سعودی عرب کا دفاع، حقیقت کیا ہے؟ - پروفیسر جمیل چودھری

امریکی صدر ٹرمپ کے دو روزہ دورۂ ریاض اور اس سے پہلے اسلامی عسکری اتحاد کے قیام کے وقت عالمی سطح پر یہ محسوس کیاگیا کہ سعودی عرب اپنے آپ کو خطرات میں گھرا ہوا سمجھتا ہے۔ انہی خطرات سے نمٹنے کے لئے وہ دہائیوں پہلے سے امریکی دفاعی چھتری کے نیچے آگیا تھا اور امریکہ سے جدید ترین ہتھیاروں کی خرید بھی بڑے پیمانے پرجاری رکھے ہوئے ہے۔ تقریباً40 ممالک پر مشتمل اسلامی عسکری اتحاد کی تشکیل کے پیچھے بھی یہی محرک ہے۔ آج ہم مختصر جائزے میں یہ دیکھیں گے کہ سعودی عرب کی اپنی دفاعی صلاحیت کی کیا صورت حال ہے؟ ساحلی اور بری سرحدیں کتنی پھیلی ہوئی ہیں؟ اور اس کے دفاع کے لئے آل سعود نے کیاکچھ کیا ہے اور مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟

سعودی عرب 22 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ رکھنے والا ایک بڑا ملک ہے، جس کی برّی سرحد کی لمبائی4415 کلومیٹر اور ساحلی سرحد کی لمبائی2640 کلومیٹر ہے۔ اس کی ساحلی سرحدوں سے بحیرہ احمر اور خلیج فارس کے پانی ٹکراتے ہیں اور بری سرحدیں اردن، عراق، کویت، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر اور یمن سے ملتی ہیں۔ سعودی عرب نے اب تک اپنے ساحلوں اور بری سرحدوں کے دفاع کے لئے کافی انتظامات کئے ہیں۔ 1991ء میں پہلی خلیجی جنگ میں سعودی بری فوج عراق سرحد پر موجود رہی اور کارروائیوں میں اتحادی فوجوں کے ساتھ ملکر حصہ لیا۔ سعودی فضائیہ کے طیاروں نے نے7 ہزاراڑانیں بھریں۔ یہ سعودی افواج کا جدید طرز کی جنگ لڑنے کا پہلا تجربہ تھا۔

2003ء میں دوسری خلیجی جنگ کے وقت بھی سعودی افواج شمالی سرحدوں پر موجود رہیں۔ ان دونوں جنگوں کے وقت سعودی عرب کی خلیج فارس کے راستے تیل کی سپلائی کی نگرانی میں سعودی عرب کی افواج کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بڑے پیمانے پر ساتھ دیا۔ سعودی افواج کی ٹریننگ امریکیوں کی طرف سے اس لمبے عرصہ میں جاری رہی۔ 90ء کی دہائی کے شروع سے لیکر2003ء تک امریکہ کے10 ہزار سپاہی سعودی عرب میں موجود رہے۔ اسامہ بن لادن ان امریکی سپاہیوں کی موجودگی کے بڑے خلاف تھے اور نائن الیون کا واقعہ انہی افواج کی سعودی عرب میں موجودگی کا شاخسانہ سمجھا جاتا ہے۔

سعودی عرب کا دفاع؛ انحصار شروع سے ہی امریکی اور مغربی اسلحہ پر رہا ہے۔ اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے خریدا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ اس تمام اسلحہ کو استعمال کرنے کا موقع کم ہی آیا ہے۔ سعودی عرب برائے نام اسلحہ اپنے ملک میں تیار کرتا ہے۔ چار کمپنیوں کے نام معروف ہیں جو ابتدائی نوعیت کا اسلحہ تیارکرتی ہیں۔ بکتر بند گاڑیاں مقامی سطح پر تیار ہوتی ہیں، باقی برّی، بحری و فضائی افواج کے زیر استعمال تمام جدید اسلحہ باہر سے خریدا جاتا ہے، جس کے لیے مختلف ملکوں ےس معاہدے ہوتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خیبر اور مدائن صالح کا سفر (حصہ دوم) - معظم معین

2010ء کے بعد اب 2017ء میں بھی 110 ارب ڈالرز کا سودا ہوا ہے جس کا اسلحہ آئندہ 10 سال تک خریدا جاتا رہے گا۔ اس میں امریکا کے جدید ترین جہاز، ٹینک اور دیگر سامان شامل ہیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں بڑا رقبہ ہونے کے باوجود سعودی عرب کی اپنی آبادی صرف3کروڑ ہے اور اس میں سے تقریباً6 لاکھ متحرک دفاع کے لئے دستیاب ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق باقاعدہ بری فوج3 لاکھ، نیشنل گارڈز 2لاکھ اور دیگر مسلح ادارے ملکر بری افرادی قوت کو6 لاکھ تک پہنچاتے ہیں۔ بحری فوج کی افرادی قوت60ہزار اور ائیر فورس کی 40 ہزار ہے۔ ان سے علیحدہ سعودی سٹریٹجک میزائل فورس ہے، جو ایک یونیک دستہ ہے۔ نیشنل گارڈز بھی جدید ترین ہتھیار وں سے لیس ہیں اور پرانی قبائلی فورسز سے ترتیب دیے گئے ہیں۔ ۔ رائل گارڈز کاکام آل سعود کی حفاظت ہے۔ سعودی عرب اپنی افواج پر جی ڈی پی کا 10 فیصد اور اپنے سالانہ بجٹ کا25 فیصد خرچ کرتا ہے۔ سعودی عرب میں فی سپاہی اخراجات دنیا میں بہت زیادہ شمار ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ88 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ ہے۔ دو ایجنسیاں ایم آئی ایس اور جی آئی ڈی وہی کام کرتی ہیں جو اطلاعاتی ایجنسیوں کے ذمہ ہوتا ہے۔

جہاں تک اسلحے کی تعداد و مقدار کا تعلق ہے تو اس سے سعودی گودام بھرے پڑے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے لیکن یہ استعمال کم ہوتے ہیں۔ سعودی فضائیہ کے پاس تقریباً 800 طیارے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ لڑاکا ہیں۔ پھر پائلٹوں کی تربیت اور سازوسامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے جہاز بھی ہیں۔ بحریہ کے پاس بھی نئے اور پرانے 55 جہاز ہیں، جن میں سے کئی جدید ترین ہیں۔ ٹینکوں کی تعداد بھی ایک ہزار سے زیادہ بتاتی جاتی ہے۔ کیونکہ ہر ورقت نیا اسلحہ آتا رہتا ہے اس لیے یہ تعداد حتمی نہیں ہے۔

یہ تمام ہتھیار اور دفاعی سازوسامان انتہائی مہنگے اور جدید ترین ہیں۔ اس لیے سعودی عرب تمام پڑوسی ممالک سے اس شعبے میں آگے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر سعودی عرب کو خطرہ کس سے ہے؟ اگر آپ نقشے میں دیکھیں تو سعودی عرب کے شمال میں عراق کی ریاست ہے جہاں کے چند علاقوں پر داعش کا قبضہ ہے اور سعودی عرب کو سب سے زیادہ چیلنج اسی نام نہاد خلافت سے درپیش ہے جو اب تک سعودی عرب میں 15 دھماکے کروا چکی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی شام میں بشار الاسد کی حکومت ہے جو ایران اور روس کی حمایت سے کافی مستحکم ہو چکی ہے۔ عراق میں بھی شیعہ اکثریت ہے اور سعودی مخالف عناصر حکومت کا اہم حصہ ہیں۔ مشرق کی جانب خلیج فارس کے ساتھ ایران واقع ہے جس کے ساتھ عرصے تک سعودی عرب کے تعلقات معمول پر رہے ہیں اور بات بیان بازی سے آگے نہیں بڑھی۔ البتہ اب حالات مختلف ہو رہے ہیں۔ ایران خلیج فارس میں بڑے پیمانے پر موجودگی رکھتا ہے اور یہیں سے وہ یمن کے باغیوں کو اسلحہ پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ یمن میں لڑائی کا آغاز 2009ء میں ہوا تھا اور 2015ء میں حالات سخت خراب ہو گئے۔ سعودی عرب اپنے توپ خانے اور فضائیہ سے یمن میں بغاوت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ابھی تک اسے کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ لہو لہو ، اسلحے کی بڑھتی تجارت اور " حقوق انسانی" کا عالمی دن - محمد عاصم حفیظ

اسلامی عسکری اتحاد کی تشکیل کے پس پردہ یہی محرکات ہیں۔ ریاض کانفرنس کے ذریعے سعودی عرب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں بلکہ امریکا جیسی سپر پاور تک ہمارے ساتھ ہے۔

سعودی عرب کے دفاع کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہاں دہائیوں سے صرف ایک خاندان کی حکومت ہے۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والا کوئی ادارہ موجود نہیں یعنی قوم کی اجتماعی دانش کے اظہار کے لیے کوئی نہیں۔ سعودی دفاعی صلاحیت اس خامی کو دور کرنے سے کافی بڑھ سکتی ہے۔ بادشاہت کے اختیار کم کرکے منتخب شوریٰ کو دینے سے ملک کے باسیوں میں ہمت و حوصلہ پیدا ہوگا اور جب معاملہ قومی و دفاعی نوعیت کا ہوگا تو عوام اس میں براہ راست شریک ہوکر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں چند ممالک کے علاوہ پورا کرۂ ارض عوامی حکومتوں کے تحت کام کرتا نظر آ رہا ہے اور سعودی نوجوان بھی ایسی خواہشات رکھتے ہیں۔ ہو سکتاہے کہ یہ قدم سعودی عرب کو امریکی افواج کی ضرورت سے آزاد کردے اور اسلامی عسکری اتحاد جیسے فیصلوں کی بھی ضرورت نہ پڑے۔ پھر تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے انتظامات کے ذریعے ایسی انجینئرز اور ماہرین کی نوجوان نسل تیار کی جائے جو مختلف النوع اسلحہ جات کی تیاری ملک میں کرنے کے منصوبے بنائے۔ تیل کی دولت کو اسلحہ خریدنے کے لیے واپس امریکا کو دینا بے وقوفی ہی کہلائے گی۔ سعودی عرب اب بھی اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ان تجاویز پر بھی عمل کرے تو وہ ناقابل تسخیر ہو سکتا ہے۔