اسلام اور فکر مغرب میں حقوق کا تصور - عبد الحنان

حقوق حق کی جمع ہے اور حق سے مراد ہر وہ فعل یا ذمہ داری ہے جو کسی ایک پر دوسرے کے حوالے سے لازم ہوتی ہے۔ حقوق اور فرائض کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک ہی فعل بیک وقت حق بھی ہوتا ہے اور فرض بھی۔ بس جہت کا فرق ہوتا ہے۔ ایک ہی ذمہ داری ہے جس پر وہ عائد ہو رہی ہوتی اس کے حساب سے وہ فرض ہوتی ہے اور جس کے لیے عائد ہو رہی ہوتی ہے اس کے حساب سے وہ حق کہلاتی ہے۔ عزت و احترام والدین کا حق اور اولاد کا فرض۔ اچھی تربیت کرنا اولاد کا حق ہے اور والدین کا فرض۔ رعایا کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کا فرض اور رعایا حق۔ حکومتی قوانین کی پابندی کرنا رعایا کا فرض اور حکومت کا حق۔ انسان کی معاشرتی زندگی حقوق و فرائض کے نظام سے ہی جنم لیتی ہے۔ یہ نظام جتنا مستحکم ہو گا اتنا ہی معاشرتی استحکام یقینی ہو گا۔ اس میں جہاں کہیں کمزوری ہو گی اس کے نتائج معاشرے میں رونما ہوں گے۔

اسلام حقوق کی خاطر اخلاقی اپیل کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ان کے لیے قانونی اسلوب اختیار کرنے سے گریز کرتا ہے۔ قانون کی زبان میں ایک طرح سے جبر اور سختی پائی جاتی ہوتی ہے۔ قانون انسانی تعلقات اور معاملات کے عمومی تقاضے تو پورے کروا دیتا ہے لیکن ہمدردی، محبت اور ایثار جیسے جذبات پیدا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ قانون کا دائرہ اثر صرف ظاہری سطح تک محدود رہتا ہے۔ ایک اخلاقی اپیل باطنی کیفیات اور انسانی جذبات تک نفوذ کر جاتی ہے۔ اسلام نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے حکم اور احکام جیسی اصطلاحیں استعمال کی ہیں اور جہاں حقوق کی بات کی وہاں ترغیب کا اسلوب اپنا کر ایک اخلاقی اپیل لوگوں کے سامنے رکھ دی۔

اس کے برعکس اہل مغرب نے حقوق کے نام سے جو ڈھنڈورا پیٹا ہے اس کی اساس خالص قانونی تقاضوں پر رکھی ہے۔ انسانی حقوق، معاشرتی حقوق، خواتین کے حقوق اور شہری حقوق جیسے تمام حقوق کو قانونی شکنجے میں جکڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج یورپ میں ہر انسان حقوق کے سلسلے میں صرف قانونی تقاضوں کا تو خوب خیال رکھتا ہے لیکن انسانی ہمدردی اور ایثار و محبت جیسے جذبات سے محروم ہی رہتا ہے۔ ہمسایہ بھوک سے مر جاۓ، کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاۓ، والدین بڑھاپے میں اولڈ ہاؤس کی سپرد ہو جائیں اور وہاں سسک کے جان دیدیں ایک یورپی شہری کو اس سے کو غرض نہیں کیونکہ اس کے لیے اس پر کوئی قانونی تقاضہ نہیں اور اس نے صرف وہی امور سرانجام دینے ہیں جن کا قانون متقاضی ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ اہل یورپ کا سارا زور حقوق کے حصول پر ہے۔ اہل مغرب کی طرف سے جتنی بھی تنظیموں، تحریکوں اور این جی اوز نے جنم لیا ہے سب حقوق کا رونا روتی ہیں۔ کوئی بھی فرائض کی ادئیگی کا شعور اجا گر کرنے کے لیے معاشرے میں نہیں اٹھتا۔ اس کے برعکس اسلام کا زیادہ رجحان فرائض کی ادائیگی پر ہو تا ہے۔ حقیقت واضح ہے کہ اگر ہر فرد حقوق کے حصول پر ساری توجہ صرف کر دے گا تو معاشرے سے ایثار اور قربانی رخصت ہو جاۓ گا۔ نفسا نفسی اور خودغرضی عام ہو جاۓ گی۔ بےچینی اور اضطراب ہر فرد کا مقدر بن جاۓ گی۔ معاشرے کا ہر رکن مفاد پرست ہو جائے گا۔ اور اگر ہر کوئی فرائض پر زیادہ توجہ دینے لگے گا تو نتائج برعکس برآمد ہوں گے۔ ہر کسی میں ایثار اور قربانی کا جذبہ آئے گا۔ ہر کسی کی ضروریات بھی پوری ہوگی۔ معاشرے میں امن و آمان اور چین کا بول بالا ہوگا۔

خلاصہ کلام یہی ہے کہ اسلام حقوق کی اساس اخلاقیات کو قرار دیتا ہے جبکہ اہل مغرب کے یہ قانونی تقاضہ ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اسلام حقوق کی بجاۓ فرائض کی ادائیگی پر زیادہ زور دیتا ہے۔ ایک بہترین اور کامیاب سوشل زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ دنیا اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔