رویت ہلال اور علم فلکیات، ایک مختلف زاویہ نگاہ - انعام الحق

قمری مہینوں کے آغاز کے لیے چاند کا دیکھا جانا ضروری ہے، یا علم فلکیات کے اصولوں کے مطابق اس کے طلوع کا ثبوت کافی سمجھا جانا چاہیے؟ یہ مسئلہ اس دور کے اختلافی مسائل میں سے ایک ہے۔ ترکی کے اہل علم رویت کے بجائے علم فلکیات کے حسابات کو کافی سمجھتے ہیں، اس وجہ سے ان کے ہاں قمری کلینڈر ز پر ہی مہینوں کے آغاز اور اختتام کا مدار ہے۔ دیگر ممالک کے اہل علم رویت کو ضروری سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے اہل علم چاند کے دیکھے جانے ہی کو اصل اور بنیاد سمجھتے ہیں، لیکن علم فلکیات کے اصولوں سے متصادم گواہیوں کو رد کرتے ہیں، اس وقت رویت ہلال کمیٹی کا نقطہ نظر یہی معلوم ہوتا ہے، اور اس وجہ سے ان کے اور پشاور و گردونواح کی پرائیویٹ رویت کمیٹیوں کے فیصلوں میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس مسئلے میں ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ کیا ہر ملک کے لیے اپنی رویت کا ہونا ضروری ہے یا پوری مسلم امہ کے لیے ایک رویت کا ہونا کافی ہے۔ یہ مسئلہ یہاں زیر بحث نہیں۔
اس سلسلے میں جو احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں وہ دو طرح کی ہیں کچھ احادیث میں چاند کو دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند کو دیکھ کر عید کرنے کا حکم موجود ہے، اگر آسمان پر بادل ہوں تو اس کے احکامات علیحدہ ذکر کیے گئے ہیں۔ دوسری قسم کی احادیث میں یہ بات وضاحت سے فرمائی گئی ہے کہ ہم ایسی امت ہیں جو لکھتی نہیں، اور حساب نہیں رکھتی، مہینہ انتیس یا تیس دن کا ہوتا ہے۔ ان دونوں اور خاص طور پر دوسری قسم کی احادیث مبارکہ سے اہل علم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ رویت کے معاملے میں حساب کتاب کا بالکل اعتبار نہیں، اصل معیار رویت ہی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی شروحات میں دوسری قسم کی احادیث کی یہی تعبیر بیان کی گئی ہے۔
ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک استاد محترم اس موضوع کی وضاحت یوں فرماتے ہیں: ان دونوں قسم کی احادیث کو ساتھ ساتھ دیکھنا چاہیے، دوسری قسم کی احادیث میں حساب کتاب نہ رکھنے کواگر انشاء مانا جائے تو حکم یہی نکلتا ہے، جو شارحین احادیث اور فقہا ءکرام نے ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اگر اس کو خبر تسلیم کیا جائے، تومذکورہ بالا نتیجے کے علاوہ، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُس دور میں موجود مسلمانوں کی اس حوالے سے علمی کیفیت کو پیش نظر رکھ کر حکم بیان فرما رہے ہیں، اور خود واضح فرما رہے ہیں کہ امت چاند کے معاملے میں حساب کتاب کو نہیں جانتی تھی، اور یہ ایک حقیقت بھی ہے، تو ایسی صورت میں حساب کتاب کا نہ جاننا علت قرار پائے گی۔ تو اب جب کہ مسلمان فلکیات کی باریکیوں سے واقف ہوچکے ہیں، اور چاند کی پیدائش کے وقت، غروب آفتاب کے بعد اس کے افق پر موجود رہنے کے دورانیہ وغیرہ کو بہت پہلے ہی سے جانا جا سکتا ہے، اورمذکورہ بالا علت ختم ہوگئی ہے تو علم فلکیات کے اصولوں کی بنیاد پر مہینوں کے آغاز و اختتام کا فیصلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے یہاں اس معاملے میں اہل علم کی خدمت میں ایک مختلف زاویہ نگاہ پیش کرنا مقصود ہے، جس کے صحیح یا غلط ہونے کا بہرحال امکان موجود ہے۔

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.