سکون کی تلاش - ببرک کارمل جمالی

نظروں کے سامنے سے جب لمبی لمبی چمچماتی گاڑیاں گزرتی ہيں تو ایک لمحے کے لیے یہ سوچ ہمارے ذہن میں بھی آتی ہے کہ اس گاڑی میں بیٹھے لوگ کتنی پر سکون زندگی گزارتے ہوں گے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنی لمبی گاڑی ہے، سکون زندگیوں سے اتنا ہی دور ہوتا ہے۔ یہ لوگ سکون قلب کی تلاش میں در بدر مارے مارے پھرتے ہیں کیونکہ دل کا سکون اس ظاہری کامیابی اور چمک دمک سے نہیں ملتا۔
اگر کامیابی دولت سے ملتی تو دنیا کا کامیاب ترین شخص قارون ہوتا، جس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ اگر کامیابی حکومت سے ہوتی تو فرعون اور نمرود جیسے حکمران ہوتے لیکن اصل کامیابی کیا ہے؟ وہ ہے دل کا سکون جو نہ اقتدار سے ملتا ہے نہ دولت سے بلکہ ایمان اور عمل صالح سے نصیب ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے اس دور میں عام ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ کامیابی دولت سے ہے، کامیابی شہرت سے ہے، کامیابی کاروبار سے ہے اور کامیابی اقتدار سے ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے یہ صرف اور صرف ایک سراب ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دولت پیسہ زندگی کے لئے اہم ضرور ہے لیکن سب کچھ نہيں۔ لوگ کہتے ہےکہ دولت آ جائے، پیسہ آ جائے، بڑی گاڑی آ جائے، عیش و عشرت ہو تو سکون مل جائے گا۔ اس لیے غریب پیسے کی تلاش میں اور پیسے والا مزید پیسے کی تلاش میں دیوانہ وار چل رہا ہے لیکن مالی لحاظ سے ایک منزل پا لینے کے بعد اس امیر کی زندگی بھی زندگي بھر سکون کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔ وہ عیش و عشرت میں سکون ڈھونڈتا ہے لیکن اسے نہیں پاتا جبکہ غریب محنت کرکے تھک ہار کر اپنے ٹوٹے بوریے پر مل جاتا ہے۔
یہ بات بھی تو سب کو معلوم ہے کہ خوشی دولت سے نہیں خریدی جاتی، لیکن یہی انسان کی کمزوری بھی ہے وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ وہ محدود سا وقت لے کر اس دنیا میں ایک ہے اور جلد اسے یہ دنیا چھوڑ دینی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنا مقصد کھو بیٹھتا ہے۔ ہوس کا شکار انسان تو دائیں ہاتھ میں کھجلی کو بھی پیسے آنے کی علامت سمجھتا ہے حالانکہ یہ محض ایک وہم ہے جس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔
میرے خیال میں دنیا کی تمام سہولیات کے باوجود اگر سکون قلب نہیں تو دنیا میں اس سے زیادہ غریب کوئی شخص نہیں۔ اس کی حالت سونے کے پنجرے میں قید پرندے جیسی ہے جو اڑنا بھی بھول گیا ہے۔
اس لیے اپنے کامیابی کے تصور کو بدلیں، سکون قلب کی تلاش میں نکلیں، دنیا کی سنورے گی اور ہمیشہ رہنے والی آخرت تھی۔