اسلامی جمہوریہ پاکستان او ر پیمرا - شہاب رشید

آج شام خبریں دیکھنے کے لیے ٹیلی وژن آن کیا تو ایک اشتہار بار بار چل رہا تھا میرے ساتھ والد محترم بھی تشریف رکھتے تھے ان سے آنکھیں چرا کر میں نے ریموٹ سے چینل تبدیل کر دیا مگر پرائم ٹائم کی وجہ سے وہ اشتہار ہر چینل پر ہی چل رہا تھا۔اشتہار کیا تھا، یہ بتانے سے پہلے قرآن کا حوالہ اور چند باتیں ضروری سمجھتا ہوں:

" وہی ہے اللہ جس نے تمہیں پیدا کیاپھر تم میں سے ایک گروہ کفار کا ہے اور ایک مومنین کااور اللہ تمھارے اعمال کو دیکھ رہا ہے"۔ (التغابن آیت نمبر ۲) یعنی دو قومی نظریے کی بنیاد ہمیں قرآن کریم میں ہی مل جاتی ہے۔قبل از تقسیم ہند یہاں دو بڑی قومیں آباد تھیں، مسلمان اور ہندو جن کا مذہب، انداز فکر، تصور حیات، نصب العین اور رہن سہن ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔صدیوں تک اکٹھے رہنے کے باوجود وہ ایک دوسرے سے مختلف تھے اور اب بھی ہیں۔دو قومی نظریے کے مطابق الگ وطن کا مطالبے کا خواب پورا ہوا اور آج آئین پاکستان کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ مملکت پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہوگی اور اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا۔ اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہو گا۔پاکستان میں مسلمانوں کو انفرادی و اجتماعی حلقہ عمل میں اس قابل بنایا جائے گاکہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیاہے،ترتیب دے سکیں۔

اب آتے ہیں اس اشتہار کی طرف کہ جس میں لڑکا گھر کا دروازہ کھولتا ہے اور اپنے موبائل کی سکرین پر نوٹ دیکھتا ہے جس پر لکھا ہے "ڈیٹ ود صبا ان ٹین منٹس"۔ موبائل کی بیڑی ڈاؤن ہے لڑکا موبائل چارجنگ پر لگاتا ہے اور خود جلدی سے تیار ہوکر موبائل کو دیکھتا ہے جو ابھی تک چارج نہیں ہوا۔ آواز آتی ہے آپ تو چارج ہو گئے پر آپ کا فون نہیں۔ لڑکا موبائل اٹھا کر جلدی سے گاڑی سٹارٹ کرتا ہے مگر گاڑی سٹارٹ نہیں ہوتی۔ لڑکا اپنی گاڑی سے نکل کر ٹیکسی کے پیچھے بھاگتا ہے مگر وہ بھی نکل جاتی ہے۔ اتنے میں لڑکی بے تابی سے فون کرتی ہے تم کہاں ہو؟ اور ساتھ ہی لڑکے کے موبائل کی بیٹری ڈیڈ ہو جاتی ہے اور فون کٹ جاتا ہے۔ اتنے میں لڑکی کی نظر ریسٹورنٹ میں بیٹھے ایک اور لڑکے پر پڑتی ہے دونوں مسکر ا کر معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ لڑکا جب ریسٹورنٹ پہنچتا ہے تو لڑکی دوسرے لڑکے کے ساتھ جا چکی ہوتی ہے۔ پھر کیو موبائل کی خوبی بیان کی جاتی ہے کہ کس طرح یہ پچاسی فی صد عام موبائل سے جلدی جارجنگ کرتا ہے۔ اشتہار سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر آپ کے پاس یہ کیو موبائل ہو گا تو آپ کے موبائل کی چارجنگ جلد ہو جائے گی اور آپ کے بر وقت پہنچنے پر آپ کی گرل فرینڈ کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ نہ جا پائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارا اخلاقی زوال اور اس کے اسباب - نبیل اقبال بلوچ

اس اشتہار میں کیا پیغام دیا گیا ہے؟ کس قسم کا کلچر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے؟ کہ پاکستانی لڑکیوں کا بوائے فرینڈ وقت پر نہ آ سکے تو وہ کسی اور کے ساتھ چل پڑتی ہیں؟پھر اشتہار صرف یہ نہیں، چاہے موبائل کا ہو یا کسی اور پراڈکٹ کا، لگتا ہے ہمارے ہاں چیزیں بغیر لڑکی کے ناچ گانے اور اوٹ پٹانگ حرکتوں کے بک ہی نہیں سکتیں۔ یوں لگتا ہے کہ مادر پدر آزاد خیال، لبرل و سیکیولرمالکان کا " میڈیا" ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خاص ایجنڈے کو مد نظر رکھ کر نوجوان نسل کی رگوں میں غیر محسوس انداز میں لبرل ازم کا زہر بھر رہا ہے، جسکی اگلی منزل سیکولرازم ہو گی۔نہ جانے اس لچر پن، بے حیائی و عریانیت کا انجام کیا ہو گا؟ دو قومی نظریہ آج کہاں ہے؟اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی اقدار کہاں ہیں؟ آج انڈین میڈیا اور پاکستانی میڈیا میں کیا فرق ہے؟اگر ہندو ثقافت کو ہی پاکستان میں پروان چڑھانا تھا تو پھر لاکھوں لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی کا کیا مقصد تھا؟ آئین پاکستان میں موجود اسلامی نظریاتی کونسل قائم تو کر دی گئی لیکن آج کیوں غیر فعال نظر آتی ہے؟ فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کیوں بے اثر ہیں؟تحریک پاکستان کا سب سے بڑا نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ تھا، پھر ہم نے اس کو عملی جامہ کیوں نہ پہنایا؟

پیمرا آرڈیننس 2002ء کے مطابق اشتہار سے بصری اور سمعی پیغامات کا سیٹ مراد ہے جن کا مقصد کسی مصنوعہ، خدمت یا تصور کی تشہیر یا کسی مصنوعہ یا خدمت کو فروخت کرنے، خرید نے یا کرایہ پر لینے کی تشہیر یا دیگر متعلقہ اثرات پیدا کرنا ہے۔آرڈیننس کی دفعہ20 کے مطابق پیمرا اس امر کو یقینی بنائے گا کہ پروگرامز اور اشتہارات، تشدد،دہشت گردی، نسلی تعصب، نسلی یا مذہبی منافرت،فرقہ واریت،انتہاپسندی یا نفرت یا فحش نگاری،فحاشی عامیانہ پن یا دیگر ایسے مواد پر مشتمل ہو جو عام طور پر شائستگی کے قابل قبول معیارات کے برعکس ہو، کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا۔دفعہ27 کے مطابق اتھارٹی تحریری حکم کے زریعے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کسی براڈ کاسٹ میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروس آپریٹر کو حسب ذیل کے چلانے سے منع کرے گی۔کسی پروگرام یا اشتہار کی براڈ کاسٹنگ یا مکرر براڈ کاسٹنگ یا ڈسٹری بیوٹنگ میں اگر اس کی رائے یہ ہو کہ مذکورہ پروگرام یا اشتہار نظریہ پاکستان کے خلاف ہے یا اس سے لوگوں کے مابین نفرت پیدا ہو سکتی ہے یا امن و امان قائم کرنے میں بد نظمی پیدا کرے یا امن عامہ اور سکون کو خراب کرنے والا ہو یا قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہو یا فحش، ناشائستہ یا بیہودہ ہو یا شائستگی کے عمومی قابل قبول معیارات کے برعکس ہو۔ درج بالا کسی بھی وجوہ کے باعث اتھارٹی دفعہ 30 کے تحت براڈ کاسٹ میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروس کے لائسنس کو منسوخ یا معطل کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خواتین کی عریانی اور مرد - ابویحیی

پیمرا رولز 2009ء کے جدول الف میں درج ہے کہ ایسا کوئی پروگرام نشر نہیں کیا جائے گا جس میں کوئی عریاں، فحش یا غیر شائستہ مواد ہو یا جس سے عوام کے اخلاقیات، جذبات مجروع ہونے، ان میں بگاڑ پیدا ہونے یا ان میں بد چلنی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔یا یہ بنیادی ثقافتی اقدار، اخلاقیات اور شائستہ اطوار کے خلاف ہو۔ شق’ی‘ـ کے مطابق جو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر پاکستان یا اس کے عوام کی توہین یا اس کے وقار اور یکجہتی کو تباہ کرنے کا باعث ہو۔شق ’ع‘ کے مطابق کوئی ایسا مواد جو نظریہ پاکستان یا اسلامی اقدار کے خلاف ہو۔دفعہ ’’2د‘‘ کے مطابق ایسا اشتہار جو غیر اسلامی اقدار یا الکحل مشروبات یا شہوت جذبات یا بدکاری کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے۔ ذیلی دفعہ ’’ک‘‘کے مطابق ایسا اشتہار جس میں غیر شائستہ، بے ہودہ یا اشتعال انگیز موضوع یا انداز اپنایا گیا ہو۔ ذیلی دفعہ’’ ل‘‘ کے مطابق جس میں ایسا مواد شامل ہو جو اسلامی اقدار یا نظریہ پاکستان کے خلاف ہو۔قابل نشر نہ ہو گا۔شق نمبر چار کے مطابق کوئی ایسا اشتہار نہیں دیا جائے گا جس کو بچوں کی اکثریت دیکھے اور یہ انہیں کسی خاص برانڈ کی براہ راست خریداری یا اپنے والدین کو ایسا کرنے پر اصرار کریں۔

درج بالا قوانین اور پیمرا اختیارات کو جاننے کے بعد ہم یہ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یا تو پیمرا کے چیئرمین و اراکین نے ابھی تک پیمرا کے قانون و رولز کو پڑھا ہی نہیں یا پھر یہ سب بھی میڈیا و بزنس گروپس کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں۔ اگر پیمرا ہمارے مختلف چینل پر چلنے والے ایوارڈ پروگرامزکو غور سے دیکھے تو محسوس ہو گا کہ وہ کوئی انڈین پروگرام دیکھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اکثر ڈرامے بھی لچرپن کا شکار ہیں ۔

اگر پیمرا اپنے اختیارات کو استعمال کرے اور ہر ٹی وی ڈرامہ و اشتہار کو قانون میں دی گئی کسوٹی کے مطابق پرکھے تو مجھے یقین ہے کہ حالیہ دور میں نشر کیے جانے والا تقریبا ہر ڈرامہ، ایوارڈ شو اور اشتہار نشر نہ ہوسکے۔ اگر پیمرا نے اپنے اختیارات کو استعمال ہی نہیں کرنا تو پھر کیا ضرورت ہے اس ادارے پر کروڑوں روپے ضائع کرنے کی؟ افسو س ہے کہ ملک میں موجود تمام سیاسی پارٹیاں اس ایشو پر مجرمانہ غفلت اور خاموشی کا شکار ہیں۔ اگر پاکستان کا نام محض نام کی حد تک ہی اسلامی جمہوریہ رکھنا تھا تو صرف جمہوریہ پاکستان ہی کافی تھا۔

Comments

شہاب رشید

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!