رمضان المبارک میں مائک کا پُر شور استعمال - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے. ہر سال رمضان شروع ہوتے ہی ایک صورت حال کا سامنا ہم میں سے ہر ایک کو ہوتا ہے. وہ یہ کہ مائک کا بے محابا استعمال ہوتا ہے، اس سے نہ صرف مساجد سے متّصل رہنے والے، بلکہ دور کے لوگ بھی پریشان رہتے ہیں. آبادی اگر مخلوط ہو اور وہاں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی رہتے ہوں تو معاملہ اور بھی سنگین اور حسّاس ہوجاتا ہے.

ایک زمانہ تھا جب مائک کا استعمال مسجد کے اندر بھی ناجائز سمجھا جاتا تھا، پھر اس کے جواز کی راہ نکال لی گئی، اور اب تو اس کا استعمال اس حد تک ہونے لگا ہے کہ ہر سنجیدہ اور شریف آدمی اس سے پریشانی محسوس کر رہا ہے.

مساجد میں نصف شب ہی سے مختلف اعلانات شروع ہوجاتے ہیں؛ اب ڈیڑھ گھنٹہ بچا ہے، اب ایک گھنٹہ باقی ہے، اب نصف گھنٹہ رہ گیا ہے، اب پانچ منٹ میں سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے، درمیان میں کبھی قرأت اور کبھی نعت کی ریکارڈنگ لگا دی جاتی ہے. یہ سب اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ وقت جاننے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ہر ایک کے پاس موجود ہے؛ گھڑی، الارم، موبائل وغیرہ. متعیّن وقت پر اٹھنے کا ہر شخص کے پاس نظم ہوتا ہے، بلکہ ہر شخص رات کے پچھلے پہر اٹھ کر کچھ نہ کچھ نوافل پڑھنے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کا اہتمام بھی کرتا ہے. ایسے عبادت گزاروں کی عبادت میں مائک کے پُر شور استعمال سے کتنا خلل واقع ہوتا ہے، اس کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.

رمضان المبارک کا مہینہ عبادت، تقرّب الہی، تضرّع اور تلاوت قرآن کا مہینہ ہے. یہ معمولات سکون و طمانینت کا تقاضا کرتے ہیں. بے جا شور و شغب سے ان میں خلل پڑتا ہے. پھر اگر آبادی مخلوط ہو تو اس معاملے میں اور بھی احتیاط ضروری ہے. جہاں دیگر مذاہب والے بے اطمینانی محسوس کریں وہاں ان کی رعایت کرنا دین میں پسندیدہ ہے. بعض شرپسند اور فتنہ پرور ایسی چیزوں کو بنیاد بنا کر فساد کرانے پر تلے رہتے ہیں، اس لیے بھی بیدار مغزی کا ثبوت دینا چاہیے.

یہ بھی پڑھیں:   دینی مدارس اور روزگار کا مسئلہ - محمد عرفان ندیم

قدیم زمانے میں جنگ کے موقع پر نعرے لگانے سے فوجیوں میں جوش و خروش پیدا ہوتا تھا، لیکن اس وقت بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تکبیر کے پُر شور نعروں کو پسند نہیں کیا اور صحابہ کرام کو ایسا کرنے سے روکا، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے :
حضرت ابو موسی اشعری بیان کرتے ہیں کہ جب صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ معرکہ خیبر کے لیے کوچ کیا تو ایک وادی میں پہنچ کر وہ تکبیر کے نعرے بلند کرنے لگے. پوری وادی اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کے نعروں سے گونجنے لگی. اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
ٹھہرو! تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ تم ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے، بلکہ وہ تمھارے ساتھ ہے. (بخاري:4205)

ماہ رمضان المبارک میں بہت سے مسلمانوں سے بعض ایسے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں جو اس کے تقدّس اور عظمت کو پامال کرتے ہیں. ان میں سے ایک مائک کا پُر شور استعمال ہے. ہمیں اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.