عربوں کے کھربوں کے سودے اور بکھرتا عالم اسلام - بلال شوکت آزاد

حالیہ ریاض اجلاس میں عربوں کی جانب سے پاکستان بالخصوص عجمی ممالک کو جس طرح نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کیا گیا ہے، اس نے اسلامی اتحاد پر بہت سے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ جس اتحاد میں یہ خواب دکھا کر پاکستان کو شامل کیا گیا تھاکہ یہ اسلامی ممالک کو درپیش دہشت گردی اور سکیورٹی معاملات میں معاون ثابت ہوگا، قطعاً حقیقت کا روپ دھارتا نظر نہیں آ رہا۔

پاکستان ہمیشہ، ہرگھڑی اور ہر موقع پر عربوں کے شانہ بشانہ رہا ہے، بالخصوص ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کے دور میں ان تعلقات میں بہت شدت آ گئی تھی۔ جس اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی عالمی سطح پر تضحیک کی گئی ہے، اس اتحاد کی داغ بیل بھی پاکستان ہی کے ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی تھی جنہوں نے شاہ فیصل، معمر قذافی، یاسر عرفات اور شاہ عبد اللہ سمیت دیگر رہنماؤں کو اکٹھا کیا تھا۔

یہ 'او آئی سی' کا مقصد تھا کہ تمام اسلامی ممالک ایک جگہ پر اکٹھے ہوں اور بنیادی مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی سعی کریں اور ان ممالک کے درمیان بھائی چارہ بڑھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کے بعد اس تنظیم میں کوئی تحریک نظر نہیں آتی۔ ہر اسلامی سربراہ کانفرنس ایک میلے کی طرح سجتی ہے اور سب اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت کے لیے آئندہ اقدامات سے آگے بڑھ کر نہیں دیکھتے۔

ریاض میں ہونے والے اجلاس نے تو ساری حدیں ہی عبور کرلیں، اسلامی ممالک کے سربراہان کی قیادت ایک دہشت گرد اور جنگ کے سوداگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور تمام اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان کو یہ پیغام دیا گیا کہ ریاست اور سیاست اول، اسلام آخر!

لگتا ہے یہ اتحاد بھی او آئی سی کی طرح عربوں کی کاوش ہے تاکہ وہ خطے میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھیں۔ ایران اور اسرائیل کے آگے وہ بے بس دکھائی دیتی ہیں، اپنا انجام عراق سے الگ نظر نہیں آتا اور یہی حل ہے کہ امریکا کے سامنے جھک جائیں۔ اگر یہی عرب تیل کی دولت کو صرف اسلامی ممالک تک محدود رکھتے اور ایک کرنسی پر اتفاق کرتے اور جو فوجی اتحاد آج بنا ہے اسے تبھی عملی شکل دے دیتے تو آج مسلم دنیا کا مقام اور نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔

جس تنظیم کا اولین مقصد ہی فلسطین اور مسلم امہ کے دیگر اہم مسائل کو عالمی برادری میں اٹھانا تھا، آج وہ ان سے ہی غافل ہوکر اپنی عیاشیوں کو محفوظ تر بنانے میں مصروف ہے۔

اس صورت حال میں پاکستان کے پاس سوائے اتحاد سے باہر نکلنے کے اور کون سا آپشن رہ گیا ہے؟ ذرائع بھی کہتے ہیں کہ راحیل شریف اتحادی فوج میں امریکا کے غیر معمولی اثر و نفوذ سے خوش نہیں اور اتحاد اس سمت میں گامزن نہیں دکھائی دیتا جس کے لیے اسے تیار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق راحیل شریف کے کردار کو محدود کرکے ان سے محض سکیورٹی افسر والا کام لیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سابق سپہ سالار سنجیدگی سے استعفے پر غور کر رہے ہیں۔

پاکستان اور عالم اسلام کو اس اتحاد سے بہت امیدیں وابستہ تھیں، ایک امید ہو چلی تھی کہ عرب اب ایک سنجیدہ لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں اور پورے عالم اسلام کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن عربوں کا خوف ایک بار پھر ان کے اذہان پر غالب آ گیا ہے۔ دہشت کے عالمی سوداگر کو ایک اچھی خاصی رقم اور غیر ضروری عزت افزائی دے کر اپنے ادھورے دفاع کا ہدف دے دیا ہے۔ کیا عرب اس دن کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب امریکا سرزمین عرب پر چڑھ دوڑے؟ انہوں نے کس خوبی سے اپنے ذاتی و ملکی مفادات کو اسلام اور بھائی چارے کی آڑ میں انجام تک پہنچایا ہے۔ عرب جانتے ہیں کہ حجاز مقدس کی بدولت تمام اسلامی ممالک وقت پڑنے پر ان کی حفاظت کے لیے آگے آئیں گے۔

اب پاکستان کو کچھ سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ پرائی جنگ میں کودنے کا نہ پاکستان کو کبھی کوئی فائدہ ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ او آئی سی ایک ناکام تنظیم ہے اور اب اسلامی فوجی اتحاد سے بھی خیر کی توقع نہیں۔ اس لیے پاکستان کو اپنی دفاعی و اقتصادی اہلیت اور قابلیت پڑھانے کے لیے تمام تر توجہ سی پیک جیسے منصوبے اور ملک میں امن و امان کے قیام پر دینی چاہیے۔

یہ یاد رکھیں کہ حرمین شریفین عربوں کی ملکیت نہیں ہیں اور ہمارا رشتہ عربوں سے نہیں بلکہ حرمین سے ہے جس کی حفاظت کا ذمہ ہم پر بھی اتنا ہی جتنا کہ عربوں کا۔ ہم یہ فریضہ بغیر کسی اتحاد کا حصہ بننے بغیر بھی ادا کریں گے اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */