عشاق کا مہینہ - جویریہ سعید

نیلے آسمان پر سفید و سرمی بادل تیر رہے ہیں اور روشن مسکراتا سورج ان سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہے. ہوائیں جنگلی پھولوں کی مسحور کن مہک سے بوجھل ہیں. سامنے پیڑ پر نارنجی صدری پہنےایک رابن چہک رہا ہے. جھاڑیوں میں بھورے خرگوش پھدکتے پھر رہے ہیں. دور تک بچھی مخملی گھاس پر ٹہلتے ہوئے میں خوشی سے سوچتی ہوں، ”جاڑے کے سرد اور اداس دن گزر گئے. اور بہار آ ہی پہنچی“.

موسم گرما اور اس کی رونقوں کے خیال سے ہی ہر دل مسرور ہے. ہر سو خوشی چہکتی ہے. پکنکس، باربی کیو، بائیکنگ اور نہ جانے کیا کیا. سو طرح کے کام ہیں. گھروں کی مرمت ہو رہی ہے، لان سجائے جا رہے ہیں، ہر ایک باغبانی کر رہا ہے. دور پہاڑوں پر اور جھیلوں کے کنارے کیمپنگ کے پروگرام بن رہے ہیں.

بچوں کے ساتھ درختوں میں پریاں اور بونے تلاش کرتے میرا دل چاہتا ہے کہ ان لمحوں کو اپنی مٹھیوں میں قید کر لوں. سرخ روش کے ساتھ بہتے دریا کا شور، پھولوں کی مہک، جھومتے سبز درخت اور یہ نرم چمکیلی دھوپ. یہ سب یوں ہی رہے. کبھی چھوڑ کر نہ جاے. اے کاش!

تم جانو! گرما کے یہ اجلے دن اور سحر انگیز راتیں، برف کے اس شہر میں کتنی بڑی نعمت ہیں، اور روح کو سرشار کرتی یہ خوشی کس قدر عارضی ہے.

ابھی کچھ روز پہلے تک یہ سارا شہر برف سے ڈھکا تھا. سرد اداس اور اندھیرے دن. جاڑے کی لمبی ٹھٹھرا دینے والی راتیں، سوکھے ڈراؤنے درخت اور جھاڑیاں اسے گویا ایک آسیب زدہ شہر بنائے رکھتی تھیں. شور مچاتی ہواؤں کے ڈر سے یہاں کے باسی سر شام ہی گھروں میں بند ہو جاتے تھے. برف کی موٹی تہہ کے نیچے دریا کا پانی کاہلی سے بہتا تھا.

کون سوچ سکتا تھا کہ یہ شہر پھر سے یوں جی اٹھے گا. بہار کی پہلی بارش کے بعد سوکھے درختوں کے نیچے سبزے نے سر اٹھا لیا ہے. کس نے تصور کیا تھا کہ رب مہربان اس طور مردہ زمین کو زندگی بخشے گا. رب کی آیات کو اپنی آنکھوں سے جیتا جاگتا دیکھنا کتنا زبردست احساس ہوتا ہے نا. ارشمیدس کے ”یوریکا“ کی مانند. اچھا، تو وہ یہ تھا. واہ. سبحان اللہ.

یہ بھی پڑھیں:   سال رفتہ اور 9، 10 محرم کا روزہ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ساتھی.!گرما کے مہربان موسم میں ہم اپنے دروازوں پر ایک اور موسم کی دستک سن رہے ہیں نا. حیات آفریں دستک!

یہاں آؤ. دریا کنارے اس تنہا چٹان پر بیٹھ کر ذرا کی ذرا اپنے اندر کی دنیا میں جھانکیں. یہ جو میرے تمھارے دل کی بستی ہے، اس پر بھی تو سرد موسم کے ڈیرے ہیں. سارا شہر ایمان کی حدّت سے خالی ہے. روح ٹھٹھرتی مردہ ہوئی جاتی ہے. جذبوں اور عمل کے پیڑ پودے ٹنڈمنڈ سے ہیں. گناہوں کی بھاری ہوتی گٹھڑی کو کاندھے پر لادے چلنا کس قدر مشکل ہوتا جاتا ہے. اور وہ جو دائیں بازو سے لٹکا نیکیوں کا ہلکا سا تھیلہ ہے، بار بار گھبرا کر اسے ٹٹولتے ہیں، کہ ساتھ موجود بھی ہے یا نہیں.

ایسے میں ملتجی نگاہیں اور اس بھرے جذبے آسمانوں کی طرف پرواز کرتے ہیں. ”اے مردہ زمیں کو زندگی بخشنے والے! دل کی بستی میں بھی موسم بہار بھیج.“

ہاں، تو سنو ساتھی! اس موسم بہار کی دستک. حیات آفریں ، راحت بخش دستک.
یوں جیسے، موسم گرما کی آمد سے پہلے ہی ہم تم نے خوب تیاریاں کی تھیں. سامنے صحن میں اور پائیں باغ میں نت نئے بیج اور پنیریاں لگائی تھیں، نئی کھاد بچھائی تھی. سارے خود رو پودے کانٹ چھانٹ کر ٹماٹر، ہری مرچوں اور بینگن کے پودوں کے لیے جگہ بنائی تھی. روش کی مرمت کر کے نئے قمقمے لگائے تھے کہ جب بہار کی ہواؤں اور گرما کی بارشوں کی رت آئی تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی.

میرے ساتھی! اسی طور اس موسم بہار کی تیاری بھی کرنی ہے. دل کی زمیں کو نرم کرنا ہے، تاکہ خیر کے پھولوں سے اندر باہر سب مہکنے لگے.

رمضان عشاق کا مہینہ ہے۔ دیکھو تو ذرا کیسے بے شمار دیوانے کسی کی محبت میں بھوکے پیاسے پھرتے ہیں۔ لمبے دن ہیں، گرمی بھی بلا کی پڑ رہی ہے، لوگ ٹھنڈے یخ مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لنچ ٹائم میں آفس اور سکولوں کے کچن اور میس سے آتی کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں ساری عمارت میں پھیل جاتی ہیں۔ اس میں شرٹ کی آستین چڑھائے ایک دیوانہ، سکرٹ پر ہم رنگ حجاب لپیٹے ایک نوجوان لڑکی امتحانی مرکز سے پسینہ پونچھتے ہوئے دو نوجوان، معذور شوہر کی دیکھ بھال کرتی ایک دھان پان سی بوڑھی خاتون، چھوٹے چھوٹے بچوں کے پیچھے بھاگتی ہر دم مصروف رہنے والی ماں اور نہ جانے کتنے ہی اور کسی کی محبت میں دیوانہ وار بھوکے پیاسے پھرتے ہیں۔ راتوں کو جب سب نیند کی نرم آغوش میں آنکھیں موندے پڑے ہوتے ہیں، تو کچھ عاشق کسی کے دربار میں ہاتھ باندھے کھڑے ہو جاتے ہیں، فرط جذبات میں آنکھیں چھلک چھلک پڑتی ہیں۔ سر سجدوں میں سکوں پاتے ہیں۔ ایسے دیوانوں کو میں عقیدت سے دیکھتی ہوں۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے ہاتھ چوم لوں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماہ محرم، دس محرم کا روزہ، فضیلت اور سبب – عادل سہیل ظفر

ساتھی! رمضان تو عشاق کا مہینہ ہے، کسی کی محبت میں کھانا پینا، آرام نیند اور مزے تج کر عجیب نشے سے سرشار پھرتے عاشقوں کا۔

آؤ! ہم تم اپنے دل کی مردہ ہوتی زمینوں میں اس کے ذکر کے بیج لگائیں، اٹھے بیٹھے، بس میں سفر کرتے، پھل کاٹتے، کھانا بناتے، آفس میں کاموں کے بیچ چار پل چرا کر آنکھیں موند کر ذرا گردن جھکا کر ”یار من“ کو یاد کریں۔ اس کے نامے کو شوق سے پڑھیں، جس میں کچھ عشاق کے مقدس قصے ہیں، جو روح کو نئے جذبوں سے سرشار کرتے ہیں۔ محبوب کی محبوب مخلوق کو پیار بھری مسکراہٹ دان کریں، کسی کا حال پوچھ لیں، کسی کا ہاتھ بٹا دیں، کسی کی چپکے سے مدد کر دیں، کسی کو معاف کر دیں، کسی سے معافی مانگ لیں، کسی کا درد سن لیں، کسی کے آنسو پونچھ دیں، کسی عادت بد کی قربانی دے لیں۔

یہ عشاق کا مہینہ ہے، آؤ اس ماہ میں اپنے محبوب کی بارگاہ میں محبت کی کچھ قندیلیں روشن کر دیں کہ جن سے ہمارے دلوں کے تاریک ایوان منور ہو جائیں اور ہمارے معاشرے اس ٹھنڈی سکوں آور نور سے جگمگانے لگیں۔

لو سنو.. شعبان کی مہکتی ہوائیں رمضان کے موسم بہار کی خبریں لا رہی تھیں، اور آج ہماری بستیاں رمضان کی رحمت سے جل تھل ہو گئی ہیں۔
کل عام و انتم بخیر.
ماہ رمضان مبارک

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!