رحمان، انسان، اور ماہ غفران - عبد الباسط بلوچ

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک طرف ہر انسان مائل بہ کرم ہو جاتا ہے۔ اس کی روز مرہ کی زندگی اور صبح و شام بدل جاتے ہیں۔ کھانے، سونے،کام کاج،ہر چیز میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں کچھ طنزیہ جملے الفاظ بھی دیکھنے اور سننےکو ملتے ہیں، جن سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تمہارا رمضان میں مسجدوں میں آنا کسی کام کا نہیں کیونکہ تم سارا سال مسجد کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔

ان باتوں سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہم رب کے معاملے اور تعلق کو اپنی متعصبانہ عینک اتار کر کیوں نہیں دیکھتے؟ مالک کا بندہ ہے اس کی بارگاہ میں آیا ہے، اسے اپنے کیے پر اور سستی پر احساس ہوگیا ہے، تو ہم کیوں اس کی اس نیکی کو وقتی،اور بے فائدہ تصور کرتے ہیں؟ یہ رب کا کرم ہے وہ دلوں کو پھیرنے والا ہے۔ یہ اس ماہ کی روحانیت ہی تو ہے، کہ ہرایک اپنے کو بارگاہ لم یزل میں لا کر پھینک دیتا ہے۔اس کی زبان، دل اورآنکھیں اپنے مالک کے سامنے جھک جاتی ہیں۔ وہ اپنے دل سے اس کی بارگاہ سے جھولی بھرنے کی امید لیے آتا ہے۔تزکیہ نفس، توبہ اور اس کے ساتھ اپنی اپنائیت کو ایسا گہرا کرتا ہے کہ مالک یہ نہیں کہتا کہ وقتی طور پر ایک مہینے کا میرا بندہ ہے پھر کسی اور کا بلکہ مالک اپنےبندے کا ذکر اپنے فرشتوں کی مجلس میں کرتا ہے، میرے فرشتو! دیکھو میرا بندہ میرے دربار سے امیدیں لگائے آیا ہے۔ اس کی آنکھوں سے ندامت آنسوؤں کا ٹپکنا،سر کا جھک جانا،امید بخشش کا قائم رہنا مجھے اتنا پسند ہے کہ میں نے اس کے سارے گناہ بھی معاف کردیے ہیں اور اس کو بے حساب اجر بھی دینے کا وعدہ کیا ہے۔

تو یہ بہار جنت، وعدہ مغفرت اور تسکین مومن کا مہینہ ہے۔اس کی راتیں قرب الٰہی کا ذریعہ ہیں اور دن انسانوں کے دکھ بانٹنے کا موقع ہوتے ہیں۔ نصیب،رحمت اور کرم کے متلاشیوں کو اس سے بڑھ کر کوئی لمحہ میسر نہیں آسکتا۔حج اور زکٰوۃ اگر پیسے سے ممکن ہیں تو روزہ صرف خالص ایمان اور امید مغفرت و رحمت کا متقاضی ہے۔روح کی پاکیزگی،جسم کی بالیدگی اس کی مرہون منت ہے۔

روح کی پاکیزگی کا یہ عالم ہےکہ آسمان سے ایک خصوصی ہوا چلتی ہے اور ایسی ہوا پورا سال کبھی نہیں چلتی۔ فرشتے بھی پوچھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ایک دوسرے سے کہ آج کیا خاص ہے کہ یہ مسحور کن ہواچل رہی ہے؟ جواب آتا ہے یہ انسان اور رحمان کے تعلق کی تجدید کے مہینے،برکتوں کے نگینے، بخششوں کے خزینے اور الفت و محبت کے مہینے کی آمد کا سندیسہ ہے۔ یہی بس نہیں حوریں بھی اس ہوا سے متاثر ہوئے نہیں رہ سکتیں اور مالک سے التجا کرتی ہیں کہ مالک جس کے لیے یہ ہوا چلائی ہے اس کو ہمارے نصیب میں لکھ دے۔اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے کہ مالک خود سندیسہ دے فرشتو! تم میرے اور بندے کے درمیان سے ہٹ جاؤ،یہ رب اور بندے کا معاملہ ہے، عابد اور معبود کا تعلق ہے، ساجد اور مسجود کا راز ہے،خالق اور مخلوق کی محبت ہے،نہ تم اس کو شمار کر سکتے ہو،نہ لکھ سکتے ہو، نہ پڑھ سکتے ہو،نہ میں نے تمہیں اتنی طاقت دی ہے۔ یہ راز ہے میرے اور بندے کے درمیان،یہ چاہت ہے غلام اور آقا کے درمیان۔ میں اس کو دیکھ بھی رہاہوں،محسوس بھی کررہا ہوں اور اس کے اجر بےحساب کو دینے کا وعدہ بھی۔ "روزہ میرے لیے اور اس کا اجر بھی میں خود دوں گا۔"

واہ مالک! کیا اپنائیت ہوئی اس، خواہشات کے مارے،مطلب پرست اور وقتی بندے سے۔ اجر بھی خود،بدلہ بھی خود،ما لک بھی خود،کہا اس کا یہ احساس ندامت ہی تو انسان کو شیطان سے ممتاز کرتا ہے۔اس نے لوٹ کے میری چوکھٹ کو پکڑنے کا سلیقہ پہلے دن سے سیکھا۔ میں نے اسے اشرف المخلوقات بنا دیا اور شیطان نے دل و دماغ کی مان کر چوکھٹ کو چھوڑا ہمیشہ کے لیے ذلیل کر دیا۔اس کا میرے دربار میں لوٹ آنا،پھر آنکھوں سے ندامت کے آنسو مکھی کے سر جتنا ہی کیوں نہ ہو، بہا دینا، مالک کی رحمت کوحاصل کرنے کے لیے کافی بھی ہے اور شافی بھی۔یہ معاملہ مالک اور بندے کا ہے وہ اس کو سمجھتا ہے اور اس کی رحمتوں کا طلب گار ہے۔اس رحمتوں، برکتوں، سعادتوں، مغفرتوں،عنایتوں اور بخششوں کے سیل رواں سے اپنے دامن کو بھرنے والے ہی خوش نصیب ہوں گے۔ بہت بہت مبارک ہو سب کو ماہ غفران!