بے حساب – شمسہ ارشد

“بیٹھو، مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے”
“جی ادی! بولیں”
“میں نے تم سے کتنے میں بات کی تھی تین کاموں کی؟ ”
“ادی! تین ہزار میں، ایک ہزار جھاڑو کے، ایک ہزار برتن کے اور ایک ہزار کپڑے دھونے کے، سو روپے الگ سے کچرا پھینکنے کے ۔۔۔”
وہ حیرت سے میرا چہرہ تکتے ہوئے بولی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟
“اور میں نے تم سے کتنے دن کپڑے دھلوائے؟” میں نے درشت لہجے میں سوال کیا
“ادی! بس دو ہفتے ۔۔۔” وہ بولی
“وہ بھی صرف بچوں کے چند چھوٹے کپڑے، باقی میری مشین ٹھیک ہوگئی تو میں نے پھر خود ہی لگانی شروع کردی تھی۔۔۔۔ صحیح یا غلط؟” میں نے اس کی بات درمیان سے اچک لی
“ہاں ادی! پر ہوا کیا ہے؟ بات تو بتائیں، میری سمجھ میں نہیں آرہا ۔” وہ سہمی ہوئی سی مجھے دیکھ رہی تھی ۔
“کچھ نہیں بس تمہیں تھوڑا حساب سمجھا رہی تھی میں کیونکہ تم پڑوس والی باجی کے ہاں جا کر کہتی ہو کہ پتا نہیں ادی نے کچرے کے سو روپے دیے یا نہیں ؟ جبکہ کپڑے میں نے صرف دو ہفتے دھلوائے اور تین ہزار پورے دیے تمہیں، اس طرح تو تمہاری طرف میرا حساب نکلتا ہے پر تم اتنی احسان فراموش ہوگی میں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔” میں غم و غصے کی تصویر بنی کام والی ماسی پر برہم ہو رہی تھی جو ڈیڑھ ماہ پہلے ہی میرے گھر کام پر لگی تھی ۔
جب میں انکوائری کرنے گئی تھی تو غریب شہناز کا گھر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئی تھی۔ گھر کیا تھا ؟ بس اللہ کی زمین پر دو جھلنگا سی چارپائیاں پڑی تھیں جن میں سے ایک پر اس کا بیمار شوہر بے ترتیب سا پڑا ہوا تھا۔ دمے کا مریض تھا ۔ کچھ گندے سے تکیے اس کے ارد گرد رکھے تھے اور سامنے زمین پر اوپر تلے رکھی دو اینٹوں پر ایک گندا سا واٹر کولر رکھا تھا۔ایک کونے میں ایک مٹی کا چولہا ، اس میں کچھ جلی ہوئی لکڑیاں اور چولہے کے ارد گرد چند گلاس، پلٹیں، دیگچیاں اور چند چائے کے پیالے۔ دوسرے کونے میں کچھ کپڑے کی گٹھڑیاں، جن میں شاید استعمال کے کپڑے بندھے تھے اور اوپر تلے کے چھ بچے ۔ یہ تھی اس کی کل کائنات ۔
میرا بیٹا جو اس دن میرے ساتھ تھا، یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد کئی دنوں تک ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا رہا “مما! وہ گھر تھا؟ چھت تو تھی ہی نہیں۔ کیسے رہ سکتا ہے کوئی ایسے؟ مچھر دیکھے تھے آپ نے وہاں؟ یہ لوگ سوتے کیسے ہوں گے؟” وہ آنکھوں میں آنسو لیے یہ سب کہتا رہا جس پر میں نے بڑی مشکل سے سمجھا بجھایا اور اس کا فیورٹ پیزا آرڈر کرکے اسے بہلایا۔ پھر اسی کے ہاتھوں سے شہناز کو ایک ہزار روپے بھی دلوائے جو پچهلے رمضان کی زکوٰۃ کی مد میں نکالنا رہتے تھے تاکہ میرے بیٹے کو کچھ تسلی ہو جائے ۔
“نہیں ادی میں نے تو برابر والی ادی کو یہ کہا تھا کہ کچرے کے پیسے دے کر بھی آپ نے شاید زیادہ پیسے دے دیے ہیں ” وہ ایک دم گھبرا سی گئی۔
“جھوٹ مت بولو ، بس آئندہ میں تمہیں ایک ایک کام کا پورا حساب کرکے ہی پیسے دوں گی ۔ کپڑے میں خود آٹو میٹک مشین میں دھوتی ہوں اس لیے اب تمہیں بس دو ہزار روپے اور سو روپے کچرا پھینکنے کے گن کر دیا کروں گی ۔”
“نہیں ادی! غصہ نہ ہو، قسم اللہ پاک کی، تیرے ہاں تو میں اپنا گھر سمجھ کر شوق سے کام کرتی ہوں ۔” وہ گھگھیائی
“بس کر شہناز فالتو کی ڈرامے بازیاں ! ارے میں تجھے روز اپنے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کراتی ہوں، تیرا خیال رکھتی ہوں، تیرے بچوں کے لیے کپڑے کھانا جو مجھ سے ہوتا ہے دیتی ہوں ۔”
“ہاں ادی! میں نے کب انکار کیا ؟”
“ہزار روپے تو تجھے اس دن کھڑے کھڑے بنا کسی حساب کتاب کے دلوائے تھے، اپنے بچوں کے ہاتھوں۔ پھر سو دو سو ہر ہفتے صدقے کے ہی دیتی ہوں اور تو سو روپے پر جان دے رہی ہے ؟ توبہ ۔ اب سے ہر کام حساب کتاب سے ہوگا، بس جاؤ، اپنا کام کرو ” میں غصے سے تن فن کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ “اب آئے گا اسے مزہ،” میں نے لیٹے لیٹے سوچا ۔
لیکن اتنا غصہ کرکے بھی نجانے کیوں سکون نہیں مل رہا تھا، کیا بات تھی سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ۔ شام ہوگئی اسی بے سکونی میں ۔ بچوں کو رات کا کھانا کھلا کر سلادیا۔ میاں بھی بے خبر سو رہے تھے۔ چار بجنے والے تھے اور میں کئی گھنٹوں سے موبائل ہاتھ میں لیے اسکرین سے کھیل رہی تھی۔ شاید یہ تہجد کا وقت تھا ۔ میں نے آج تک نماز تہجد نہیں پڑھی تھی ، سو آج بھی نہیں پڑھی ۔
“توبہ، قرب قیامت ہے۔ جس کا جتنا خیال کرو، وہ اتنا ہی سر پر چڑھ جائے،” اچانک مجھے ایک بار پھر شہناز کا خیال آیا ۔ “میسنی کہیں کی، کیسے بھیگی بلی بنی ہوئی تھی،” میرے چہرے پر ایک طنزیہ سی مسکراہٹ در آئی ۔
“اس میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے،” اچانک جیسے کسی نے میرے کان میں ہولے سے کہا ۔
میں چونک سی گئی ۔
“شہناز نے تمہاری چند چیزوں ، فقط چند استعمال شدہ چیزوں، کو لے کر بھی تمہاری نمک حرامی کی ۔ تم ایسا ہی سمجھتی ہو نا؟ ۔ پر تم ۔۔۔ تم تو اس کی نمک حرامی کرتی ہو جس نے تمہیں اس قابل بنایا کہ تم شہناز جیسی عورتوں پر حکمرانی کر سکو ۔ سوچ کر دیکھو اس کے بھی اتنے ہی ہاتھ ہیں جتنے تمہارے، اتنے ہی پاؤں ہیں جتنے، آنکھیں، ناک، منہ، بال، جسم سب تمہارے جیسا ہی تو ہے! وہ بھی عورت ہی تخلیق کی گئی ہے ۔ تمہاری ہی طرح ۔ اگر تمہارا رب اسے تمہاری جگہ اور تمہیں اس کی جگہ بنا دیتا تو ؟ ؟؟؟
“تم نے کبھی اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا؟ نہیں نا؟ بلکہ اپنا حق سمجھا ۔ اس کی دی ہوئی ہر سہولت ہر آسائش اور ہر نعمت کو اپنا حق جان کر وصول کیا اور بدلے میں ؟ سجدے کے نام پر ماری گئی پانچ وقت چند ٹکریں اور بس؟ کیا کرو گی اس دن جب تم اور تم سے سوال کرنے والا تمہارا مالک آمنے سامنے ہوں گے ؟ کیا جواب دو گی اسے جب وہ پوچھے گا کہ میری بے شمار نعمتوں کے بدلے تم نے میری حمد بھی کی تو انگلیوں یا تسبیح کے دانوں پر گن گن کر ؟
“بولو! کیا تم نے نمازوں کا حق بالکل اسی طرح ادا کیا جیسا کہ کرنا چاہیے تھا ؟ شہناز کو تو تم نے وہ وہ نعمتیں تک گنوا دیں جو کہ اس کا حق تھا جیسے صدقہ اور زکوٰۃ وغیرہ ، لیکن بتاؤ جو عیش و عشرت بھری زندگی تمہیں عطا کی تھی کیا وہ واقعی تمہارا حق تھی؟ کیا تم واقعی ان کی اہل تھیں ؟
“تم نے اسے روز کھلانے والا کھانا تک جتادیا، بتاؤ وہ کھانا تمہیں کس نے دیا؟
“تم نے تو اسے اپنی اور اپنے بچوں کی اترن دے کر بھی جتایا، بتاؤ تمہیں تن ڈھانپنے کو کپڑے کس نے دیے؟
“تم اس وقت اس کمزور عورت کے سامنے اپنی بڑائی جتارہی تھیں، اپنے آپ کو اس کا حاکم سمجھ رہیں تھیں ، جب زمین و آسمان کا حاکم و مالک تمہارے سامنے ہوگا تو اسے حساب کیسے دو گی؟ دو حساب!
اللہ اکبر! اللہ اکبر !!
یہ مؤذن کی آواز تھی ۔میں ایک دم چونک سی گئی ، چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ آنسوؤں سے تر تھا ۔ جسم بری طرح کانپ رہا تھا، دل کی دھڑکن تیز تھی۔ “یا اللہ! مجھے بخش دے ۔ یہ میں کیا کر بیٹھی انجانے میں ؟” میری نگاہوں میں شہناز کا چہرہ گھوم گیا ۔ اس کی گھگھیائی ہوئی اواز میری سماعت پر ہتھوڑے سے برسانے لگی ۔
“یا اللہ ! میں نے اپنے کانوں پر اپنی ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالا اور فوراً وضو کرنے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ بے شک میرا رب وہی ہے جو اندھیرے سے اجالے کی جانب لاتا ہے۔

“سنیں رمضان بس شروع ہونے ہی والا ہے ،” ناشتے کی ٹیبل پر شوہر سے مخاطب ہوکر کہا۔
“ہاں شاید 26 کو پہلا روزہ ہوگا ” وہ سوچتے ہوئے بولے ۔
“میں سوچ رہی ہوں کہ زکوٰۃ کے پیسے تھوڑے تھوڑے کر کے تین چار غریب خاندانوں کو دیتے ہیں، جس سے کسی کو ہینگ بھی نہیں لگتی ہوگی شاید۔ بجائے اس کے اگر ہم کسی ایک ہی خاندان کی کچھ ایسی مدد کردیں جو اس کے آگے بھی کام آسکے تو؟ مطلب کوئی بڑا کام نہ کروا دیا جائے کسی ایک ضرورت مند کا ؟”
“بڑا کام؟ مثلاً؟” وہ بغور میری جانب دیکھتے ہوئے بولے ۔
“مثلاً میں سوچ رہی ہوں کہ کیوں نا عید تک شہناز کو ایک کمرہ، ایک چھوٹا سا کچن اور ایک باتھ روم بنوا کر دے دیا جائے ؟” اس طرح اس بے چاری کو یوں کھلے آسمان تلے تو نہیں سونا پڑے گا ۔”
” مما ؟؟؟” بیٹے کی آنکھوں میں جیسے موتی سے جھلملا گئے ۔
شہناز جو کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی، ایک دم کچن کے دروازے پر آکر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔
“ہاں! بات تو تم ٹھیک کر رہی ہو ۔ چلو میں کل کسی مستری کو اس کی طرف بھیجتا ہوں، دیکھیں کم سے کم بھی کتنا خرچہ آئے گا ۔” چائے کی چسکی لیتے ہوئے انہوں نے کہا ۔
“ہرے !!!! مما مزا آ جائے گا، شہناز کا بھی گھر بنے گا !!” میرا بیٹا مجھ سے لپٹ گیا ۔
میں نے گردن گھما کر شہناز کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں کیا کچھ نہیں تھا ؟ حیرت ، تشکر ، محبت اور خوشی، وہ بھی بے حساب !!

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam