ٹرمپ کا دورہ سعودیہ اور شاہ کا مصافحہ – یوسف سراج

اوبامہ کا استقبال کرنے والا شاہ سلمان، ٹرمپ کے استقبال کے وقت کہاں گم ہو گیاتھا؟ فروری 2015ء میں شاہ سلمان اوبامہ کا استقبال کر رہے تھے کہ عین اسی دورا ن انھیں اذان سنائی دی۔ ایسے میں شاہ سلمان اوبامہ کو سرخ قالین پر حیران چھوڑ کر مسجد چلے گئے تھے۔ تو کیا یہ وہی شاہ سلمان تھے؟ جنھوں نے ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا سے مصافحۃ فرمایا۔ جبکہ ملانیا نے سر پر سکارف اوڑھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی تھی۔ سعودیہ لینڈ کرنے سے پہلے، اگرچہ میلانیا نے جہاز میں سعودی عرب کے لیے زیادہ انچ کپڑوں پر مشتمل لباس پہن لیا تھا، سعودی ریاست میں آنے کے باوجود انھوں نے بال البتہ کھلے چھوڑ رکھے تھے۔ مگر جب وہ عیسائی مذہبی ریاست ویٹی کن سٹی میں پوپ کے ہاں حاضر ہوئیں تو تب انھوں نے سر ڈھانپ لیا تھا۔ یہ نہیں کہ ہمیں میلانیا سے اسلامی لباس کی توقع کرنی چاہیے، البتہ سعودی عرب کی روایت اس سلسلے میں اور رہی ہے۔ اور یوں بھی ہر ملک اپنے مہمانوں اور سیاحوں کو ایک ضابطۂ اخلاق دیتا ہے، جس کی ہدایت پر عمل کر کے ہی وہ کسی ملک کی سرزمین پر قدم رکھ سکتے ہیں۔ تو کیا سعودیہ بدل رہا ہے یا شاہ سلمان کو بادشاہت کے امور کا اندازہ نئے نئے بادشاہ بننے کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ ہوگیا ہے؟ کیا وہ زمینی حقائق اور عالمی امور میں پہلے سے زیادہ تجربہ کار ہوگئے ہیں؟

ٹرمپ کے دورے کے دوران بھی کم از کم ایک دفعہ وہی اوبامہ کا استقبال کرنے والے شاہ سلمان بھی نظر آئے۔ یہ استقبال ہی کے دوران، اس وقت کی بات ہے جب امریکی صدر اور دیگر مہمانوں کو قہوہ پیش کیا گیا۔ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ نے اپنے بائیں امریکی ہاتھ میں عربی قہوے کا فنجان تھام لیا۔ اگر آپ نے غور کیا ہو تو میڈیا ہمیشہ یہی دکھاتا ہے، خیر 80 سالہ بزرگ شاہ نے نرمی سے انھیں بتایا کہ مشروب دائیں ہاتھ میں لیناچاہیے، فوراً ہی ٹرمپ نے پیالی بائیں سے دائیں ہاتھ میں کر لی اور اپنی اہلیہ کو بھی یہی ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا، Always right hand یعنی دائیں ہاتھ سے پینا چاہیے۔ دراصل مسلمانوں کو دائیں ہاتھ سے کھانے پینے کا حکم ہے۔ ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے دیکھ کر رسولِ معظمؐ نے دائیں ہاتھ سے کھانے کی تلقین فرمائی۔ نخوت سے اس نے کہا، میرا دایاں ہاتھ تو اٹھ ہی نہیں سکتا۔ رسولِ اقدس نے اسے اپنی بات کو نہیں، ایک نبی کے فرمان کو یوں تکبر کا نشانہ بناتے دیکھا تو فرمایا: ’’تب وہ کبھی اٹھ ہی نہ سکے۔‘‘ حدیث کی کتب بیان کرتی ہیں کہ فالج سے پھر اس متکبر شخص کا وہ ہاتھ شل ہو گیا اور زندگی بھر دوبارہ اٹھ نہیں سکا۔ مولانا ظفر علی خان یاد آگئے ؎
رکھے وہ یاد خسروِ پرویز کا مآل
پہنچا ہو جس کے ہاتھ فرمانِ مصفطیٰؐ
ٍیعنی جس شخص کے پاس محمدِ مصطفیٰؐ کا فرمان پہنچ چکا ہو، وہ خسروِ پرویز ایرانی بادشاہ کا انجام یاد رکھے، جس نے آپ کے نامۂ مبارک کو پھاڑ دیا تھا تو اس کا انجام یہ ہوا کہ اسی کے بیٹے شیرویہ نے باپ کو قتل کر ڈالا اور بہت جلد اس کی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔

سیدنا عمرِ فاروق نے ایک صحابی کو بائیں سے کھاتے دیکھا تو کوڑا رسید کر دیا، اور پھر پوچھا، دائیں سے کیوں نہیں کھاتے؟ وہ کام آچکا ہے، صحابی نے بتایا۔ کہاں؟ سیدنا عمر نے پوچھا۔ فلاں معرکے میں، انھوں نے بتایا۔ تب اشک خلیفہ کی آنکھوں سے راستہ ڈھونڈتے ان کے رخساروں پر نکل آئے اور روتے ہوئے خلیفہ عمر نے اپنے ہاتھوں سے انھیں کھانا کھلایا۔ ساتھ ہی فرماتے تھے، پہلے کیوں نہ بتا دیا۔

بات ہو رہی تھی ٹرمپ کے دورہ کی، تو ٹرمپ یہاں اپنی اہلیہ میلانیا، اپنی بیٹی ایوانکا اور داماد کے ساتھ کسی بھی ملک کے اپنے پہلے دورے پر آئے تھے۔ یہ دورہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اپنی لیکشن مہم میں انھوں نے سعودیہ کے خلاف بڑی جارحانہ باتیں کی تھیں۔ شاید مکہ اور مدینہ کے بارے بھی انتخابی جوش میں کچھ باتیں کر ڈالی تھیں۔ اب مگر وہ مکہ مدینہ کے لیے کچھ اور طرح کے جذبات رکھنے والے ایران سے نمٹنے کی باتیں کر رہے تھے، خواہ وہ ایک سو دس ارب ڈالر کمانے کے لیے ہی ایسی باتیں کر رہے ہوں مگر ہمیں اقبال یاد آگئے۔ وہ جو انھوں نے ہلاکو کے پوتے کے مسلمان ہونے پر کہا تھا۔۔ع
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

آدمی کبھی سوچتا ہے کہ کیا ایران سعودیہ تنازع حل نہیں ہو سکتا؟ یا کم ازکم کیا یہ اپنی حدود طے نہیں کر سکتا؟ کیا مسلمان ممالک اپنی ضمانت دے کر دونوں کے مابین کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں کروا سکتے کہ جس میں دونوں کے تحفظات اور حدود کا تعین کر دیا جائے۔ بجائے اس کے کہ ممالک سعودیہ کو ایران کا ہوا دکھا کر سعودی ریال اور ایران کو سعودیہ پر چڑھائی کا راستہ دکھا کر اس سے ایرانی ریال بٹورتے رہیں۔ اور امریکہ جیسے ممالک دونوں کو اربوں ڈالر کا اسلحہ اور خوف بیچ کر اپنی معیشت کی رگوں میں طاقت نچوڑتے رہیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ امت کا کتنا سرمایہ ا س ایک مد میں امت کے مقابل اور مخالف کھا جاتے ہیں۔ سوچنا یہ بھی پڑتا ہے کہ گو ایران کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں مگر کیا واقعی وہ اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا سعودیہ اسے اپنے لیے سمجھتا ہے؟ ویسے خود پاکستان کے ذمے دارلکھاری اس حوالے سے ایران کے کردار پر مطمئن نہیں ہو سکے۔ سعودیہ کا تو خیر مسئلہ ایمان کے حوالے سے ہماری پہلی ترجیح ہو سکتی ہے، زمینی سرحد تو ہماری ایران سے ملتی ہے۔ افسوس مگر پاکستان خود اپنے حوالے سے بھی اور باجود کوشش کے بھی، اپنے اس ہمسائے سے خوش رہنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ پاکستان کے حریف بھارت سے ایران کے دفاعی معاہدے، کلبھوشن یادیو جیسے بھیجے اس کے تحائف، گوادر اور سی پیک کو ناکام کرنے کی چاہ بہار جیسی کاوش اور اک جعلی اکڑ سے ہمیں مرعوب کرنے کی اس کی کوششیں۔ اللہ جانے برادر اسلامی ملک ایران اسے ہمارے لیے کافی بھی سمجھتا ہے یا نہیں۔ کبھی میں حیرت کرتا ہوں کہ سعدی و شیرازی کا وہ شیریں ملک، وہ ملک کہ جس کے کچھ نمائندے علامہ حسین اکبر، عین غین کراروی اور فیس بک کے نرم خو عالم لکھاری امجد عباس کی صورت اتحاد، اعتدال اور رواداری کی بات کرتے ہیں۔ کیا وہ ایران کو کچھ سمجھا نہیں سکتے؟ آخر وہ کیوں وہی ایران بننا چاہتا ہے جو اوریا مقبول جان کے کالموں میں دکھایا گیا ایران ہے۔

شاہ کے مصافحے کو تجزیہ نگاروں نے بدلتے ہوئے سعودیہ کا استعارہ قرار دیا ہے۔ میرا خیال ہے یہ ایک واضح بات ہے۔ شاید شاہ نے اب مظاہر سے زیادہ روح پر اور جذباتی نعروں سے زیادہ عملیت پسندی پر زور دینا پسند کیا ہے۔ دراصل ہمارے ہاں پرجوش مذہبی جماعتوں اور حکمت سے زیادہ حمیت پر مدار کرنے والے مجاہدوں نے عوام کے سامنے اسلام کا جو جذباتی چہرہ بنا رکھا ہے، اسلام اس کے علاوہ بھی کچھ شیڈز رکھتا ہے، جو اسی طرح یا شاید ان سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ اسلام میں ایک چیز ہوتی ہے فقہ الضرورہ، آپ اسے عبوری دور بھی کہہ سکتے ہیں۔ بہت اچھے حالات کے انتظار میں کبھی مسلمان کو ایک بفر زون میں بھی داخل ہونا پڑتا ہے، جس میں اصل پر قائم رہتے ہوئے فروع میں لچک پیدا کر لی جاتی ہے۔ خیر کچھ بھی ہو عالمی تھانیدار کا اپنے اولیں دورے کے لیے ایک مسلمان ملک کو چننے اور یہاں سعودی شاہ کے حسبِ ہدایت پیالی بائیں سے دائیں ہاتھ میں منتقل کر لینے سے کم از کم دنیا کو یہ احساس ضرور ہوا ہے، کہ مسلمان بھی اس دھرتی کی اک زندہ عالمی حقیقت ہیں۔ ان کو نظرانداز کر کے عالمی پہیہ نہیں گھوم سکتا۔ اس دورے سے تمام امت ِ مسلمہ میں اعتماد کی ایک روح دوڑ گئی ہے اور نائن الیون کے بعد کے حالات اور پھر ٹرمپ مدظلہ کے اخباری خیالات کے بعد، عالمی سطح پر مسلمان خود کو جتنا غیر محفوظ سمجھ رہے تھے، اس دورے سے اس میں نمایاں کمی آئے گی۔

Comments

FB Login Required

حافظ یوسف سراج

گمنام قبیلے کا اک گمنام فرد ہوں. قلم پکڑنا سیکھتا ہوں پر گاہ اس سے اپنا اور گاہ دوسروں کا سر قلم کر بیٹھتا ہوں. سو تادیر نادم اور ناشاد رہتا ہوں. ہاں تہمت کچھ 'نئی بات' اور 'پاکستان' کا کالم نگار اور پیغام ٹی وی کا ریسرچ ہیڈ ہونے کی بھی ہے. باقی میرا اثاثہ اور تعارف میرے احباب ہیں.

Protected by WP Anti Spam