انصاف سے کام لینا چاہیے - محمد عامر خاکوانی

مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب والے معاملے پر میں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا اور اس پر قائم ہوں۔ میرے خیال میں کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں نظم اجتماعی کا ساتھ دینا چاہیے۔ یہی درست طریقہ ہے۔ چاند کے تعین کے لیے ریاستی سطح پر ایک انتظام موجود ہے، رؤیت ہلال کمیٹی میں تمام مسالک کے علمائےدین موجود ہیں۔ ان کی علمی ثقاہت، دیانت اور کریڈبیلٹی پر یقین کرنا چاہیے۔ مفتی منیب الرحمن سے کسی کو مسلکی اختلاف ہوسکتا ہے، مگر وہ بہرحال نہایت معقول اورسنجیدہ اہل علم ہیں۔ فرقہ پرستی سے دور رہتے ہیں اور دینی مدارس کے معاملات میں بھی اتحاد اور اتفاق کی طرف مائل رہتے ہیں۔ مفتی منیب الرحمن اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں، ہم نے ان کی تحریر میں کبھی حکومت پرستی، خوشامد یا حب اقتدار نہیں پایا۔ لگی لپٹی رکھے بغیر وہ صاف بات کہتے ہیں، جس سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے، مگر اس کی علمی شائستگی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ مفتی پوپلزئی یا ان کے حلقے کا کوئی بھی شخص ہزاروں، لاکھوں روزے داروں کا روزہ ضائع کرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا، کوئی گناہ گار شخص بھی ایسا رسک نہیں لےگا، کجا کہ کوئی اہل علم۔ یہی گمان میرا مفتی منیب الرحمن اور رؤیت ہلال کمیٹی کے دیگر اراکین کی جانب ہے۔ ان پر تو زیادہ بوجھ اور ذمہ داری ہے۔ کروڑوں لوگوں کا روزہ ان پر منحصر ہے۔ وہ کیسے شہادتوں کو رد کر سکتے ہیں اور روزے میں تامل یا تاخیر کرنےکا رسک لے سکتے ہیں؟ اس سے انہیں کیا مل جائے گا؟ مفتی منیب صاحب پر اعتراض کرنے والا یا ان سے استعفی کا مطالبہ کرنے والا دل پرہاتھ رکھ کر بتائےکہ کیا وہ دانستہ کروڑوں مسلمانوں کا روزہ ضائع کر سکیں گے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ مفتی منیب الرحمن اور ان کی رؤیت ہلال کمیٹی پر اعتماد کرنےمیں ہمیں یہ اطمینان ہے کہ ہم نے نظم اجتماعی کا ساتھ دیا ۔ اگر خدانخواستہ کہیں کوئی غلطی ہو بھی گئی تو اس کی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد نہیں ہوسکتی۔ کسی ایک مسجد یا گروہ کا ساتھ دینے والے اطمینان کے ساتھ یہ بات نہیں کر سکتے۔

آج رمضان کا چاند میں نے بھی دیکھا ہے۔ مجھےحیرت ہوئی کہ واضح چاند کو جواز بنا کر کچھ دوستوں نے مفتی پوپلزئی صاحب کی حمایت کرنے اور منیب الرحمن صاحب پر تبریٰ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اپنی چالیس پنتالیس سالہ زندگی میں خاکسار نے متعدد بار ایسا صاف اور روشن چاند دیکھا۔ تیس دنوں کے بعد کا چاند اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے یہ کیسےکہا جاسکتا ہے کہ یہ دوسری کا چاند ہے؟ ویسے مفتی پوپلزئی صاحب کے چاند کی شہادتوں کا کبھی سائنسی ثبوت نہیں ملا۔ کبھی ایسا نہیں ہو سکا کہ اس نامعلوم، بےچہرہ چاند کی تصویر ہی بنا لی جائے، حالانکہ آج کل تو طاقتور کیمرے آ چکے ہیں۔

میرا نہیں خیال کہ خیببر پختونخوا کی گواہیاں مسترد کرنے کا کوئی ایشو ہے۔ جس کسی نے اسےلسانی ایشو بنایا، اس نےزیادتی کی۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ مفتی منیب کا تعلق خود خیبر پختون خوا سے ہے۔ رؤیت ہلال کمیٹی میں دیوبندی مسلک کے لوگ موجود ہیں، انہیں مفتی پوپلزئی سےکیا مخاصمت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح صوبائی رؤیت ہلال کمیٹی بھی موجود ہے۔ سوال یہ نہیں کہ شہادتیں مانی نہیں جاتیں۔ سوال یہ ہے کہ ہر بار کچھ لوگوں کو، مخصوص علاقوں میں، مخصوص مسالک کے لوگوں کو کیوں چاند نظر آتا ہے؟ اس پورے علاقے میں کہیں اور کسی اور مسلک کے بندے کو نظر کیوں نہیں آتا۔ کیا ان علاقوں میں رہنے والے اہل تشیع یا بریلوی حضرات مغرب کے وقت آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور چاند دیکھنے کی دانستہ کوشش نہیں کرتے؟ پھر کیا اس وقت ان علاقوں میں سائنسی طور پرچاند دیکھے جانےکا امکان بھی ہے یا نہیں، یہ بہت اہم سوال ہے۔

خیر اہم نکتہ یہ تھا کہ آج شام کو اس ایشو پر میں نے اپنی فیس بک وال پر دو پوسٹیں کیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میری وال پر اختلاف رائے کرنےوالے دوستوں نے بہت تہذیب اور شائستگی کا مظاہرہ کیا اور سخت الفاظ لکھے بغیر اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ اس سے دل شاد ہوا۔ حالانکہ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے اپنی پوسٹوں میں مفتی پوپلزئی صاحب کےلیے سخت الفاظ استعمال کیے۔ ماہ رمضان اب شروع ہوچکا ہے، نرمی اور حلاوت والا مہینہ۔ میں کچھ دیر میں اپنی پہلی دونوں پوسٹیں ڈیلیٹ کر دوں گا۔ میرے کسی جملے سےکسی بھائی ، دوست کا دل دکھا تو اس کی دلی معذرت۔ دل دکھانا ہرگز مقصد نہیں تھا، مگر کبھی درد سوا ہوجاتا ہے تو تحمل نہیں رہتا۔