پاکستانی سیاست کی تشکیل نو - ڈاکٹر یونس خان

بادئ النظر میں جمہوری نظام ایک جمالیاتی فریب کے سوا کچھ نہیں، مگر اپنی تمام تر خامیوں اور سیاہ کاریوں کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ ایسا کوئی متبادل نظام حکومت اب تک پیش نہیں کیا جاسکا جسے دنیا میں اس سے بہتر تسلیم کیا گیا ہو۔ جمہوری نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر ایک طویل بحث کی جا سکتی ہےلیکن یہاں ہم اس سے احتراز کرتے ہوئے صرف پاکستانی معاشرے پر اس کے اطلاقی پہلوؤں پر غور کریں گے۔

آئین پاکستان میں جمہوریت کو پاکستان کے سیاسی نظام کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ اس کے بنیادی ڈھانچے میں صدراور وزیر اعظم کے اعلیٰ ترین عہدوں کے ساتھ ہر صوبے میں گورنر اور وزیر اعلی کے عہدے قائم کئے گئے ہیں۔ نیز یہ ایوان بالا یعنی سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پر مشتمل ہے۔ تمام ارکان اسمبلی عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ یہ ارکان بعد میں صدر، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور سینیٹرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سب معاملات بہت احسن ہیں اور ان میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں، لیکن بالکل بنیادی سطح پر ہی کچھ سنگین مسائل نظر آجاتے ہیں۔

سب سے پہلا مسئلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ہمیں آئین پاکستان اجازت دیتا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور چاہے تو اپنی سیاسی جماعت بنا کر اسے الیکشن کمیشن میں رجسٹر کروا کر انتخابات میں اس جماعت کے تحت امیدوار بھی کھڑے کر سکتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 337 تک پہنچی ہوئی ہے، جن میں اکثریت ایسی جماعتوں کی ہے جن کا شاید ہی کوئی امیدوار کبھی اسمبلی تک پہنچا ہو۔ یہ چھوٹی چھوٹی لاتعداد سیاسی جماعتیں پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں کسی قسم کا کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں، البتہ ان سے جوڑ توڑ کی سیاست ضرور فروغ پاتی ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں خالصتاً علاقائی اور لسانی عصبیت کی بنیاد پر قائم کی گئی ہیں جن سے ملکی وحدت پارہ پارہ ہونے اور تعصبات میں اضافے کے علاوہ کوئی قومی خدمت بروئے کار ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بھی پڑھیں:   پوسٹ ٹرتھ سیاست - طارق رحمان

اس سے بڑھ کر سیاست ایک قومی خدمت کی بجائے اختیار، اقتدار وسائل کے حصول کی جنگ بن چکی ہے۔ اپنے مخالفین پر دھاک بٹھانا، زمینوں پر قبضہ، قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، عوام کو پس ماندہ رکھنا، بنیادی سہولتوں کا فقدان، غیر ملکی قرضوں کا انبار اور عام آدمی کی عزت نفس کو ہر لمحہ مجروح کرتے رہنا ایک سیاستدان کا مطمع نظر بن چکاہے۔ صوبائی، علاقائی یا لسانی تعصبات کی فریب کاری میں آکر عوام ایسے سیاستدانوں کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔ پھر ان کے لئے وہ مسائل بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں جو ان کے اصل مسائل ہیں، مثلا معیاری تعلیم، صحت، روزگار، پانی، بجلی، گیس، اچھی سڑکیں، آلودگی کا خاتمہ وغیرہ۔ اور وہ ان مسائل کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں جو سرے سے مسائل ہی نہیں، یا پھر دوسرے تیسرے درجے کے مسائل ہیں۔

کیا یہ نظام اسی طرح چلتا اور استحصال کرتا رہے گا یا اس کا کوئی حل بھی ہے؟ جب ہم کسی پاکستانی سے ان مسائل کا حل دریافت کرتے ہیں تو کوئی خونی انقلاب کو ان کا حل قرار دیتا ہے تو کسی کو صدارتی نظام میں نجات کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ کوئی فوج اور مارشل لا کو نجات دہندہ سمجھتا ہے تو کسی کے نزدیک صوبائی خود مختاری ہر مرض کی دوا ہے۔ کوئی نئے صوبوں کے قیام کو راہ نجات سمجھتا ہے تو کسی کے نزدیک سیکیولر ازم میں ساری مشکلات کا خاتمہ مضمر ہے اور بہت سے پاکستانی، نظام خلافت کو مسائل کے حل میں حرف آخر سمجھتے ہیں۔

ہم شاید بعید نظری کے مرض میں مبتلا قوم ہیں۔ ہمیں دور کے مناظر تو صاف دکھائی دیتے ہیں لیکن سامنے کے اور بالکل قریب کے مناظر دیکھنے کی صلاحیت سے ہم کافی حد تک محروم ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ مذکورہ بالا سارے کے سارے حل ٹھیک ہوں لیکن اول تو ان میں سے کسی ایک پر بھی ہوم ورک نہیں کیا گیا اور دوسرے ان پر پوری قوم کو متفق کر کے عمل درآمد کروانا قصہ ہائے دور دراز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بارشیں، ہلاکتیں اور بجلی کا نظام - احمد علی کیف

ایک سادہ سا حل جو بالکل سامنے رکھا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جمہوری پارلیمانی یا صدارتی کسی نظام کو قطعی چھیڑنے کی ضرورت نہیں، جو نظام ملک میں چل رہا ہے اس میں فی الوقت تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف الیکشن میں حصہ لینے کی اہلیت پر نظر ثانی کر دی جائے۔ راقم کے خیال میں اس بار جب 2018 میں نئے الیکشن ہوں تو پورے پاکستان میں حسب سابق طریق سے ہی الیکشن کا انعقاد کروایا جائے اور موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت ہی پارٹیوں کو اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت دی جائے اور اسی طرح آزاد امید وار بھی حصہ لیں۔ لیکن۔۔۔۔۔ اور یہ "لیکن" بہت بڑا "لیکن" ہے۔۔۔ جب الیکشن ہو جائیں اور تمام نتائج آ جائیں تو دیکھا جائے کہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی کون سی تین سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہی ٹاپ لیول سیاسی جماعتیں پاکستان کا آئندہ سیاسی مستقبل ہیں۔ باقی تمام سیاسی جماعتوں اور کامیاب آزاد امیدواروں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ان میں سے جس میں چاہیں ضم ہو جائیں۔ اس طرح پاکستان میں سہ جماعتی نظام کا آغاز ہو گا، جس میں تین ہی جماعتیں سیاسی کردار ادا کریں گی۔ اس سے صوبائی اور لسانی عصبیت کا خاتمہ ہو گا اور قومی یک جہتی کو فروغ ملے گا۔

ان سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر بھی انتخابات ہونا لازم ہوں جو کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنی نگرانی میں منعقد کروائے تا کہ کوئی بھی پارٹی لیڈر مطلق العنان نہ بن سکے اور نہ ہی پارٹی کسی کی ذاتی جاگیر ہو۔ اس کے علاوہ پارٹی کی رکنیت سے استعفے کی صورت میں یہ پابندی ہو کہ ایک سال تک وہ رکن کوئی دوسری پارٹی جوائن نہ کر سکے تا کہ ارکان کی بلیک میلنگ کا خاتمہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار اصلاحات کی جاسکتی ہیں، جن کا مقصد قومی یک جہتی کا فروغ، سیاست سے دھونس دھاندلی کا خاتمہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کی سیاسی اداروں تک رسائی کی حوصلہ افزائی ہو۔