اپنی بہن بیٹی پر اعتماد کریں – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اسکول، کالج، یونیورسٹی، اکیڈیمیز، درسگاہیں، سب عیاشی کے اڈے ہیں. یہاں جانے والی لڑکی کے کردار پر آنکھ بند کر کے بےاعتبار رہیے کیونکہ اس کے پاس ان اکیڈیمیز میں پڑھنے کا موقع ہے جس کا یقینی مطلب یہی ہے کہ وہ بدکردار ہے. مرد اس وقت میرا موضوع نہیں کیونکہ سوال خاتون کے کردار پر اٹھایاگیا ہے۔

دسویں جماعت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والی لڑکی کا مطلب بگڑنے کے لیے تیار اور ایف اے پاس لڑکی مطلب موبائل پیکجز پر بات کرنے کا سو فیصد چانس. گریجوایٹ کا مطلب آبرو باختہ اور یونیورسٹی کی ڈگری ہولڈر کا مطلب ریڈ لائٹ ایریے اور شہر کے تمام ہوٹلز کی رمز شناس. سو اگر آپ کو بگڑتے معاشرے کو درست رکھنا ہے تو لڑکی کی تعلیم پر پابندی لگا دو اور معاشرے کے 51 فیصد کو معاشرے پر بوجھ بنا دو. اس کا کردار ترقی کی دوڑ میں سے ختم کر دیا جائے اور گھر کی معیشت کا تمام بوجھ مرد کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیا جائے. ان پڑھ ماں ان پڑھ قوم کی تعمیر کرے گی اور سارا معاشرہ چند سالوں میں پتھر کے پرسکون دور میں واپس چلا جائے گا. چلیں معاشرے سے بدکردار تعلیم یافتہ لڑکی تو ختم ہو جائے گی، اور معاشرہ سدھر جائے گا.

دوران تعلیم بگڑنے والوں کو بگڑتے دیکھا اور بننے والوں کو بنتے دیکھا. ایک سی درس گاہ میں پڑھنے والی لڑکیوں میں فرق کیا تھا؟ فرق ان پر روا رکھی گئی پابندیوں اور اعتماد میں تھا. جس لڑکی پر اس کے گھر میں اعتماد کیا جاتا تھا، اس کے قدم بری سمت اٹھتے نہیں دیکھے، اور جس کے قدموں میں شک اور پابندیوں کی بیڑیاں دیکھیں، اسے ان بیڑیوں کو پہلی فرصت میں توڑتے دیکھا.

ایک کولیگ کا سنایا واقعہ یاد آ گیا. انھی کی زبانی سنیے
کالج میں گیمز پویلین میں ایک گرلز کامن روم ہوا کرتا تھا. فری پیریڈ میں طالبات ادھر وقت گزارا کرتی تھیں. ہر کلاس کا فری پیریڈ روزانہ ایک ہی وقت پر نہیں ہوتا تھا مثلا کبھی 10 بجے فری ہیں تو کبھی 12 بجے. کالج یونیورسٹی میں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ایک سال سینئر اور ایک سال جونیئر جماعتوں سے سلام دعا اور پہچان کا رشتہ بن جایا کرتا ہے. سو کامن روم میں عموما ملنے والی طالبات ایک دوسرے سے ہیلو ہائے اور کلاس ائیر (جماعت کا سال) کی حد تک واقف ہوتی تھیں. اس کامن روم میں جس بھی وقت جانا ہوتا ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ عموما وہاں بیٹھی پائی جاتی. عام سی شکل صورت کی سانولی اور دبلی پتلی لڑکی تھی جس کی بھوئیں بہت خم دار ترشی ہوتیں اور سیاہ مسکارا اور چمکیلا لائنر آنکھوں کو روشن کرتا، ریڈ لپ اسٹک کے عقب سے سفید دانت جھلکا کرتے. سب سے خاص چیز اس کا سفید، نیا نکور، غیر استعمال شدہ اوور آل اور سستی سی اسٹیتھواسکوپ ہوتی جو عموما اسٹوڈنٹ شوق سے ہاتھ یا گردن میں لٹکائے رکھتے ہیں. ہیلو ہائے اس سے بھی ہونے لگی. اس کی بات چیت سے کبھی یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ وہ میڈیکل کے کس سال میں زیر تعلیم ہے، عموما وہ اکیلی بیٹھی ہوتی، یا کامن روم کی رکھوالی خاتون اس کے ساتھ صوفے پر پائی جاتی. ایک دن رواروی میں ان محترمہ سے ان کا سال پوچھا تو فورا جواب دینے کے بجائے اس نے مجھ سے میرا سال پوچھا، میں نے فورتھ ائیر بتایا تو کہنے لگی کہ میں تھرڈ ائیر میں ہوں. مجھے عجیب تو لگا لیکن چپ رہی. چند روز بعد کامن روم میں ایک تھرڈ ائیر کی سہیلی کے سامنے اس نے اپنا سال سیکنڈ ائیر بتایا. ہم کھٹک گئیں. اس خاتون کے معاملے کو انتظامیہ کو رپورٹ کر دیا گیا. اس روز کے بعد وہ لڑکی کالج کی حدود میں نظر نہ آئی اور خاتون ملازم کی ڈیوٹی بھی تبدیل کر کے پرنسپل آفس میں لگا دی گئی.

وہ لڑکی میڈیکل اسٹوڈنٹ کے بھیس میں کاروبار کر رہی تھی. کامن روم اس کا آفس سمجھ لیجیے جہاں وہ کام پر جانے سے پہلے کا وقت گزارتی تھی. اور چند روپوں کے عوض کامن روم کی رکھوالی خاتون اسے کامن روم میں بیٹھنے دیتی تھی.

شاید ڈاکٹر کا اوور آل اور اسٹیتھواسکوپ اس کا کاروباری گیئر (حلیہ) تھا. اس سے شاید اسے بہتر کسٹمرز سے بہتر ڈیل کا موقع ملتا ہوگا. لیکن اس طرح کی خواتین کی ایسی حرکات سفید کوٹ پر کتنا بڑا داغ ہیں. اس پروفیشنل خاتون کا کردار تمام خاتون مسیحاؤں کے کردار پر سوال کھڑا نہیں کرتا. اس کے کسٹمرز جو اسی معاشرے کے ذمےدار شہری کہلاتے ہوں گے، ان حضرات کے اذہان میں میڈیکل اسٹوڈنٹ کا کردار کیا بنا ہوگا اور اپنی فیملیز میں ان کی بیٹی جب میڈیکل کالج جانا چاہے گی تو کیا سوال ہوں گے جو انھی معززین کا ذاتی ماضی ان کے سامنے بپا کرے گا.

آپ تمام حضرات اپنی بہن بیٹیوں پر اعتماد کیجیے. جیسا رزق حلال کھا کر آپ جوان ہوئے ہیں وہی دانہ گندم آپ کی بہن نے کھایا ہے۔ جو تربیت آپ کے والدین نے آپ کو دی، وہی تربیت آپ کی بہن کی بھی کی گئی ہے. غلط الخیال اصحاب کی پراگندہ خیالی کا شکار مت ہوں، اپنے خون پر بھروسا کیجیے.

عورت کی تعلیم پر شک کی فضا پیدا کرنا اس کے لیے پہلے سے مشکل تعلیم کے حصول کو تقریبا ناممکن بنا دے گا. اپنے معاشرے کے آدھے بدن کو فالج زدہ کرنے کی اس شیطانی چال سے بچیے. اپنے گھر کی عورت کے کردار کو محترم جانیے اور دوسروں کے گھر کی عورت کو بھی وہی درجہ دیجیے، تاکہ خاندان کی گاڑی کے دو پہیے برابر کے فعال رہیں.

سو اب بات یہ بنی کہ
دسویں جماعت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والی لڑکی کا مطلب مزید پڑھنے کی مشتاق اور ایف اے پاس لڑکی کا مطلب اعلی تعلیم حاصل کرنے کا سو فیصد ارادہ،گریجوایٹ کا مطلب میچور و تعلیم یافتہ خاتون، اپنی اولاد کو تعلیم میں مدد دینے کے قابل اور یونیورسٹی کی ڈگری ہولڈر کا مطلب ہائیلی کوالیفائیڈ اور مقابلے کی دوڑ میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے تیار خاتون.

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

Protected by WP Anti Spam