناکامی سے بچ جائے۔ اس لحاظ سے امتحان کے تمام مضامین ہی تیاری کے لیے مناسب وقت اور توجہ چاہتے ہیں۔نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی تک بارہا امتحانات کے مرحلے سے گزرنے والے مختلف سطح کے تمام طالب علم اس حقیقت سےبخوبی آگاہ ہیں۔

دین کے معاملے میں بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہے کہ اس کے ہر شعبے میں کم ازکم مطلوبہ نمبر حاصل کرنے لازمی ہیں۔دین کا پہلا مضمون ایمانیات ہے۔انسان بہت ہی خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو، لوگوں کے دکھ درد میں معاون ہو، انسانیت کی خدمت کرنے والا ہو۔ گر اپنے خالق، مالک، رازق، حاکم اللہ کا تعارف نہیں حاصل کرتا، اس کے رسول کی شریعت کی پیروی کو حتمی نہیں جانتا اور جزا و سزا کے دن سے بے نیاز ہو کر اپنے کسی اندرونی جذبے کی تسکین کے لیے سب کچھ کرتا ہے تو وہ ناکام ونامراد ہے۔اور پہلے ہی پرچے ایمانیات میں ایک بڑا صفر حاصل کرنے کےبعد باقی پرچے تو چیک کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:   نیل آرٹ سے دل کے غلاف تک - فرح رضوان

دینی امتحان میں دوسرا پرچہ عمل کا ہے۔ ایمانیات کی جزوی تفصیلات تک سے ہی آگاہی کیوں نہ ہو۔ احکام کی باریکیوں سے بھی واقفیت کیوں نہ ہو، حقیقت تو یہ ہے کہ عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی۔ ایمان کی بیج سے اعمال صالحہ کا درخت جنم لینا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔خالی باتیں اور محض دعوے تو منافقین بھی بہت کر لیتے ہیں۔

دین کاتیسرا سبق معاملات اور اخلاق میں اللہ کی رضا کو مقدم جاننا ہے۔وگرنہ اللہ پر ایمان بھی ہو، صوم وصلوٰۃکی پابندی بھی ہو، حج و عمرے کا بھی متواتر اہتمام ہو، لیکن نماز کے لیے وضو غریبوں کےخون سے کیا جاتا ہو، مسجد کی تعمیر کا تاوان فیکٹری کے ملازموں کو بھرنا پڑے، حج کا سفربلیک منی کی بدولت ہو، افطار اور چندہ کرپشن کی دولت سے ہو، تو پھر ماتھے پر محراب کا نشان ہی کیوں نہ بن جائے، معاشرے میں حاجی صاحب کی پہچان ہی کیوں نہ بن جائے، معاملات کے پرچے میں واضح ناکامی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

دین کا لازمی آخری پرچہ اقامت دین کا ہے۔آپ نے اقامت صلوٰۃ کا تو تکبیر اولیٰ سے اہتمام کیا لیکن اقامت دین کےلیے تاویلیں گھڑنے لگے۔ حج و عمرے تو بہت کیے لیکن نیکی کو قوت مہیا نہیں کی۔ ذکر اذکار تو بہت کیے لیکن بدی کی مزاحمت نہیں کی۔سحر و افطار تو بہت جذبے سے کیے لیکن جہاد کو نصرت فراہم نہیں کی تو اس پرچے میں کامیابی کیسے حاصل ہوگی۔

دین کے لازمی چار پرچوں ایمانیات، عبادات، معاملات، نصرت حق میں کم از کم نمبرحاصل کرنا نجات کی شرط ہے۔ کوشش البتہ زیادہ سے زیادہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ کی ہونی چاہیے۔سورہ البقرہ کی آیت البر کایہی پیغام ہے ۔