رؤیت ہلال کی بحث - محمد زاہد صدیق مغل

روزے و عید سے متعلق جو احادیث ہیں، ان کے مفہوم سے متعلق آج کل بحث جاری ہے۔

روایتی فکر کی رو سے چونکہ احادیث میں ”رؤیت“ کو لازم قرار دیا گیا ہے لہذا اس کے بغیر مہینے کی ابتداء معتبر نہیں ہوگی۔ ”مقاصدی فکر“ والوں کا کہنا ہے کہ رؤیت کا مقصد چاند کے وجود کا علم و یقین حاصل کرنا تھا، لہذا اگر یہ علم و یقین رؤیت کے بغیر سائنسی علم سے حاصل ہوجائے تو رؤیت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کی دلیل کے طور پر وہ 30 تاریخ کے بعد چاند کی رؤیت معطل ہوجانے کو پیش کرتے ہیں کہ چونکہ رویت کے ماسواء دیگر ذرائع سے یہ بات معلوم ہے کہ قمری مہینہ 31 کا نہیں ہوتا لہذا 30 کے بعد رؤیت کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ اسی طرح اگر 29 کو بھی کسی علم سے چاند کے وجود کا علم میسر آجائے تو 29 کو بھی رؤیت کی ضرورت نہیں۔ ان حضرات کے خیال میں فلکیات کے علم کی روشنی میں کیلنڈر بنا لینا چاہیے۔

اس بحث میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک ہے ”چاند کی پیدائش“ اور دوسرا ہے ”اہل زمین کی چاند کی رؤیت“۔ میں علم فلکیات کا ماہر تو نہیں ہوں مگر اس بارے میں جو کچھ سن رکھا ہے، اس کی رو سے فلکیات والوں کا کہنا ہے کہ چاند کی پیدائش زمین والوں کے لیے اس کی رؤیت کو مستلزم نہیں، بلکہ ”چاند کی پیدائش کے بعد“ جب چند مزید تکنیکی شرائط پوری ہوجائیں تب زمین والوں کے لیے چاند کی رؤیت ممکن ہوپاتی ہے۔ گویا تکنیکی اعتبار سے بھی ”چاند کی پیدائش“ اور ”زمین والوں کے لیے اس کی رویت“ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ احادیث کا مدلول واضح طور پر ”زمین والوں کے لیے اس کی رویت“ ہے نہ کہ ”اس کی پیدائش“۔ پھر یہ جو ”چاند کی پیدائش“ کو اس کے وجود کے ہم معنی قرار دیا جا رہا ہے، اس میں مسئلہ یہ ہے کہ چاند تو موجود ہی ہوتا ہے، اگرچہ وہ بعض دنوں میں ”زمین والوں کو“ نظر نہ آئے۔ تو ”چاند کا مجرد وجود“ تو کوئی مفہوم نہیں رکھتا کیونکہ وہ تو ہر وقت موجود ہے بلکہ مفہوم ”زمین والوں کے لیے اس کا وجود“ ہی ہوسکتا ہے اور اس کا تعلق ”زمین والوں کے لیے امکان رویت“ سے ہے نہ کہ ”وجود یا پیدائش ہلال سے“۔ پس ”چاند کی مجرد پیدائش“ کو مدار احادیث قرار دینا غلط ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ پھر 30 تاریخ کے بعد چاند کی رویت کیوں ساقط ہوگئی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ علم و تجربہ بتاتا ہے کہ 30 کے چاند کی رویت ”حتمی طور“ پر ثابت شدہ و معلوم ہے۔ اگر تو ماہرین فلکیات کا علم یہ ثابت کرسکے کہ 29 کے چاند کی رؤیت کا امکان اہل زمین کے لیے کس کس مقام پر حتمی طور پر معلوم و ثابت شدہ ہے، تب مقاصدی فکر والوں کا مقدمہ کچھ مضبوط ہوسکے گا، اس کے بغیر نہیں۔ مگر اب تک کے معلوم علم فلکیات میں ایسا کوئی حتمی دعوی موجود نہیں لہذا فی الوقت مقاصدی فکر والوں کا مقدمہ اتنا مضبوط نہیں جس قدر یہ پیش کرتے ہیں بلکہ روایتی فکر والے مضبوط پوزیشن پر ہیں۔ اس ضمن میں گھڑیوں کے ذریعے نمازوں کے اوقات مقرر کرنے کی دلیل میں بھی یہی مسئلہ ہے۔

”پورے عالم اسلام“ کے لیے روزہ و عید کا دن ایک کرنے کا سوال کیا جارہا ہے مگر ایک ہی شہر میں ایک ہی دستر خوان پر بیٹھے ہوئے دو مسلمان الگ الگ وقت میں افطار کرتے ہیں، اس پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہا، کیوں؟ بلکہ میڈیا باقاعدہ ٹائمنگ نشر کرتا ہے کہ فقہ فلاں کے مطابق سحر و افطار اتنے بجے اور فلاں کے مطابق اتنے بجے۔ اس سے ”مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی“ پر اثر کیوں نہیں پڑتا؟

پھر یہ چاند کی پیدائش کو بنیاد بنا کر ایک ہی دن چاند چڑھا کر ایک ہی دن عید کا تقاضا بھلا کیسے پورا ہوسکے گا؟ جب فجی و امریکہ والے عید ادا کررہے ہوں گے تب برصغیر میں روزہ افطار کیا جا رہا ہوگا، یعنی ”تاریخ کا فرق“۔ اور جب ہم عید کے لیے وضو کررہے ہوں گے، فجی و امریکہ والے سونے کے لیے بستر سیدھے کر رہے ہوں گے، تو اس سب مشق کے بعد اتحاد کا خواب کیسے پورا ہوگا؟

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.