"رمضان ریزولوشنز" - محمد اشفاق

نئے شمسی سال کے آغاز کی طرح، رمضان کے آغاز کے ساتھ بھی ہم مسلمان بہت سے نیک عزائم باندھتے ہیں۔ کچھ بری عادات ترک کرنے اور کچھ نیکیاں اپنانے کا مصمم ارادہ کرتے ہیں۔ جہاں کچھ خواتین و حضرات رمضان کو اپنا فالتو وزن گھٹانے کے لیے استعمال کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں، وہیں کئی سموکر حضرات اس مقدس مہینے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمباکو نوشی ترک کرنے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔

مجھے اعتراف کر لینے دیجیے کہ ان دونوں مواقع پر میرا حال "ارادے باندھتا ہوں، توڑ دیتا ہوں" والا ہوتا ہے۔ لیکن بہرحال یہ بھی رمضان کی برکت ہے کہ اس ماہ مقدس کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں ہمیں اپنی زندگیوں کے اندر جھانکنے کی اور اپنے اعمال و کردار کا جائزہ لینے کی توفیق ملتی ہے وہیں اپنی سیرت اور اپنی زندگی میں بہتری لانے کا بہترین موقع بھی میسر آتا ہے۔

حسبِ روایت اپنے لئے "رمضان ریزولوشنز 2017ء" کا پیکج تیار کر رہا تھا کہ خیال آیا کیوں نہ اسے آپ دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کر دیا جائے۔ کچھ معاملات کو بندے اور خدا کے بیچ ہی رہنا چاہئے، ان سے ہٹ کر باقی آئیڈیاز آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، اللہ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق دے، آمین۔

1۔ ایک بری عادت چھوڑ دیجئے، ایک اچھی اپنا لیجئے

ہوتا کیا ہے کہ ہم جوشِ ایمانی میں اتنا کچھ سوچ لیتے ہیں، جس پر چند دن یا ایک ماہ تو ہم عمل پیرا ہو جاتے ہیں مگر اسے اپنی پوری زندگیوں پر لاگو کرنا تقریباً ناممکن ہوا کرتا ہے۔ آئیے اس رمضان یہ تہیہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی کوئی سی ایک بری عادت مثلاً جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، فضول خرچی، کاہلی وغیرہ کو محض اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ دیں گے۔ اور اس کے بدلے کوئی سی ایک اچھی عادت مثلاً اپنی کوئی پسندیدہ سنتِ مبارکہ، وقت کی پابندی، ایفائے عہد، ٹریفک قوانین کی پابندی، سلام میں پہل، بیماروں کی عیادت، شکریہ ادا کرنا، مسکرا کر ملنا وغیرہ کو اپنا لیں گے، ان شاءاللہ۔

2۔ میڈیا سے حتی الامکان دور رہیں

باتیں سنو تو لگتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ٹی وی چینلز کے رمضان شوز سے نالاں ہے، مگر ریٹنگ دیکھیں تو یہ پروگرام ہر سال ریکارڈ توڑ ہٹ ہوتے ہیں۔ اس بار زبانی کلامی تنقید سے ایک قدم آگے جانے کی کوشش کیجیے۔ ٹیلی وژن، ریڈیو، اخبارات و رسائل کو کوشش کریں کہ کم سے کم وقت دینا پڑے۔ سوشل میڈیا کو بھی روزہ گزارنے کے لیے مت استعمال کریں۔ اس کے بدلے چند اچھی سنجیدہ نوعیت کی دینی یا سماجی موضوعات پہ کتب ڈاؤن لوڈ کر لیجئے، اور اپنا فارغ وقت انہیں پڑھ کر گزاریں۔ آپ کو ان شاءاللہ خود محسوس ہوگا کہ زندگی تھوڑی زیادہ پرسکون اور آرام دہ ہو گئی ہے۔

3۔ قلتِ طعام کے ساتھ قلتِ کلام بھی اپنائیے

جو شخص اپنی شرم گاہ اور زبان کی حفاظت کر لے اسے جنت کی ضمانت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیتے ہیں۔ روزہ آپ کو شرم گاہ کے گناہوں سے بچا لیتا ہے، روزے کو زبان کے گناہوں سے بچانا آپ کا کام ہے۔ کوشش کیجیے کہ اس ماہ مبارک میں بولنے سے پہلے تولنے کی عادت اپنائیں۔ زبان کو اس طرح کھلا اور آزاد نہ چھوڑیں، جیسا کہ وہ پورا سال رہتی ہے۔ یہی برتاؤ سوشل میڈیا پر بھی اپنائیں۔ فضول بحثوں، ناشائستہ مذاق، ڈانٹ ڈپٹ اور طنز سے پرہیز فرمائیں، اپنا اور دوسروں کا روزہ برباد مت کریں۔

4۔ ایک ماہ کے لیے سیاست کی جان چھوڑ دیجئے

ہم پاکستانی حد سے زیادہ سیاست زدہ قوم ہیں۔ اپنا بہت زیادہ وقت اور توانائی ہم ایسے معاملات میں مغز کھپائی کی نذر کر دیتے ہیں، جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں اور ان میں سے بہت سے معاملات تو براہ راست ہم پر اثرانداز بھی نہیں ہوتے۔ بدقسمتی سے زیادہ امکان یہی ہے کہ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری ہمارے سینے پہ مونگ دلنے کے لیے رمضان کے بعد بھی دستیاب ہوں گے۔ اس قیمتی مہینے کو بیکار کی سیاسی بحثوں میں ضائع مت کریں۔

5۔ تنقید نہیں عمل

رمضان میں ہمارے اردگرد بہت کچھ غلط ہو رہا ہوتا ہے۔ سڑکوں پر 'رش آورز' میں ٹریفک کا دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ عید کی خریداری ہر طبقے کے بجٹ پر اضافی بوجھ بن جاتی ہے۔ یہ سب قابلِ فہم طور پر ہمارے مزاج پر اثرانداز ہوتا ہے، ہم تلخ ہو جاتے ہیں، ہم بے رحمانہ تنقید کرتے ہیں، مگر اس سے سنورتا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس بار کوشش کیجیے کہ اپنے اہلِ خانہ، اپنے کولیگز اور دوستوں کے مشورے اور تعاون سے اپنے معمولات اور معاملات کو اس طرح ترتیب دیں کہ یہ ذہنی کوفت کم سے کم ہو۔ یہ ختم نہیں ہوگی، اس کا مقابلہ صبر اور شکر کے ساتھ کیجیے، خود کو حتی الامکان پرسکون رکھنے کی کوشش کریں، اللہ پاک آپ کو اس کا بہترین اجر دے گا، ان شاءاللہ۔

6۔ صبر، صبر اور صبر

مرحوم اشفاق احمد کے پوچھنے پر ایک بار ان کے باباجی فرمانے لگے کہ یہ جو ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے آپ سٹیرنگ پر انگلیاں بجاتے ہیں، یہ بھی صبر کے شایان شان نہیں۔

صبر کا مطلب ہے، اپنے پورے ارادے کے ساتھ خود کو رب کی رضا کے حوالے کر دینا۔ جہاں کچھ برا، کچھ غلط ہو جائے، باس ڈانٹ دے، زوجہ سے تلخی ہو جائے، رش کی وجہ سے لیٹ ہو جائیں تو یہ سوچ لیں کہ آپ بہرحال اتنی اہم ہستی ہرگز نہیں کہ ساری دنیا آپ کی منشاء کے مطابق چلے۔ آپ کے جلنے کڑھنے اور بڑبڑانے یا بلبلانے سے کچھ بھی تبدیل ہونے والا نہیں، اس لئے بہتر ہے کہ ایسے موقع پر درودشریف کا ورد شروع کر دیں، ان شاءاللہ افاقہ ہوگا۔

7۔ دیتے ہوئے منصف مت بنئے

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اس ماہ میں جودوسخا کی آندھی بن جایا کرتے تھے، ہم کم ظرفوں کے بس میں یہ تو نہیں ہے، مگر کم از کم اتنا ہم کر سکتے ہیں، کہ مانگنے والے کی سکروٹنی کئے بغیر اس کے ہاتھ پہ چند سکے رکھ دیں۔ بھکاریوں کی مدد کے متعلق ہمارے ہاں مختلف نظریات رائج ہیں، آپ کا باقی سال جو بھی نظریہ ہو، اس ایک ماہ کوشش کریں کہ سائل خالی نہ جائے۔ جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں شائستگی سے معذرت کر لیجئے۔

8۔ گھر کا ماحول زیادہ سے زیادہ خوشگوار رکھیے

رمضان ہمارے روزمرہ کے معمولات کو بہت متاثر کرتا ہے۔ خواتینِ خانہ کو بہت سی اضافی ذمہ داریاں اور مرد حضرات کو بہت سے اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سولہ گھنٹے کی بھوک، پیاس اور اضافی کاموں کا بوجھ تھکن، جنجھلاہٹ اور کوفت کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں شعوری کوشش کیجیے کہ آپ کسی کا دن مزید مشکل بنانے، کسی کا روزہ خراب کرنے، کسی کا دل توڑنے کا سبب نہیں بنیں گے۔ مزاجاً خواہ آپ جیسے بھی ہیں، اس ایک مہینے گھر والوں سے حسنِ سلوک کے معاملے میں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کی کوشش کریں۔

9۔ عید کی تیاری مگر اعتدال کے ساتھ

عید کے لئے نئے کپڑوں، جوتوں وغیرہ کی خریداری میں بے جا اسراف کا مظاہرہ مت کیجیے۔ اپنے بیوی بچوں کی فرمائشوں کو ضرور پورا کیجیے، مگر اپنی چادر کے اندر رہتے ہوئے۔ کوشش کریں کہ عید کی خریداری میں اتنی بچت کر لیں جس سے ایک زنانہ،ایک مردانہ اور ایک بچگانہ کپڑوں اور جوتوں کا جوڑا خریدا جا سکے، یہ کسی ضرورتمند گھرانے کو تحفے کے طور پر دے دیں۔ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکرانہ ہو جائے گا۔

10۔ اگر آپ تاجر ہیں

تسلیم کہ آپ نے بھی اسی سیزن سے اپنی سالانہ آمدنی کا بیشتر حصہ کمانا ہوتا ہے، آپ کے بیوی بچوں کی بھی سو ضروریات ہیں، مگر خدارا بس اتنا کیجیے کہ اپنے منافع کے ہر دس فیصد میں سے ایک فی صد خالص اللہ کی رضا کے لیے کم کر دیں۔ یعنی جو چیز آپ نے سو کی لے کر ایک سو بیس میں بیچنے کی نیت کر رکھی، اسے ایک سو اٹھارہ کی فروخت کر دیجئے۔ اس سے آپ کے نفع میں سے بہت زیادہ کمی نہیں ہوگی، لیکن بہت سے لوگوں کی زندگی میں تھوڑی سی آسانی آ جائے گی، آسانیاں بانٹیں اور آسانیاں پائیں۔ یہی رمضان کی اصل سپرٹ ہے۔

آخر میں کچھ آسان اور آزمودہ رمضان ٹپس جو امید ہے کہ اس مبارک مہینے کو آپ کے لیے زیادہ خوشگوار بنا دیں گی۔

• رمضان کے مہینے کو تین عشروں میں اور ہر عشرے کو پانچ پانچ دن کے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیجئے۔ اپنے نیک عزائم، اپنی اضافی عبادتوں اور اپنے اخراجات کو ان بلاکس میں تقسیم کر کے دیکھیں، ان شاءاللہ زیادہ کامیابی ہوگی۔

• یہ تہیہ کر لیجئے کہ اس رمضان میں خود کو زیادہ تھکن اور کمزوری کا شکار نہیں ہونے دینا۔ کھانے پینے کے معمولات کے علاوہ نیند سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ کوشش کیجیے کہ دن کو وقت ملنے پر یہ کمی پوری کر لیں۔ کھانے سے زیادہ پینے کو ترجیح دیجئے۔ طاقتور مگر زود ہضم غذاؤں کا استعمال کیجیے۔ اور خوش رہئے۔

• جو بہن بھائی عام دنوں میں نماز کی پابندی نہیں کر پاتے، رمضان میں اپنی زیادہ کوشش نفلی عبادات کی بجائے فرائض کی تکمیل پر مرکوز رکھیں، فارغ اوقات میں قضا نمازوں کی ادائیگی نوافل سے زیادہ آپ کے کام آئے گی۔

• زکوۃ کی ادائیگی کے بعد اپنے صدقات و خیرات کے لیے بھی بجٹ میں ایک رقم مختص کر دیں تو بہتر ہے۔ رمضان میں آپ کا ذاتی خرچ عموماً گھٹ جاتا ہے، جیب خرچ میں اس بچت کو فقراء اور محتاجوں کی حاجت روائی پر صرف کیجیے۔