جزو اور کُل میں بندھی کائنات، ایک تجزیہ - عظیم الرحمن عثمانی

ہر جزو ایک کُل ہے اور ہر کُل خود سے برتر کُل کا جزو. جزئیات کا سفر کیے بناء کُل کی تفصیل و حقیقت معلوم کرنا ناممکن ہے اور کُل کا مشاہدہ کیے بغیر جزئیات کا باہمی ربط نہیں سمجھا جاسکتا. یہ ساری کائنات اسی جزو اور کُل کی تفریق میں بٹی اور جڑی ہوئی ہے
.
ایک سبز پتے کا مشاہدہ کیجیے، وہ اپنی مخصوص ساخت، دلکش رنگت اور منفرد چھاپ کی بنیاد پر ایک مکمل وجود رکھتا ہے. اپنے آپ میں اسے کُل کی حیثیت حاصل ہے مگر یہی پتہ جب کسی پھول سے منسلک ہوکر ٹہنی سے چمٹتا ہے تو اب یہ ”ٹہنی“ کُل کے مقام پر فائز ہوجاتی ہے اور پتہ کُل سے جزو بن جاتا ہے. یہ ٹہنی آگے بڑھ کر شاخ سے جڑتی ہے تو اب یہ شاخ کُل کی حیثیت اختیار کرتی ہے اور ٹہنی جزو کہلاتی ہے. اسی طرح یہ شاخ تنے میں اور یہ تنا جڑ میں اور یہ جڑ کھاد و مٹی میں اور پھر یہ مٹی زمین کی گود میں ضم ہوتے چلے جاتے ہیں. جو پہلے مرحلے پر کُل قرار پاتا ہے، وہ اب دوسرے مرحلے پر جزو بن جاتا ہے اور جو پہلے جزو تھا وہ اب کُل کہلاتا ہے.
.
یہی مثال انسانی وجود کی ہے. ایک خلیہ اپنے خدوخال، درج معلومات، خاص ساخت اور بہترین تناسب کے اعتبار سے ایک مکمل کُل کی حیثیت رکھتا ہے، مگر یہی خلیہ جب ناخن کی صورت میں ڈھلتا ہے تو اب خلیہ جزو اور ناخن کُل کہلاتا ہے. پھر یہی ناخن انگلی میں، انگلی ہاتھ میں، ہاتھ بازو میں اور بازو دھڑ سے جڑتا جاتا ہے. ہر درجہ پر ایک مکمل کُل موجود ہوتا ہے مگر اگلے درجہ پر یہی کُل جزو بن جاتا ہے
.
یہ معاملہ صرف عناصر کی ترتیب سے متعلق ہی نہیں ہے بلکہ اسی تناظر میں جب ہم انسان سمیت تمام مخلوقات جیسے حیوانات، نباتات، جمادات، حشرات، ملائکہ وجنات وغیرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر ان سب کو ایک باہمی تعلق میں جکڑا پاتے ہیں. یہ وہی باہمی تعلق ہے جو جزو اور کُل کے اصول پر دو مختلف عناصر یا مخلوقات کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے. بقول اسد اللہ غالب
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا ............... دیدہء بینا نہ ہوا
.
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ محض جزئیات کو واپس اکھٹا کر دینے یا جوڑ دینے سے کُل وجود میں نہیں آتا، یہاں تک کہ ان میں ایک تناسب و تعلق پیدا نہ ہو. لہٰذا ضروری نہیں کہ چاول، دودھ اور چینی کو اکھٹا کردینے سے کھیر لازماً وجود میں آجائے. حتیٰ کہ ان میں ایک خاص تناسب، ترتیب اور تعلق قائم ہو. یہ بھی دیکھیں کہ اگر کسی کُل میں سے جزو کو جدا کر دیا جائے تو وہ اپنی سابقہ معنویت کھو بیٹھتا ہے اور ایک نئے کُل کا جزو بن جاتا ہے، جیسے کسی تحقیقی مقالہ کے ایک جزو یا حصہ کو اس سے علیحدہ کر کے کسی دوسرے مقالہ میں استمعال کیا جائے تو جزو تو وہی رہےگا مگر اب وہ ایک نئے کُل کا حصہ کہلائے گا.
.
اسی اعتبار سے ہماری زمین ایک کُل ہے اور اس میں موجود پہاڑ، وادیاں، دریا، سمندر، صحرا، جنگلات، مخلوقات وغیرہ سب اس کے جزو کی حیثیت رکھتے ہیں. یہی زمین جب ہمارے نظام شمسی کا حصہ بنتی ہے تو اچانک کُل سے جزو کے درجہ پر آجاتی ہے اور کُل کا لقب نظام شمسی کو دے دیتی ہے. پھر یہی نظام شمسی سورج، چاند، زمین، مریخ وغیرہ باقی اور بہت سے سیاروں اور نظاموں کے ساتھ مل کر ”ملکی وے“ نامی کہکشاں سے منسلک ہوتے ہیں تو اب یہ کہکشاں کُل کہلاتی ہے اور اس میں موجود تمام سیارے بشمول ہمارے نظام شمسی کے، سب کے سب جزو یا جزئیات قرار پاتے ہیں. یہ سلسلہ یوں ہی مستقل دراز ہوتا جاتا ہے اور صاحب شعور پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ ریت میں دفن ایک حقیر ذرے سے لے کر عظیم تر کہکشاؤں اور خلاؤں تک، پوری کائنات درحقیقت ایک ہی اکائی ہے. یہ مادی دنیا جزو اور کُل کے ایک لامتناہی سلسلے میں پیوستہ ہے. ایک ایسا سلسلہ جس میں موجود ہر جزو دوسرے جزو سے مادی قوانین کے ذریعے مربوط انداز میں جڑا ہوا ہے. جیسے کشش ثقل کے قانون نے پوری کائنات کو ایک نادیدہ قوت، ایک بے مثال حسن، ایک عظیم تناسب سے جکڑ رکھا ہے. یہ تمام جزئیات کائنات نامی کُل کا حصہ ہیں جو ایک دوسرے کے باہمی اشتراک سے اس کُل کو کُل بناتے ہیں.
.
جب یہ حقیقت سمجھ آگئی کہ یہ کائنات کُل ہے اور بقیہ تمام اندرونی وجود اس کا جزو ہیں تو پھر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی جزو کی حرکت سے کُل متاثر نہ ہو. جس طرح گاڑی ایک کُل ہے اور انجن، پہیہ، ڈھانچہ وغیرہ اس کے جزئیات ہیں تو یہ ماننا ہوگا کہ اگر کسی ایک جزو میں بھی خرابی پیدا ہو جائے یا اس کی استعداد کم و زیادہ ہو جائے تو وہ بقیہ جزئیات سے میل نہ کھا کر پورے کُل پر ایک حد میں اپنا اثر مرتب کرے گا. سائنس میں بھی ایک تھوری ”بٹر فلائی افیکٹ“ کے نام سے رائج ہے جو بیان کرتی ہے کہ کائنات کے ایک حصہ میں تتلی کا پنکھ ہلانا کسی دور دراز حصے میں کسی بڑے حادثے جیسے آتش فشاں وغیرہ کا محرک و باعث بن سکتا ہے.
.
اگر سوچنے والے سوچیں تو یہ اپنے آپ میں ایک انکشاف ہے کہ کس حسن سے اس کائنات کا ذرہ ذرہ ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا ہے؟ کس طرح ہر شے اپنا مکمل وجود رکھ کر بھی جزئیات کی محتاج ہے اور اپنے سے بڑے کُل میں گم ہونے کو بے قرار؟، یہ حقیقت اس کائنات میں ہمیں ہمارے اپنے مقام سے روشناس کراتی ہے، ہمیں باشعور ہونے کی نعمت سمجھاتی ہے، ہمیں اس پرہیبت نظام کا حصہ بناتی ہے اور اس کائنات کو اپنا خاندان جان کر ذمہ داری اٹھانے کا احساس دلاتی ہے. ہمارا مشاہدہ چونکہ صرف مادی اشیاء تک محدود ہے لہٰذا جزو اور کُل کے اس سفر کو ہمیں اسی تناظر میں دیکھنا، سمجھنا اور محدود رکھنا چاہیے. مابعدالطبیعات کے حقائق جیسے خالق، ملائکہ، جنت و جہنم، برزخ وغیرہ پر اس اصول کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں